اہل تشیع کے فرقوں کی تاریخ۔۔۔

اہل تشیع کے فرقوں کی مختصر مگر جامع تاریخ

اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ دروز کون ہیں، آغا خانی کون ہیں، بوہرے کون ہیں، اسماعیلی کون ہیں، اثناء عشری اور زیدیہ، بہائی اور بابی کون ہیں؟ 

ـ✓ غیر فاطمی فرقے

ـ✓ کیسانیہ فرقہ

اہل تشیع کی 'واضح اکثریت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بعد امام حسنؓ کو اپنا امام مانتی ہے لیکن ایک فرقہ بجائے حسنین کریمینؓ کے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی غیر فاطمی اولاد میں "محمد بن حنفیہ" کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بعد حقیقی امام مانتی تھی۔

‏ان میں سے کچھ کا کہنا تو تھا کہ حسنین کریمینؓ بھی ان کی امامت کے تابع تھے اور انکے مطابق امام حسنؓ نے صلح اور امام حسینؓ نے خروج محمد بن حنفیہ سے مشورہ کرنے اور اسکی اجازت لینے کے بعد کیا تھا یعنی کہ ان کے مطابق وہ بھی انکو امام مانتے تھے۔ باقی کچھ کے مطابق حسنین کریمینؓ بھی اگرچہ امام ہیں لیکن محمد بن حنفیہ انکے سربراہ ہیں۔

‏ان کے مطابق جس طرح حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خیبر میں علم (جھنڈا) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو دیکر اپنا وصی بنایا تھا، اسی طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جنگ جمل میں محمد بن حنفیہ کو اپنا جھنڈا تھما کر اپنا وصی بنایا ہے سو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بعد وہ "حقیقی امام" ہیں اور امام حسنین کریمینؓ بھی انکی اطاعت کرنے والوں میں شامل تھے۔ اہل تشیع کے اس گروہ کو کیسانیہ کہا جاتا ہے جو آج کل معدوم ہے لیکن اس کا ایک نمائندہ مختار ثقفی تاریخی لحاظ سے کافی مشہور ہے۔

ـ👈 قرابیہ فرقہ

محمد بن حنفیہ کی وفات کے بعد اس گروہ کے اندر کئی فرقہ بنے ہیں۔ ایک گروہ نے محمد بن حنفیہ کی موت کا انکار کیا اور کہا کہ وہ ہی اصل مہدی ہیں اور "قرب قیامت" کے وقت دوبارہ تشریف لائیں گے۔ ان کو قریبیہ یا قرابیہ کہا جاتا ہے۔

ـ👈 حیان السراج کا گروہ

ایک گروہ نے محمد بن حنفیہ کی موت کو قبول تو کیا لیکن انکے مطابق وہ قرب قیامت کے وقت دوبارہ زندہ ہونگے اور انصاف قائم کریں گے۔ اس گروہ کے بڑے کا نام حیان السراج تھا۔

ـ👈 حمزہ البربری کا گروہ

ایک گروہ نے محمد بن حنفیہ کو "خدائی صفات" دے دیں اور اپنے نمائندہ حمزہ البربری کو رسول کا درجہ دے دیا تھا۔ اس گروہ کو قائم کرنے والا بھی یہی تھا۔

ـ👈 ہاشمیہ فرقہ

ایک بڑے گروہ نے محمد بن حنفیہ کے بڑے بیٹے ابو ہاشم کو اپنا امام تسلیم کر لیا تھا اور انہیں ہاشمیہ کہا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ اکثریت کیسانیہ بھی اسی فرقہ میں آئے تھے۔

ابو ہاشم کی وفات کے بعد یہ گروہ مزید حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔

ـ👈 جناحیہ

ایک گروہ نے ابو ہاشم کے بعد اسکے چچا زاد بھائی اور جعفر بن ابی طالب کے بیٹے عبدللہ ابن معاویہ کو اپنا امام مان لیا تھا جنہیں حربیہ یا جناحیہ کہتے ہیں۔ اس نے بنو امیہ کے خلاف بغاوت میں باقاعدہ کردار ادا کیا تھا۔ یاد رہے کہ انکی وفات کے بعد انکے گروہ میں ایک گروہ نے ان کی موت کا انکار کیا اور انکے مطابق عبداللہ بن معاویہ اصفہان کی پہاڑیوں میں گھومتے رہتے ہیں۔

