Posts

عطارد

  عطارد: سورج کے سب سے قریب مگر حیرتوں سے بھری دنیا ایک ایسا عجیب سیارہ جہاں ایک دن اس کے دو سالوں کے برابر ہوتا ہے۔ جہاں دن کے وقت درجۂ حرارت بھٹی کی طرح دھکتا ہوا تقریباً 430 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، مگر اسی سیارے کی رات ہڈیاں جما دینے والی منفی 180 ڈگری تک سرد ہو جاتی ہے۔ اور سب سے زیادہ حیران کن بات: سورج کے اتنے شدید قریب ہونے کے باوجود اس کے قطبین پر ایسے گڑھے موجود ہیں جہاں برف محفوظ رہ سکتی ہے۔ یہ ہے عطارد (Mercury)—ہمارے نظامِ شمسی کا سب سے چھوٹا اور سورج کے سب سے قریب ترین سیارہ۔ سورج کے قریب، پھر بھی سب سے گرم نہیں! عطارد سورج سے اوسطاً تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ کلومیٹر دور ہے، یعنی زمین کے مقابلے میں سورج کے تقریباً ڈھائی گنا زیادہ قریب۔ اس کی سطح پر کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو سورج زمین کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ بڑا دکھائی دے گا، اور سورج کی روشنی تقریباً سات گنا زیادہ شدید محسوس ہوگی۔ اس سب کے باوجود، عطارد نظامِ شمسی کا سب سے گرم سیارہ نہیں ہے۔ یہ اعزاز اس کے پڑوسی سیارے 'زہرہ' کو حاصل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ عطارد کے گرد زمین یا زہرہ جیسی کوئی گھنی فضا (Atmosphe...

بچوں کو یوٹیوب پر غیر اخلاقی مواد سے کیسے بچائیں؟

Image
بچوں کو یوٹیوب پر غیر اخلاقی مواد سے کیسے بچائیں؟  یہ ایک سیٹنگ لازمی آن کریں ​آج کل کے دور میں چھوٹے بچے ہوں یا بڑے، ہر کوئی موبائل اور یوٹیوب کا استعمال بہت زیادہ کرتا ہے۔ یوٹیوب جہاں معلومات اور سیکھنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، وہاں اس پر بہت سا ایسا غیر اخلاقی اور نامناسب مواد بھی موجود ہے جو بچوں کے معصوم ذہنوں کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بچے کوئی کارٹون یا تعلیمی ویڈیو دیکھ رہے ہوتے ہیں اور اچانک ان کے سامنے کوئی ایسی ویڈیو یا اشتہار آ جاتا ہے جو ان کی عمر کے لحاظ سے بالکل مناسب نہیں ہوتا۔ بطور والدین یا سرپرست، یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو انٹرنیٹ کے ان برے اثرات سے محفوظ رکھیں۔ ​اس مسئلے کے حل کے لیے یوٹیوب کے اندر ہی ایک بہت بہترین اور آفیشل فیچر موجود ہے جسے فعال کرنے کے بعد یوٹیوب خود بخود تمام نامناسب، بالغوں کے لیے مخصوص اور غیر اخلاقی ویڈیوز کو فلٹر کر دیتا ہے اور وہ بچوں کے سامنے نہیں آتیں۔ اس جادوئی فیچر کا نام ہے  "Restricted Mode" ۔ اگر آپ کے گھر میں بھی بچے موبائل استعمال کرتے ہیں تو آپ کو چاہیے کہ ابھی اپنے موبائل می...

