Posts

 یورینس نظامِ شمسی کی سب سے عجیب دنیاؤں میں سے ایک ہے۔ یہ سورج سے ساتواں سیارہ ہے اور اس کا Axis تقریباً 97.8 ڈگری جھکا ہوا ہے، یعنی یہ تقریباً اپنی کروٹ پر لیٹا ہوا سورج کے گرد گردش کرتا ہے۔ اس کا ایک سال تقریباً 84 زمینی سال کے برابر ہے، اسی لیے وہاں ایک موسم تقریباً 21 زمینی سال تک چل سکتا ہے۔ یورینس کی Atmosphere میں Methane اسے نیلگوں سبز رنگ دیتی ہے، جبکہ درجۂ حرارت بعض علاقوں میں تقریباً منفی 224 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔ اس کے 13 معلوم حلقے اور اگست 2026 تک 29 معلوم چاند ہیں۔ James Webb Space Telescope نے 2025 میں اس کے گرد ایک نیا، تقریباً 10 کلومیٹر قطر کا چھوٹا چاند بھی دریافت کیا۔ یورینس ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کائنات میں ابھی بہت کچھ ایسا ہے جسے ہم نے صرف پہلی نظر سے دیکھا ہے، مکمل طور پر سمجھا نہیں۔

ستارہ پروکسیما سینٹوری

Image
  ہماری زمین سے سب سے قریب ستارہ پروکسیما سینٹوری ہے۔۔۔۔۔۔ جو ہمارے زمین سے 4.25 نوری سال دور ہے۔اس ستارے کے گرد ایک سیارہ بھی گردش کر رہا ہے جسے پروکسیما بی کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔یہ ایک پتھریلا سیارہ ہے اور اس کی کمیت بھی ہماری زمین کے تقریبا برابر ہے۔۔۔۔۔۔ مگر اصل مسئلہ اس کا فاصلہ ہے۔4.25 نوری سال سننے میں شاید اتنا بڑا نہ لگے۔۔۔لیکن یہ اتنا زیادہ فاصلہ ہے کہ آج کے عام خلائی جہاز سے وہاں پہنچنے میں ہزاروں سال لگ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔ پروکسیما بی اپنے ستارے سے صرف تقریبا 72 لاکھ کلومیٹر دور ہے۔۔۔۔۔۔ اس کا موازنہ کریں تو ہماری زمین سورج سے 15 کروڑ کلومیٹر دور ہے۔یعنی پروکسیما بی اپنے ستارے کے بہت قریب گردش کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پروکسیما سینٹوری ہمارے سورج جیسا بڑا اور گرم ستارہ نہیں بلکہ ایک چھوٹا اور ٹھنڈا سرخ ستارہ ہے۔اسی لیے اتنے قریب ہونے کے باوجود پروکسیما بی کو اپنے ستارے سے ایسی توانائی ملتی ہے۔۔۔۔۔ کہ اسے قابل رہائش علاقے میں شمار کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ یعنی اس کا مطلب ہے کہ مناسب حالات میں وہاں مائع پانی موجود رہنے کا امکان ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔اور یہی بات پروکسیما بی کو اتنا خاص ب...
 زہرہ پر اترنے والی 10 مشینیں شدید گرمی میں ’’جل‘‘ کر خاموش ہوگئیں — کوئی بھی چند گھنٹے نہ نکال سکی! تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی آسمان میں سیارہ Venus (زہرہ) کو دیکھیں تو یہ ایک انتہائی خوبصورت اور روشن سیارہ دکھائی دیتا ہے۔ حجم (Volume) کے اعتبار سے یہ زمین سے اتنا مشابہ ہے کہ اسے اکثر زمین کی ’’جڑواں بہن‘‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن انسان نے جب اپنی مشینیں وہاں اتاریں تو ایک حیران کن حقیقت سامنے آئی۔ سیارہ Venus کی سطح پر پہنچ کر ہماری مشینیں زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکیں۔ یہاں ’’جلنے‘‘ سے مراد لازماً آگ پکڑ لینا نہیں، بلکہ تقریباً 465°C درجہ حرارت، انتہائی زیادہ فضائی دباؤ (Atmospheric Pressure) اور سخت ماحول کے باعث ان کے آلات کا بالآخر ناکارہ ہوجانا ہے۔ سیارہ Venus کی سطح تک پہنچ کر معلومات بھیجنے والے تاریخی لینڈرز کا احوال کچھ یوں ہے: مشن Venera 7 سال 1970 میں اترا اور تقریباً 23 منٹ تک کسی دوسرے سیارے کی سطح سے معلومات بھیجنے والا پہلا خلائی لینڈر بنا۔ مشن Venera 8 سال 1972 میں اترا اور تقریباً 50 منٹ تک کامیابی سے سائنسی ڈیٹا بھیجتا رہا۔ مشن Venera 9 سال 1975 میں اترا اور تقریباً...