ـ👈 عباسی سلطنت بنانے والا

اسی طرح ایک گروہ نے یہ کہا کہ ابو ہاشم نے امام محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس کو بنایا تھا سو وہ اس کے پیچھے چلے گئے اور یہ وہ والا گروہ تھا جس نے عباسی سلطنت کی بنیاد رکھی ہے۔ ابو العباس سفاح، ابو جعفر منصور اس امام کے بیٹے ہی تھے جو بعد میں بالترتیب امام بھی بنے ہیں۔

اسکے علاوہ بھی چھوٹے موٹے کئی اور فرقہ موجود تھے جو آج ختم ہو گئے ہیں اور تقریباً یہ بھی ختم ہی ہوچکے ہیں۔

ـ👈 فاطمی فرقہ

ان سب کے برعکس اکثریت شیعہ نے امام حسین کے بعد ان کے بیٹے امام زین العابدین کو اپنا امام تسلیم کر لیا تھا لیکن امام زین العابدین کی وفات کے بعد ان میں مزید فرقہ پیدا ہو گئے تھے۔ مطلب یہ سارے وہ لوگ ہیں کہ جہنوں نے امامت کو حضرت علی کی فاطمی اولاد میں رکھا ہے سو اس وجہ سے یہ نام دیا گیا ہے۔

ـ👈 زیدیہ

ایک گروہ نے امام زین العابدین کے بیٹے امام زید بن علی کو اپنا امام مانا جنکو زیدیہ کہا جاتا ہے جو آج بھی موجود ہیں اور یمن اور اس کے نواحی علاقوں میں رہتے ہیں۔ انہوں نے امام زید کے بعد جتنوں کو بھی امام مانا ہے وہ حسینی نہیں بلکہ حسنی تھے۔ اثناء عشری انہیں 

Fivers

 بھی کہتے ہیں۔

ـ👈 امامی شیعہ

تاہم بہت سارے شیعہ نے امام زین العابدین کے بیٹے "باقر بن علی" کو اپنا امام مانا جن میں موجودہ امامی شیعہ (اثناء عشری و اسماعیلی) شامل ہیں۔ ان کے مطابق امام معصوم و واجب الاطاعت، منصوص من اللّٰہ اور مرسل الیہ ہیں سو یہ امام کو بہت خاص درجہ دینے والوں میں سے ہیں۔

ـ🛑 امام باقر کے بعد

امام باقر کی وفات کے بعد ایک گروہ نے ان کی موت کا انکار کیا اور انہیں مہدی تسلیم کر لیا تھا۔ اسی طرح سے ایک گروہ نے ان کی ذات سے خدائی صفات ہی منسلک کر لیے تھے تاہم اکثریت نے ان کے بیٹے امام جعفر الصادق کو اپنا امام تسلیم کر لیا تھا۔

ـ🛑 امام جعفر الصادق کے بعد

امام جعفر الصادق کی وفات کے بعد تقسیم مزید تیز تر ہوتی گئی ہے۔ کچھ روایات کے مطابق امام جعفر کے 8 میں سے 8 بیٹوں نے ہی امامت کا دعویٰ کیا تھا لیکن چار کے بارے میں تو مکمل کنفرم ہے کہ انہوں نے دعویٰ کیا تھا۔ اس وجہ سے چار مزید گروہ پیدا ہو گئے تھے۔

ـ👈 بازغیہ

ایک گروہ نے امام جعفر الصادق کو باقاعدہ "خدا" مان لیا تھا "نعوذبااللہ" اور انکو خدا کی صفات دے دی تھیں۔ ان کو بازغیہ کہا جاتا ہے۔

ـ👈 دہامیہ اور غرابیہ

یاد رہے ایسے گروہ "حضرت علی کرم اللہ وجہہ" کے حوالے سے بھی موجود ہیں۔ شیعہ کے ایک گروہ کا ماننا تھا کہ علی خدا ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے رسول ہیں "نعوذبااللہ"۔

انکے مطابق علی نے محمد کو بھیجا تھا کہ وہ لوگوں کو علی کی بندگی پر لائے لیکن محمد نے دعوت خدا کی طرف دی ہے۔ اس لیے محمد گنہگار ہیں۔ اس گروہ کو دہامیہ کہا جاتا ہے (نعوذباللہ) اسطرح سے ایک گروہ کا ماننا تھا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام سے خطا ہو گئی اور علی کی جگہ محمد پر وحی لے آئے جنہیں غرابیہ کہا جاتا ہے۔

ـ👈 نااوسیہ

امام جعفر کی وفات کے بعد ایک گروہ ایسا بھی پیدا ہوا تھا جنہوں نے امام کی موت کا انکار کیا اور اسے مہدی تسلیم کر لیا جو قرب قیامت دنیا میں عدل قائم کرنے کے لیے ظہور کریں گے۔ ان کو نااوسیہ کہتے ہیں۔