یہ 5 ایپس پریشانیاں ختم

Image
یہ 5 ایپس رکھ لیں، آدھی پریشانیاں خود ختم ہو جائیں گی روز یہی چیزیں پریشان کرتی ہیں — فون ہینگ ہو رہا ہے، ڈیٹا اُڑ رہا ہے، ویڈیو ڈاؤنلوڈ کی مگر لو کوالٹی نکلے یا واٹرمارک لگا ہو، تصویر پھیکی لگے یا عین وقت پر ضروری ڈاکومنٹ نہ ملے — یہ 5 ایپس انہی مسئلوں کا حل ہیں: ۔1۔ مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی ڈیٹا ختم ہو جائے تو بندہ پریشان ہو جاتا ہے:   گوگل ون  (Google One )  مفت میں بتا دیتی ہے کہاں کہاں ڈیٹا اُڑ رہا ہے، فوراً پتا چل جاتا ہے مسئلہ کدھر ہے ۔2۔ کوئی ویڈیو پسند آ جائے اور سیو کرنے کا کوئی سیدھا طریقہ نہ ملے: پروفیچ  ( ProFetch )  میں لنک پیسٹ کریں اور  FHD  ویڈیو   سیدھا فون میں، نہ  Ads  کا ٹارچر, نہ واٹرمارک، نہ فضول ری ڈائریکٹ۔ پلے سٹور پر موجود ہے۔ ۔3۔ گیلری بھر جائے اور پرانی تصویریں ڈیلیٹ کرنے کا دل بھی نہ کرے: گوگل فوٹوز  (Google Photos)  خود بخود بیک اپ لے لیتی ہے، فون کی جگہ بھی بچتی ہے اور یادیں بھی محفوظ رہتی ہیں ۔4۔ فون سے لی گئی تصویر پھیکی لگے اور پوسٹ کرنے کا دل ہی نہ کرے: لائٹ روم  (Adobe Lightroom)...

زہریلی اور غیر زہریلی مشروم میں فرق ؟

Image
  زہریلی اور غیر زہریلی مشروم میں فرق کیسے کیا جاتا ہے؟ جنگل، باغات یا کھیتوں میں اگنے والی مشروم دیکھنے میں ایک جیسی لگ سکتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان میں سے کچھ نہایت غذائیت بخش ہوتی ہیں جبکہ کچھ انتہائی زہریلی اور جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔  بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر مشروم کا رنگ شوخ ہو، اس پر کیڑے نہ بیٹھیں یا چاندی کا چمچ کالا نہ ہو تو وہ زہریلی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے تمام گھریلو ٹیسٹ سائنسی طور پر غلط ہیں۔ ۔🔬 ماہرین مشروم کی شناخت کئی اہم خصوصیات کی بنیاد پر کرتے ہیں، جیسے ۔✅ ٹوپی  (Cap)  کی شکل اور رنگ ۔✅ نیچے موجود گلپھڑے  (Gills)  کی بناوٹ اور رنگ ۔✅ تنا  (Stem)  پر موجود انگوٹھی  (Ring) ۔✅ جڑ کے قریب موجود کپ نما حصہ  (Volva) ۔✅ اسپور پرنٹ  (Spore Print)  کا رنگ ۔✅ افزائش کی جگہ، موسم اور ماحول ۔🍄 یاد رکھیں! صرف شکل یا رنگ دیکھ کر مشروم کی حفاظت کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ بعض انتہائی زہریلی اقسام ظاہری طور پر کھانے والی مشروم سے بہت ملتی جلتی ہیں۔ ۔🥗 بازار میں فروخت ہونے والی یا مستند فارم پر اگائی گئی ...

ہمارا اعصابی نظام

Image
ہمارا اعصابی نظام  (Nervous system)  سگنلز کو 430 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے منتقل کرتا ہے- یہ ایک بلٹ ٹرین سے بھی زیادہ تیز اور اڑان بھرتے ہوئے زیادہ تر جیٹ طیاروں کی رفتار سے بھی زیادہ تیز ہے- مائیلینیٹڈ نرو فائبرز  (Myelinated nerve fibers)  ہمارے حرام مغز  (Spinal cord)  کو بقاء اور خود حفاظتی کے لیے بنی ایک حیاتیاتی سپر ہائی وے  (Biological superhighway)  میں بدل دیتے ہیں- ہمارے جسم میں اربوں اعصاب  (Nerves)  موجود ہیں- جب ہم کِسی گرم چیز کو چُھوتے ہیں یا ہمیں درد محسوس ہوتا ہے تو اعصاب یہ پیغام دماغ اور حرام مغز تک پہنچاتے ہیں- کچھ خاص اعصاب کے گرد چربی کی ایک حفاظتی تہہ ہوتی ہے، جِسے  Myelin  کہتے ہیں- یہ تہہ بجلی کی تاروں پر چڑھے ہوئے انسولیشن  (Plastic coating)  کی طرح کام کرتی ہے- اس کی وجہ سے اعصابی سگنل  (Electrical Impulses)  سست روی سے چلنے کے بجائے چھلانگیں لگا کر  (Saltatory Conduction)  انتہائی تیز رفتاری یعنی 430 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں- اضطراری راستے ...

