Posts

 سخی چشمہ پشاور — تاریخی رپورٹ 1۔ سخی چشمہ کہاں تھا؟ سخی چشمہ پشاور کے شامی روڈ کے علاقے میں واقع ایک قدیم چشمہ اور تفریحی مقام تھا۔ آج بھی سخی چشمہ، شامی روڈ نام کے طور پر سرکاری ریکارڈ میں موجود ہے؛ مثلاً  PESCO  کا مرکزی دفتر اسی علاقے میں درج ہے۔ � Nepra +1 قدیم زمانے میں یہ علاقہ موجودہ پشاور کی طرح گنجان آباد نہیں تھا بلکہ کھلی زمین، باغات اور پانی کے مقامات پر مشتمل تھا۔ 2۔ یہ کب قائم ہوا؟ مقامی تاریخی حوالوں اور 2020ء میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق سخی چشمہ تقریباً 1850ء سے قائم تھا۔ اس حساب سے یہ پشاور کے برطانوی دور کے ابتدائی زمانے کی ایک اہم یادگار تھا۔ � Mashriq TV +1 یعنی اگر 1850ء کو بنیاد مانا جائے تو اس مقام کی تاریخ تقریباً 170 سال پر محیط بنتی ہے۔ تاہم یہاں ایک ضروری تاریخی فرق ہے: 1850ء چشمے کے قائم/مشہور ہونے کا سال ہے، لازماً اس سال کسی شخص نے چشمہ تعمیر نہیں کیا تھا۔ چشمہ بنیادی طور پر قدرتی پانی کا منبع تھا، جسے بعد میں انسانی استعمال اور تفریح کے لیے باقاعدہ مقام کی شکل دی گئی۔ 3۔ سخی چشمہ کس نے بنایا؟ یہ سوال سب سے زیادہ تحقیق طلب ہے۔  د...

k2 18b planet

  k2 18b planet K2-18b is a sub-Neptune exoplanet located 124 light-years away from Earth that orbits within the habitable zone of the red dwarf star K2-18. [ 1 ] Key Facts About K2-18b Size and Mass: The planet is about 2.6 times the radius of Earth and roughly 8.6 to 8.9 times as massive. Orbit: It completes one orbit around its host star every 33 days. Discovery: Initially detected in 2015 by the  NASA Science Kepler Mission . [ 1 , 2 , 3 , 4 ] Atmospheric Discoveries and the Search for Life Hycean World Theory: Observations from the James Webb Space Telescope (JWST) detected methane and carbon dioxide in a hydrogen-rich atmosphere, leading scientists to classify it as a potential "Hycean" planet—an ocean-covered world with a hydrogen envelope. [ 1 , 2 ] Potential Biosignatures: Researchers analyzing JWST data have reported tentative detections of dimethyl sulfide (DMS) and dimethyl disulfide (DMDS), compounds that on Earth are primarily produced by living...

عطارد

  عطارد: سورج کے سب سے قریب مگر حیرتوں سے بھری دنیا ایک ایسا عجیب سیارہ جہاں ایک دن اس کے دو سالوں کے برابر ہوتا ہے۔ جہاں دن کے وقت درجۂ حرارت بھٹی کی طرح دھکتا ہوا تقریباً 430 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، مگر اسی سیارے کی رات ہڈیاں جما دینے والی منفی 180 ڈگری تک سرد ہو جاتی ہے۔ اور سب سے زیادہ حیران کن بات: سورج کے اتنے شدید قریب ہونے کے باوجود اس کے قطبین پر ایسے گڑھے موجود ہیں جہاں برف محفوظ رہ سکتی ہے۔ یہ ہے عطارد (Mercury)—ہمارے نظامِ شمسی کا سب سے چھوٹا اور سورج کے سب سے قریب ترین سیارہ۔ سورج کے قریب، پھر بھی سب سے گرم نہیں! عطارد سورج سے اوسطاً تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ کلومیٹر دور ہے، یعنی زمین کے مقابلے میں سورج کے تقریباً ڈھائی گنا زیادہ قریب۔ اس کی سطح پر کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو سورج زمین کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ بڑا دکھائی دے گا، اور سورج کی روشنی تقریباً سات گنا زیادہ شدید محسوس ہوگی۔ اس سب کے باوجود، عطارد نظامِ شمسی کا سب سے گرم سیارہ نہیں ہے۔ یہ اعزاز اس کے پڑوسی سیارے 'زہرہ' کو حاصل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ عطارد کے گرد زمین یا زہرہ جیسی کوئی گھنی فضا (Atmosphe...

بچوں کو یوٹیوب پر غیر اخلاقی مواد سے کیسے بچائیں؟

Image
بچوں کو یوٹیوب پر غیر اخلاقی مواد سے کیسے بچائیں؟  یہ ایک سیٹنگ لازمی آن کریں ​آج کل کے دور میں چھوٹے بچے ہوں یا بڑے، ہر کوئی موبائل اور یوٹیوب کا استعمال بہت زیادہ کرتا ہے۔ یوٹیوب جہاں معلومات اور سیکھنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، وہاں اس پر بہت سا ایسا غیر اخلاقی اور نامناسب مواد بھی موجود ہے جو بچوں کے معصوم ذہنوں کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بچے کوئی کارٹون یا تعلیمی ویڈیو دیکھ رہے ہوتے ہیں اور اچانک ان کے سامنے کوئی ایسی ویڈیو یا اشتہار آ جاتا ہے جو ان کی عمر کے لحاظ سے بالکل مناسب نہیں ہوتا۔ بطور والدین یا سرپرست، یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو انٹرنیٹ کے ان برے اثرات سے محفوظ رکھیں۔ ​اس مسئلے کے حل کے لیے یوٹیوب کے اندر ہی ایک بہت بہترین اور آفیشل فیچر موجود ہے جسے فعال کرنے کے بعد یوٹیوب خود بخود تمام نامناسب، بالغوں کے لیے مخصوص اور غیر اخلاقی ویڈیوز کو فلٹر کر دیتا ہے اور وہ بچوں کے سامنے نہیں آتیں۔ اس جادوئی فیچر کا نام ہے  "Restricted Mode" ۔ اگر آپ کے گھر میں بھی بچے موبائل استعمال کرتے ہیں تو آپ کو چاہیے کہ ابھی اپنے موبائل می...