ـ👈 شماتیہ

ایک گروہ نے امام جعفر صادق کے بیٹے محمد الدیباج کو اپنا امام مان لیا جس نے المامون کے خلاف بغاوت کی تھی لیکن ناکام ہو گیا تھا۔ یہ شماتیہ کہلائے ہیں۔

ـ👈 افتاحیہ

ایک گروہ نے امام جعفر کے بیٹے عبداللہ الافتاح کو اپنا امام مان لیا تھا۔ ان کو فتاحیہ یا افتاحیہ کہا جاتا ہے۔

ـ👈 اسماعیلیہ

ایک بڑے گروہ نے امام جعفر کے سب سے بڑے بیٹے اسماعیل کو اپنا امام مان لیا جو آج بھی اسماعیلی کے نام سے مشہور ہیں اور "پاکستان" سمیت دنیا کے کئی ممالک میں موجود ہیں۔

ـ👈اثناء عشریہ

ایک بڑے گروہ نے امام جعفر الصادق کے دوسرے بیٹے امام موسیٰ کاظم کو امام مان لیا تھا جو کہ اثناء عشری شیعہ ہیں جن کی آج ایران میں اکثریت ہے۔

اب آخری دو سے مزید کئی گروہ بنے سو پہلے 'امام اسماعیل کا ذکر کرتے ہیں کہ ان کی موت کے بعد کیا ہوا تھا۔

ـ🛑 اسماعیلیہ کے فرقے

ـ👈 سبعیون

امام اسماعیل کی موت کے بعد بھی ایک گروہ نے انکی موت کا انکار کیا اور کہا کہ وہ ساتویں آخری امام ہیں جو "غیبت" میں چلے گئے ہیں اور آخری دور میں قیامت کے قریب امام مہدی کی صورت میں ظاہر ہونگے اور ایک گروہ نے امامت ان کے بیٹے امام محمد بن اسماعیل کو منتقل کر کے ان کو مہدی تسلیم کر لیا جو آخری زمانہ میں وارد ہونگے۔ یہ سات اماموں کے قائل ہے جنہیں سبعیون کہا جاتا ہے۔

ـ👈 قرامطہ

انہی میں سے ایک شدت پسند گروہ قرامطہ کی صورت میں نکلا جنہوں نے اپنی الگ جماعت بنا لی اور بہت سارے عقائد "مجوسیت و اسلام" کو ملا کر گھڑ لیے تھے۔ یہ وہی گروہ تھا جنہوں نے کعبہ پر حملہ کر کے حجر اسود کو چرا لیا تھا اور نماز کعبہ رخ ہونے کے بجائے آگ کیطرف رخ کر کے پڑھا کرتے تھے۔ انکو محمود غزنوی اور عباسیوں سے ہزیمت اٹھانا پڑی اور آج یہ معدوم ہیں۔

ـ👈 اصل اسماعیلی

اکثریت اسماعیلیوں نے امامت کو اسماعیل کی وفات کے بعد ان کی اولاد میں جاری رکھا لیکن یہ دعویٰ کیا کہ "عباسیوں" کے ظلم کے ڈر سے امام روپوش میں ہیں اور اپنی جگہ تعلیم کے لیے وہ داعیوں کو منتخب کرتے ہیں اسکے بعد جب فاطمی حکومت کے قائم ہونے کے بعد عبید اللّہ المہدی باللہ نے اپنے آپکو روپوشی سے نکالا اور امام محمد بن اسماعیل کی اولاد میں ہونے اور امام ہونے کا دعویٰ کیا تو انہوں نے اسے قبول کیا اس وجہ سے ان کو فاطمی اسماعیلی بھی کہتے ہیں۔ ان کے مطابق امامت اس وقت جاری تھی اور عبیداللہ تب امام تھے۔ عبیداللہ المہدی ان کا گیارہواں امام تھا۔

‏دروز /Druze 👈ـ

فاطمیوں کے خلیفہ اور سولہویں امام 'الحاکم' کے زمانہ میں اسماعیلیوں میں ایک گروہ پیدا ہوا جنہوں نے دعویٰ کیا کہ امام الحاکم خدا کا اوتار ہے اور وہ انہیں خدائی صفات دینے لگے۔ ان لوگوں نے موت کے بعد جنت و جہنم ہونے کے بجائے عقیدہ تناسخ ( پنرجنم ) کا تصور پیش کیا اور ایک عجیب و غریب قسم کا اپنا مذہب بنا لیا جس کو اس وقت کے فاطمی اسماعیلیوں نے بھی سپورٹ نہیں کیا اور آج بھی ""سنی اور شیعہ" سب کے نزدیک کافر ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ یہ خود بھی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے ہیں۔ یہ دروز لوگ ہیں جو آج بھی شام اور لبنان میں موجود ہیں اور جو آج جولانی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