ڈی این اے

Image
۔3 ارب حروف پر مشتمل جینیاتی کوڈ، ڈی این اے کو زندگی کی ہدایاتی کتاب کہا جاتا ہے- یہ بنیادی طور پر 4 کیمیائی بنیادوں  (A, T, C, G)  سے مل کر بنتا ہے، جنہیں ہم جینیاتی حروف کہہ سکتے ہیں- انسانی جِسم کے ہر ایک خلیے  (Cell)  میں یہ حروف تقریباً 3 ارب جوڑوں کی شکل میں ترتیب دیے گئے ہوتے ہیں اور انسانی خلیے میں موجود 3 ارب بیس پیئرز  (Base Pairs)  بنیادی طور پر ایک سیٹ  (Haploid Genome)  کی تعداد ہے جبکہ انسانی خلیہ ڈپلائڈ  (Diploid)  ہوتا ہے، جِس میں والدین دونوں کی طرف سے ملا کر کل 6 ارب جینیاتی حروف  (Base Pairs)  ہوتے ہیں- یہی کوڈ طے کرتا ہے کہ ہمارا جِسم کیسے بنے گا، کیسے کام کرے گا اور بیماریوں سے کیسے نمٹے گا- اگر آپ کسی ایک خلیے کے تمام ڈی این اے کو نکال کر سیدھا کریں تو اس کی کل لمبائی تقریباً 2 میٹر بنتی ہے- قدرت نے اسے پروٹینز  (Histones)  کے گرد اتنی خوبصورتی اور باریکی سے لپیٹا ہے کہ یہ مٹی کے ایک ذرے سے بھی چھوٹے مرکزے  (Nucleus)  کے اندر باآسانی فٹ ہو جاتا ہے- ایک بالغ انسانی جِسم میں تقریباً 37 کھ...

انت کی دیوار

Image
ہماری آنت کی دیوار محض ایک خلیے  (cell)  جتنی موٹی ہوتی ہے، جو ہر سیکنڈ میں 39 ٹریلین (39 لاکھ کروڑ) بیکٹیریا کو ہمارے خون کے بہاؤ میں شامل ہونے سے روکے رکھتی ہے- یہ ہمیں پتا چلے بغیر ہر 3 سے 5 دن میں خود کو دوبارہ تیار (rebuild)  کر لیتی ہے- ہماری آنتوں کا اندرونی حصہ  (Gut Lining)  دیکھنے میں تو ایک مضبوط پائپ کی طرح لگتا ہے لیکن اس کی اندرونی ترین حفاظتی تہہ  (Epithelium)  انتہائی باریک ہوتی ہے، صرف ایک خلیے  (Single Cell)  جتنی موٹی- یہ اتنی باریک اس لیے ہوتی ہے تاکہ جو کھانا ہم کھاتے ہیں، اس کی غذائیت  (Nutrients)  آسانی سے اس دیوار کو پار کر کے ہمارے خون میں شامل ہو سکے- ہماری ان آنتوں میں کھربوں کی تعداد میں خردبینی جاندار (بیکٹیریا، وائرس وغیرہ) بھی رہتے ہیں، جنہیں گٹ مائیکروبائیوم  (Gut Microbiome)  کہا جاتا ہے- ان کی کل تعداد تقریباً 39 ٹریلین (39,000,000,000,000) ہوتی ہے- یہ بیکٹیریا ہاضمے کے لیے اچھے تو ہیں لیکن اگر یہ آنت کی باریک دیوار کو پار کر کے براہِ راست ہمارے خون کے بہاؤ  (Bloodstream)  میں چل...