ہماری آنت کی دیوار محض ایک خلیے (cell) جتنی موٹی ہوتی ہے، جو ہر سیکنڈ میں 39 ٹریلین (39 لاکھ کروڑ) بیکٹیریا کو ہمارے خون کے بہاؤ میں شامل ہونے سے روکے رکھتی ہے- یہ ہمیں پتا چلے بغیر ہر 3 سے 5 دن میں خود کو دوبارہ تیار (rebuild) کر لیتی ہے- ہماری آنتوں کا اندرونی حصہ (Gut Lining) دیکھنے میں تو ایک مضبوط پائپ کی طرح لگتا ہے لیکن اس کی اندرونی ترین حفاظتی تہہ (Epithelium) انتہائی باریک ہوتی ہے، صرف ایک خلیے (Single Cell) جتنی موٹی- یہ اتنی باریک اس لیے ہوتی ہے تاکہ جو کھانا ہم کھاتے ہیں، اس کی غذائیت (Nutrients) آسانی سے اس دیوار کو پار کر کے ہمارے خون میں شامل ہو سکے- ہماری ان آنتوں میں کھربوں کی تعداد میں خردبینی جاندار (بیکٹیریا، وائرس وغیرہ) بھی رہتے ہیں، جنہیں گٹ مائیکروبائیوم (Gut Microbiome) کہا جاتا ہے- ان کی کل تعداد تقریباً 39 ٹریلین (39,000,000,000,000) ہوتی ہے- یہ بیکٹیریا ہاضمے کے لیے اچھے تو ہیں لیکن اگر یہ آنت کی باریک دیوار کو پار کر کے براہِ راست ہمارے خون کے بہاؤ (Bloodstream) میں چلے جائیں تو یہ شدید انفیکشن، زہر (Sepsis) اور موت کا سبب بن سکتے ہیں- یہ باریک سی دیوار ہر...