ـ👈 نزاری/آغا خانی

اس کے بعد فاطمی اسماعیلیوں میں بڑا اختلاف اٹھارہویں امام مستنصر باللہ کی وفات کے بعد ہوا اور دو بڑے گروہ بن گئے تھے۔

ایک گروہ نے مستنصر باللہ کے بڑے بیٹے نزار بن مستنصر کو امام مانا اور وہ نزاری کہلائے ہین۔ اس گروہ نے تب سے لیکر آج تک اپنے "امام نزار" کی اولاد میں "امامت کا سلسلہ" جاری رکھا ہوا ہے اور ابھی حال ہی میں سال 2025 میں ان کے انچاسویں امام پرنس کریم الحسین المعروف آغا خان چہارم نے وفات پائی ہے۔ آغا خان کی وجہ سے ان کو آغا خانی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کے شمالی اضلاع سمیت افغانستان اور دیگر ممالک میں موجود ہیں۔ آجکل پرنس رحیم الحسینی آغا خانیوں کا پچاسواں امام ہے۔

ـ👈 مستعلویہ

دوسری طرف دوسرے گروہ نے اٹھارہویں امام مستنصر باللہ کی وفات کے بعد اس کے چھوٹے بیٹے المستعلی کو اپنا امام مانا اور اس وجہ سے ان کو مستعلویہ کہا جاتا ہے۔ مستعلویہ کے بیسویں امام الامر باالاحکام اللہ کی وفات کے بعد پھر سے ان میں اختلاف پیدا ہو گیا اور مزید تقسیم ہو گئی تھی۔

ـ👈 حافظی

امام الامر کا بیٹا الطیب چونکہ تب تک شیرخوار بچہ ہی تھا جب اس کے والد امام الامر کا انتقال ہوا سو کچھ لوگوں نے بچہ کے بجائے امام الامر کے چچا حافط الدین باللہ کو امام تسلیم کر لیا تھا۔ جنہوں نے ایسا کیا وہ حافظی کہلائے ہیں۔

ـ👈 طیبی

واضح اکثریت نے امام الامر کے شیرخوار بیٹے "امام الطیب" کو ہی اپنا امام مان لیا اور بعد میں انکے مطابق امام الطیب اپنی اور امامت کی حفاظت کے لیے پردہ میں چلے گئے ہیں۔ اگرچہ ان کی اولاد میں آج تک امامت جاری ہے لیکن ان کا حال کسی کو معلوم نہیں ہے سو امامت جاری ہے لیکن امام غائب ہے اور امام کی غیر موجودگی میں اب لوگوں کی ذمہ داری "داعی مطلق" سنبھالتا ہے اور وہ ہی لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس گروہ کو طیبی کہا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ آغا خانی گروہ کی طرح امامت یہاں بھی جاری ہے اور امام الطیب کی اولاد میں ہی چل رہی ہے لیکن امامت کے حفاظت کی خاطر وہ خفیہ ہی رہتے ہیں اور عوام کی ذمہ داریاں داعی مطلق کو ہی سنبھالنی ہوتی ہیں جبکہ آغا خانیوں میں بقلم خود امام موجود ہوتا ہے۔

ـ👈 طیبیوں کے فرقے

داعی مطلق کے تناظر میں "طیبی" مزید گروہوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ طیبیوں کے مطابق ""امام" کی غیر موجودگی میں '"داعی مطلق" کے پاس مطلق اختیارات ہوتے ہیں سو یہ بہت اہم پوزیشن ہے۔ امام الطیب چونکہ یمن سے 1130 کے پاس روپوش ہوئے تھے سو ان کی غیر موجودگی میں پہلا داعی مطلق زوہیب بن موسیٰ کو بنایا گیا تھا لیکن سال 1592 میں طیبیوں میں "ستائیسویں" داعی مطلق کے حوالے سے اختلاف ہوگیا جسکی وجہ سے یہ دو حصوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔

ـ👈 داؤدی بوہرے

اکثریت نے گجرات ہندوستان میں مقیم "داؤد بن قطب شاہ" کو داعی مطلق مان لیا تھا اور ان کو آج کل داؤدی بوہرہ کہا جاتا ہے جو تعداد میں سب سے زیادہ ہیں اور ہندوستان میں موجود ہیں۔ آج انکے 53 ویں داعی مطلق مفضل سیف الدین ہیں جو ممبئی ہندوستان میں موجود ہیں۔

ـ👈 سلیمانی بوہرے 

دوسری طرف یمن و سعودی عرب میں ایک گروہ نے داؤد بن قطب کے بجائے سلیمان بن حسن کو داعی مطلق مان لیا اور انہیں سلیمانی بوہرے کہا جاتا ہے۔ آجکل انکے 53 ویں داعی مطلق  محسن بن علی العکرمی جو نجران سعودی عرب میں موجود ہیں۔

ـ👈 علوی بوہرے

سال 1621 میں داؤدی بوہروں جو ہندوستان میں تھے میں 29 ویں "داعی مطلق" کو لیکر پھر اختلاف ہو گیا اور ایک گروہ نے علی شمس الدین کو داعی مطلق مان لیا اور داؤدی لوگوں سے الگ ہو گئے تھے۔ انکو علوی بوہرے کہا جاتا ہے جو بہت کم ہیں اور محض ہندوستان کے چند علاقوں تک موجود ہیں۔ آج کل انکے 45 وین داعی مطلق حاتم زکی الدین ہیں جو گجرات ہندوستان میں موجود ہیں۔ ان کے علاؤہ بھی بوہروں کی کافی اقسام ہیں لیکن وہ بہت کم تعداد میں اور بہت غیر معروف ہیں۔

ـ🛑 خلاصہ

یاد رہے کہ یہ اسماعیلیہ کی تاریخ کی بنیادی تقسیم ہے ورنہ اگر تفصیلات میں جائیں تو بیشمار دیگر فرقہ بھی انکے ہاں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر اسماعیلی شیعہ جو ہندوستان میں رہتے ہیں وہ ہندو اثر کے بعد اب ایک الگ قسم کا عقیدہ رکھنے لگے ہیں اور اسی طرح لوکل جگہوں کے حساب سے ان کی کافی تقسیم موجود ہے، لیکن بہرحال بنیادی تقسیم یہی ہے جو بیان کی ہے۔

ـ👈 ‏اثناء عشریوں کے فرقے

اوپر ساری وہ والی تقسیم تھی جو کہ امام جعفر الصادق کے بیٹے اسماعیل کی اولاد میں امامت کے حوالے سے پیش آئی ہے لیکن جنکو اثناء عشریوں نے اپنا امام مانا ہے یعنی امام موسیٰ کاظم، ان کے ہاں بھی تقسیم رکی نہیں تھی۔

ـ🛑 امام موسیٰ کاظم کے بعد

ـ👈 واقفیہ

امام موسیٰ کاظم کی وفات کے بعد ایک گروہ نے "امامت' کو ختم سمجھا ان کے مطابق امامت یہیں تک تھی مطلب انہوں نے یہاں پر وقف کر لیا ہے۔ ان کو واقفیہ کہا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ نے امام موسیٰ کاظم کو مہدی ہی تصور کیا جسکا ظہور قرب قیامت کے آس پاس ہونا ہے۔

‏محمد بن بشیر کا گروہ                    

اسطرح سے بعض لوگوں نے امام کو خدائی درجہ دے دیا اور کوفہ کے ایک انسان "محمد بن بشیر" کو اس کا نمائندہ بنا لیا جس کو بعد میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

تاہم اکثریت نے اسکے بیٹے امام علی رضا کو اپنا امام تسلیم کر لیا تھا جو آج کے اثناء عشریوں کی پوزیشن ہے۔

ـ🛑 ‏امام علی رضا اور امام محمد بن الجواد کے بعد

امام علی رضا کی وفات کے بعد زیادہ تقسیم نہیں ہوئی اور چونکہ ان کے بیٹے محمد بن علی الجواد تب چھوٹے تھے سو کچھ لوگوں نے تردد دکھائی اور کچھ وقت کے لیے انکے چچا احمد بن موسیٰ کو امام مانا لیکن انکے بعد سب امام محمد بن علی الجواد کی امامت پر راضی ہو گئے تھے۔ اسی طرح سے امام محمد بن الجواد کی وفات کے بعد بھی زیادہ مسئلہ نہیں ہوا کیونکہ انہوں نے بہت وضاحت سے اپنے بیٹے "علی الہادی" کو امام بنایا ہوا تھا اور اگرچہ ان کی عمر بھی تبھی چھوٹی تھی لیکن بہرحال زیادہ تفریق نہیں ہوئی تھی۔