ملکی وے کہکشاں

Image
ایک منٹ کے لیے سوچیں کہ ایک طاقتور تہذیب کسی طرح آپ کو ملکی وے کہکشاں سے باہر لے جاتی ہے اور وہاں آپ کو جدید ترین ٹیکنالوجـــیز اور خلائی جہاز فراہم کرتی ہے اور آپ کو کہتی ہے کہ زمین کو دوبارہ تلاش کریں اور وہاں دوبارہ جائے تو کیا آپ ڈھونڈ لیں گے؟ اگر آپ کو 60 سال کے بجائے ساٹھ ہزار سال کی عمر بھی دیں آپ پھر بھی ملکی وے کہکشاں میں اپنی زمین ڈھــــونڈ نہیں پائیں گے۔ جدید ٹیکنالوجی، لامحــدود وسائل اور سائنسی علم کی ہزاروں نســـلوں کو ایک زندگی میں سمیٹ کر آپ اپنے پورے ساٹھ ہزار سالوں میں بھی زمین کو تلاش نہیں کرپائیں گے۔  ہمارے ملکی وے کہکشاں اتنا بڑا ہے کہ اس کا قطر تقریباً ایک لاکھ نوری سال تک پھـــیلا ہوا ہے اور اس میں سورج کی طرح لگ بھگ چار سو ارب ستارے ہیں سیارے کتنے ہیں، وہ سائنسدانوں کو بھی معلوم نہیں ہیں۔ ہماری زمین صرف ان ستاروں کے درمیان پوشیدہ نہیں ہے،،،،،، بلکہ یہ انتہائی چھوٹی دنیا ہے جو ایک ستارے کے گرد چکـر لگا رہی ہے، جن کو ہم سورج کے نام سے جانتے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج ملکی وے کہکشاں میں ایک پرسکـون علاقے میں واقع ہے جسے "اورین سپر" کہتے ہیں،، یہ علاقہ...

عطارد

  عطارد: سورج کے سب سے قریب مگر حیرتوں سے بھری دنیا ایک ایسا عجیب سیارہ جہاں ایک دن اس کے دو سالوں کے برابر ہوتا ہے۔ جہاں دن کے وقت درجۂ حرارت بھٹی کی طرح دھکتا ہوا تقریباً 430 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، مگر اسی سیارے کی رات ہڈیاں جما دینے والی منفی 180 ڈگری تک سرد ہو جاتی ہے۔ اور سب سے زیادہ حیران کن بات: سورج کے اتنے شدید قریب ہونے کے باوجود اس کے قطبین پر ایسے گڑھے موجود ہیں جہاں برف محفوظ رہ سکتی ہے۔ یہ ہے عطارد (Mercury)—ہمارے نظامِ شمسی کا سب سے چھوٹا اور سورج کے سب سے قریب ترین سیارہ۔ سورج کے قریب، پھر بھی سب سے گرم نہیں! عطارد سورج سے اوسطاً تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ کلومیٹر دور ہے، یعنی زمین کے مقابلے میں سورج کے تقریباً ڈھائی گنا زیادہ قریب۔ اس کی سطح پر کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو سورج زمین کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ بڑا دکھائی دے گا، اور سورج کی روشنی تقریباً سات گنا زیادہ شدید محسوس ہوگی۔ اس سب کے باوجود، عطارد نظامِ شمسی کا سب سے گرم سیارہ نہیں ہے۔ یہ اعزاز اس کے پڑوسی سیارے 'زہرہ' کو حاصل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ عطارد کے گرد زمین یا زہرہ جیسی کوئی گھنی فضا (Atmosphe...