یہ 5 ایپس پریشانیاں ختم

Image
یہ 5 ایپس رکھ لیں، آدھی پریشانیاں خود ختم ہو جائیں گی روز یہی چیزیں پریشان کرتی ہیں — فون ہینگ ہو رہا ہے، ڈیٹا اُڑ رہا ہے، ویڈیو ڈاؤنلوڈ کی مگر لو کوالٹی نکلے یا واٹرمارک لگا ہو، تصویر پھیکی لگے یا عین وقت پر ضروری ڈاکومنٹ نہ ملے — یہ 5 ایپس انہی مسئلوں کا حل ہیں: ۔1۔ مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی ڈیٹا ختم ہو جائے تو بندہ پریشان ہو جاتا ہے:   گوگل ون  (Google One )  مفت میں بتا دیتی ہے کہاں کہاں ڈیٹا اُڑ رہا ہے، فوراً پتا چل جاتا ہے مسئلہ کدھر ہے ۔2۔ کوئی ویڈیو پسند آ جائے اور سیو کرنے کا کوئی سیدھا طریقہ نہ ملے: پروفیچ  ( ProFetch )  میں لنک پیسٹ کریں اور  FHD  ویڈیو   سیدھا فون میں، نہ  Ads  کا ٹارچر, نہ واٹرمارک، نہ فضول ری ڈائریکٹ۔ پلے سٹور پر موجود ہے۔ ۔3۔ گیلری بھر جائے اور پرانی تصویریں ڈیلیٹ کرنے کا دل بھی نہ کرے: گوگل فوٹوز  (Google Photos)  خود بخود بیک اپ لے لیتی ہے، فون کی جگہ بھی بچتی ہے اور یادیں بھی محفوظ رہتی ہیں ۔4۔ فون سے لی گئی تصویر پھیکی لگے اور پوسٹ کرنے کا دل ہی نہ کرے: لائٹ روم  (Adobe Lightroom)...

زہریلی اور غیر زہریلی مشروم میں فرق ؟

Image
  زہریلی اور غیر زہریلی مشروم میں فرق کیسے کیا جاتا ہے؟ جنگل، باغات یا کھیتوں میں اگنے والی مشروم دیکھنے میں ایک جیسی لگ سکتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان میں سے کچھ نہایت غذائیت بخش ہوتی ہیں جبکہ کچھ انتہائی زہریلی اور جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔  بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر مشروم کا رنگ شوخ ہو، اس پر کیڑے نہ بیٹھیں یا چاندی کا چمچ کالا نہ ہو تو وہ زہریلی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے تمام گھریلو ٹیسٹ سائنسی طور پر غلط ہیں۔ ۔🔬 ماہرین مشروم کی شناخت کئی اہم خصوصیات کی بنیاد پر کرتے ہیں، جیسے ۔✅ ٹوپی  (Cap)  کی شکل اور رنگ ۔✅ نیچے موجود گلپھڑے  (Gills)  کی بناوٹ اور رنگ ۔✅ تنا  (Stem)  پر موجود انگوٹھی  (Ring) ۔✅ جڑ کے قریب موجود کپ نما حصہ  (Volva) ۔✅ اسپور پرنٹ  (Spore Print)  کا رنگ ۔✅ افزائش کی جگہ، موسم اور ماحول ۔🍄 یاد رکھیں! صرف شکل یا رنگ دیکھ کر مشروم کی حفاظت کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ بعض انتہائی زہریلی اقسام ظاہری طور پر کھانے والی مشروم سے بہت ملتی جلتی ہیں۔ ۔🥗 بازار میں فروخت ہونے والی یا مستند فارم پر اگائی گئی ...

ہمارا اعصابی نظام

Image
ہمارا اعصابی نظام  (Nervous system)  سگنلز کو 430 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے منتقل کرتا ہے- یہ ایک بلٹ ٹرین سے بھی زیادہ تیز اور اڑان بھرتے ہوئے زیادہ تر جیٹ طیاروں کی رفتار سے بھی زیادہ تیز ہے- مائیلینیٹڈ نرو فائبرز  (Myelinated nerve fibers)  ہمارے حرام مغز  (Spinal cord)  کو بقاء اور خود حفاظتی کے لیے بنی ایک حیاتیاتی سپر ہائی وے  (Biological superhighway)  میں بدل دیتے ہیں- ہمارے جسم میں اربوں اعصاب  (Nerves)  موجود ہیں- جب ہم کِسی گرم چیز کو چُھوتے ہیں یا ہمیں درد محسوس ہوتا ہے تو اعصاب یہ پیغام دماغ اور حرام مغز تک پہنچاتے ہیں- کچھ خاص اعصاب کے گرد چربی کی ایک حفاظتی تہہ ہوتی ہے، جِسے  Myelin  کہتے ہیں- یہ تہہ بجلی کی تاروں پر چڑھے ہوئے انسولیشن  (Plastic coating)  کی طرح کام کرتی ہے- اس کی وجہ سے اعصابی سگنل  (Electrical Impulses)  سست روی سے چلنے کے بجائے چھلانگیں لگا کر  (Saltatory Conduction)  انتہائی تیز رفتاری یعنی 430 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں- اضطراری راستے ...