ـ🛑 ‏امام علی الہادی کی وفات کے بعد

امام علی الہادی کی وفات کے بعد پھر سے گروہ بن گئے تھے کیونکہ اس کے دو بیٹے زندہ تھے اور دونوں نے ہی امامت کا دعویٰ کر دیا تھا۔

ـ👈 نصیری

امام علی الہادی کو ابن نصیر نامی انسان نے خدائی کا درجہ دے دیا تھا اور خود کو ان کا پیغمبر کہہ دیا یعنی کہ غلو میں چلا گیا اور یہ گروہ نصیریوں کی شکل میں آج بھی شام کے اندر موجود ہے۔

ـ👈 جعفری

امام علی الہادی کے چھوٹے بیٹے جعفر نے بھی اپنی "امامت" کا دعویٰ کیا تھا اور لوگوں نے مختلف وجوہات کے بنا پر اس کو امام مان لیا تھا لیکن آجکی شیعہ تاریخ اسے جعفر کذاب کہتی ہے یعنی وہ جھوٹا تھا۔ اس گروہ کو "جعفریہ" بھی کہ دیا جاتا ہے۔

ـ👈 محمدیہ

ایک گروہ نے امام علی الہادی کے بیٹے "محمد بن علی الہادی کو امام مان لیا حالانکہ وہ امام صاحب کی زندگی میں ہی فوت ہوئے تھے۔ ان کو محمدیہ کہا جاتا ہے۔

ایک بڑے گروہ نے امام علی الہادی کے بیٹے حسن عسکری کو امام مان لیا تھا جو آج کے اثناء عشری مانتے ہیں۔

ـ🛑 امام حسن عسکری اور ان کے بعد

امام حسن عسکری کی وفات کے بعد بہت بڑا ہنگامہ کھڑا ہوا کیونکہ اس نے ظاہراً کوئی اولاد نہیں چھوڑی تھی سو بہت سارے لوگ انکے بھائی جعفر کے پیروکار دوبارہ بن گئے تھے۔ اسی طرح بہت سارے لوگوں نے ان کی وفات کے بعد اس کی امامت کا انکار کر دیا کہ امام بے اولاد نہیں ہو سکتا ہے اور وہ بھی جعفر کے گروہ کی طرف کھنچے چلے گئے تھے۔

‏کچھ لوگوں نے امام حسن عسکری کے بڑے بھائی محمد کو جو کہ ان کے والد کے دوران زندگی میں ہی فوت ہوئے تھے، ان کو حقیقی امام سمجھنا شروع کر دیا تھا اور انکے مطابق انہوں نے امامت جعفر کو دی تھی سو وہ بھی ادھر چلے گئے تھے۔ کچھ لوگوں نے امام حسن عسکری کو ہی آخری امام مان لیا جو قیامت کے قریب مہدی کی صورت میں ظاہر ہونگے اور کچھ کے مطابق امامت ان پر ہی ختم ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کے مطابق امام حسن عسکری کی اولاد میں آخری زمانہ میں امام پیدا ہوگا جو مہدی ہوگا یعنی کہ وہ کلاسیکی مہدویت کے خلاف نظریہ رکھتے تھے۔ خود شیعہ ہی کے ذرائع کے مطابق  امام حسن عسکری کی وفات کے بعد شیعوں میں کم سے کم 20 فرقہ بن گئے تھے لیکن وہ امتداد زمانہ کے ساتھ ختم ہوتے گئے ہیں۔

ـ🛑 امام مہدی اثناء عشریہ کی نظر میں

تاہم بعض شیعہ کے نزدیک ""امام حسن عسکری" کا ایک بیٹا تھا لیکن عباسیوں سے بچانے کے واسطہ ان کی ولادت خفیہ رکھی گئی تھی اور وہ اب غیبت یعنی کہ (پردہ) میں ہے اور قرب قیامت ظہور کریگا اور وہ مہدی ہے۔ ان کے مطابق امام غائب ایک زمانہ تک اپنے کچھ نمائندوں کے ذریعہ سے ہماری اس دنیا کے لوگوں سے رابطے میں رہے ہیں اور اس زمانہ کو 

Minor Occultation 

کا زمانہ کہتے ہیں جو کہ تقریباً امام کے غائب ہونے کے بعد ستر سال تک ہے لیکن اسکے بعد یعنی ان نمائندوں کی وفات کے بعد امام اب "مکمل غیبت" میں ہیں یعنی