بچوں کو یوٹیوب پر غیر اخلاقی مواد سے کیسے بچائیں؟

Image
بچوں کو یوٹیوب پر غیر اخلاقی مواد سے کیسے بچائیں؟  یہ ایک سیٹنگ لازمی آن کریں ​آج کل کے دور میں چھوٹے بچے ہوں یا بڑے، ہر کوئی موبائل اور یوٹیوب کا استعمال بہت زیادہ کرتا ہے۔ یوٹیوب جہاں معلومات اور سیکھنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، وہاں اس پر بہت سا ایسا غیر اخلاقی اور نامناسب مواد بھی موجود ہے جو بچوں کے معصوم ذہنوں کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بچے کوئی کارٹون یا تعلیمی ویڈیو دیکھ رہے ہوتے ہیں اور اچانک ان کے سامنے کوئی ایسی ویڈیو یا اشتہار آ جاتا ہے جو ان کی عمر کے لحاظ سے بالکل مناسب نہیں ہوتا۔ بطور والدین یا سرپرست، یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو انٹرنیٹ کے ان برے اثرات سے محفوظ رکھیں۔ ​اس مسئلے کے حل کے لیے یوٹیوب کے اندر ہی ایک بہت بہترین اور آفیشل فیچر موجود ہے جسے فعال کرنے کے بعد یوٹیوب خود بخود تمام نامناسب، بالغوں کے لیے مخصوص اور غیر اخلاقی ویڈیوز کو فلٹر کر دیتا ہے اور وہ بچوں کے سامنے نہیں آتیں۔ اس جادوئی فیچر کا نام ہے  "Restricted Mode" ۔ اگر آپ کے گھر میں بھی بچے موبائل استعمال کرتے ہیں تو آپ کو چاہیے کہ ابھی اپنے موبائل می...

یہ 5 ایپس پریشانیاں ختم

Image
یہ 5 ایپس رکھ لیں، آدھی پریشانیاں خود ختم ہو جائیں گی روز یہی چیزیں پریشان کرتی ہیں — فون ہینگ ہو رہا ہے، ڈیٹا اُڑ رہا ہے، ویڈیو ڈاؤنلوڈ کی مگر لو کوالٹی نکلے یا واٹرمارک لگا ہو، تصویر پھیکی لگے یا عین وقت پر ضروری ڈاکومنٹ نہ ملے — یہ 5 ایپس انہی مسئلوں کا حل ہیں: ۔1۔ مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی ڈیٹا ختم ہو جائے تو بندہ پریشان ہو جاتا ہے:   گوگل ون  (Google One )  مفت میں بتا دیتی ہے کہاں کہاں ڈیٹا اُڑ رہا ہے، فوراً پتا چل جاتا ہے مسئلہ کدھر ہے ۔2۔ کوئی ویڈیو پسند آ جائے اور سیو کرنے کا کوئی سیدھا طریقہ نہ ملے: پروفیچ  ( ProFetch )  میں لنک پیسٹ کریں اور  FHD  ویڈیو   سیدھا فون میں، نہ  Ads  کا ٹارچر, نہ واٹرمارک، نہ فضول ری ڈائریکٹ۔ پلے سٹور پر موجود ہے۔ ۔3۔ گیلری بھر جائے اور پرانی تصویریں ڈیلیٹ کرنے کا دل بھی نہ کرے: گوگل فوٹوز  (Google Photos)  خود بخود بیک اپ لے لیتی ہے، فون کی جگہ بھی بچتی ہے اور یادیں بھی محفوظ رہتی ہیں ۔4۔ فون سے لی گئی تصویر پھیکی لگے اور پوسٹ کرنے کا دل ہی نہ کرے: لائٹ روم  (Adobe Lightroom)...