Major Occultation

 میں ہے اور قرب قیامت اس کا

نزول ہوگا اور تب وہ عدل کو قائم کریگا۔ یہ والا اثناء عشری شیعہ کا موقف ہے جو کہ آج دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور ایران پاکستان اور عراق جیسے ممالک میں موجود ہے۔

ـ🛑 اماموں کے بعد

بارہویں امام کی غیبت کے بعد سے آج تک "اثناء عشریوں" میں بہت سارے سکول آف تھاٹ بنے ہیں لیکن ان میں سے جنکے درمیان شدید اختلاف موجود ہے وہ تقسیم مندرجہ ذیل ہے۔

ـ👈 اخباری

اس گروہ کا ماننا ہے کہ رہنمائی صرف قرآن حدیث و آئمہ کے اقوال میں موجود ہے اور ہم اس سے ہی استفادہ کرینگے اور اس کے علاوہ کسی اجتہاد کی اجازت نہیں ہے۔ انکے مطابق اجتہاد "عمر" کی اختراع ہے اور یہ معصوم آئمہ نے نہیں کیا ہے تو ہم کیسے کر سکتے ہیں۔ یہ لوگ کسی مرجع (عالم) کی تقلید نہیں کرتے ہیں بلکہ امام مہدی کی تقلید کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کو اخباری کہا جاتا ہے۔

ـ👈 ‏اصولی

دوسرے گروہ کا ماننا ہے کہ قرآن و حدیث اور آئمہ کے اقوال کے ساتھ اجتہاد بھی "علم اور قانون سازی' کا ایک بڑا ذریعہ ہے سو وہ اس پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ یہ مراجع (آیت اللہ) کو قابل تقلید سمجھتے ہیں یعنی امام کی غیبت میں مراجع کی طرف رہنمائی کے لیے رجوع کرتے ہیں۔ ان کو اصولی کہا جاتا ہے۔

ـ👈 شیخی

ایک گروہ شیخیوں کا ہے۔ یہ اخباریوں کے قریب ہے اور کلام الٰہی اور احادیث کی صوفیانہ تشریحات کرتے ہیں۔ یہ بہت ہی کم تعداد میں ایران میں موجود ہیں جو کہ امام مہدی کو انسان کے ساتھ ساتھ ایک خاص غیر مادی قسم کی حقیقت بھی مانتے ہیں اور پرفیکٹ شیعہ کا یعنی شیعہ کامل کا اپنا نظریہ بھی رکھتے ہیں۔ ان کو عام شیعہ (اصولی و اخباری) کافر تو نہیں کہتے ہیں لیکن ان سے محتاط رہتے ہیں۔

ـ👈 بابی

شیخی موومنٹ سے متاثرہ ایک شخص "سید علی شیرازی" سال 1844 میں اپنے آپ کے باب ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یعنی  مہدی و انسانوں کے درمیان دروازہ یا کنکشن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور بعد میں آگے بڑھ کر "مہدی" ہونے کا دعویٰ ہی کر دیتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ اسلام منسوخ ہو چکا ہے اور محمد اور عیسیٰ کے مقابلے کا ایک اور نبی آنے والا ہے۔ کچھ لوگ اسکی یہ دعوت قبول کرتے ہیں اور جب یہ بات حکومت تک پہنچتی ہے تب تک اسکے کافی فالوورز ہو چکے ہوتے ہیں جو کہ بابی کہلائے جاتے ہیں۔

حکومت اسکو گرفتار کرتی ہے اور سال 1850 میں اس کو پھانسی پر چڑھا دیتی ہے لیکن اس کی تعلیمات پھر بھی موجود رہتی ہے۔ اسطرح سے ایران کی حکومت اس کے فالوورز پر بھی کریک ڈاؤن شروع کر دیتی ہے لیکن وہ پھر بھی موجود رہتے ہیں۔

ـ👈 ‏بہائی

اس بابی کے گزرجانے کے تقریباً 10 سال بعد ایک اور شخص مرزا حسین علی نوری (بہاء اللّٰہ) جو اسکا شاگرد ہوتا ہے وہ دعویٰ کر دیتا ہے کہ باب نے 'محمد اور عیسیٰ' کے برابر جس نبی کے آنے کا دعویٰ کیا تھا وہ میں ہوں۔ بہاء اللّٰہ اسلام کو منسوخ قرار دے دیتا ہے اور قرآن کے احکامات کو ختم کر دیتا ہے اور اپنے احکامات کو آخری کلام اور آخری باتیں قراد دیتا ہے۔ اس کے مطابق قرآن کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے، جیسے اسلام کے آنے کے بعد بائبل کی نہیں تھی۔ وہ اپنا ایک الگ مذہب بنا دیتا ہے جو کائناتی اور انسانی حقوق پر کھڑا ہوتا ہے جس کو وہ بہاازم کا نام دے دیتا ہے۔

یاد رہے شیعہ و سنی دونوں کے نزدیک بہائی اور بابی دونوں ہی کافر ہیں لیکن اسکو ذکر اس لیے کیا کیونکہ یہ گروہ نکلا اثناء عشری گروہ سے ہی ہے جیسے قادیانیت سنی گروہ سے نکلی ہے۔

ـ🛑 ‏ولایت فقیہ کا اختلاف

اسی طرح اثناء عشریوں میں جدید زمانہ میں ولایت فقیہ کے حوالہ سے بھی بہت سخت قسم کا اختلاف پایا جاتا ہے جو کہ اگرچہ سیاسی اختلاف ہے لیکن کافی سخت ہے۔ آیت اللہ خمینی اور ان کا گروہ یہ مانتا ہے کہ امام کی غیر موجودگی میں ایک قابل فقیہ ملت کی رہنمائی کر سکتا ہے یعنی علمی اور سیاسی لحاظ سے رہنمائی کر سکتا ہے لیکن بہت سارے علماء اسکو نہیں مانتے ہیں۔ انکے مطابق معصوم امام کی غیر موجودگی میں فقیہ محض مذہبی رہنمائی ہی کر سکتا ہے اور سیاسی رہنمائی کا حق صرف امام کو ہے۔ اگرچہ یہ بظاہر چھوٹا اختلاف لگتا ہے، لیکن اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور اس وجہ سے بہت سارے شیعہ خود ایران کی موجودہ حکومت کے شدید ترین مخالف ہیں۔

ـ👈 ‏ترکی کے علوی

اس کے علاوہ ایک اور گروہ ہے جن کو اثناء عشریہ کے ساتھ اکثر منسلک کیا جاتا ہے وہ ترکیہ کے اندر پایا جانے والا مخصوص مذہبی فرقہ "علوی" ہے جو بظاہر شیعہ اسلام سے وابستہ ہے، لیکن ان کے عقائد عام شیعہ اثنا عشری فرقے سے کافی مختلف ہیں۔ گرچہ وہ بارہ اماموں پر ایمان رکھتے ہیں مگر فقہ اور شرعی معاملات میں روایتی شریعت کے بالکل پابند نہیں ہیں۔ علوی نماز پنجگانہ ادا نہیں کرتے، رمضان کا روزہ نہیں رکھتے اور نہ ہی روایتی حج کو فرض مانتے ہیں۔

انکی عبادت تہوار کی طرح ہوتی ہے جو مخصوص قسم کی "عبادت گاہوں" میں ہوتی ہے، جن میں مرد اور خواتین ایک ساتھ شرکت کرتے ہیں، موسیقی اور ساز، ذکر، سماع و رقص اور اجتماعی کھانا ہوتا ہے۔ انکے روحانی رہنما کو "دیدہ" کہا جاتا ہے۔ اس کے علاؤہ علوی عقائد میں وحدتِ وجود، تقیہ، اور باطنی تفسیر کو ہی "مرکزی حیثیت" حاصل ہے۔ ان کے خیالات پر صوفی سلسلہ "بکتاشیہ" اور ترک اناطولیائی لوک روایات کا گہرا اثر ہے نہ کہ کسی اثناء عشری اصولی اخباری گروہ سے، تاہم بارہ آئمہ کو ماننے کیوجہ سے انکو بھی کبھی کبھار اثنا عشریہ میں گن لیا جاتا ہے۔

ـ⚠️ ‏اہم ترین نوٹ

یاد رہے درمیان میں کچھ ایسے فرقے بھی بیان کیے ہیں جن کے عقائد کھلم کھلا کفر ہے اور خود شیعہ بھی انہیں کافر و غالی مانتے ہیں۔ ان کا اس خاص مقصد پر بیان کرنا تاریخی تناظر کے حوالے سے ربط قائم رکھنے کے لیے کیا ہے وگرنہ ان کو مسلمان نہیں سمجھا جاتا ہے جیسے بہائی و دروز وغیرہ۔

Comments

Popular posts from this blog

1695🔆🥀) Fatwa (english/urdu)

ـ1508🌻) پندرہ غزائیں جن سے قوت مدافعت بڑتی ہیں (انگلش/اردو)

🌅1543) More than 565 .... Topics