Posts

CGM machine

Image
  دو ہفتے پہلے میں نے اپنے بازو پر  CGM  مشین لگوائی تھی اور اس کی ویڈیو بھی اپنے فالوورز کے ساتھ شیئر کی تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں میں آگاہی پیدا کی جا سکے۔ آج جب یہ سفر مکمل ہوا تو میں نے سوچا کہ اس دوران سیکھے گئے چند اہم اسباق آپ کے ساتھ بھی شیئر کروں۔ سب سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ  CGM  صرف شوگر کے مریضوں کے لیے نہیں ہے۔ میں خود شوگر کا مریض نہیں ہوں، لیکن اپنی باڈی، انسولین رسپانس اور میٹابولزم کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے میں نے یہ تجربہ کیا۔ CGM  مشین آپ کو کیا کچھ بتاتی ہے؟ ۔✅ 24 گھنٹے شوگر کا مسلسل ریکارڈ ۔✅ فاسٹنگ شوگر کی کیفیت ۔✅ رینڈم شوگر کی ریڈنگز ۔✅ کھانا کھانے کے بعد شوگر کتنی اوپر جاتی ہے ۔✅ رات بھر سوتے ہوئے شوگر کا رویہ ۔✅ ٹائم اِن رینج  ۔✅ گلوکوز ویری ایبلٹی  ۔✅ متوقع  ۔✅ انسولین ریزسٹنس کے ابتدائی اشارے ۔✅ کون سی غذائیں آپ کے لیے موزوں ہیں اور کون سی نہیں اگر شوگر خطرناک حد تک کم ہو جائے یا بہت زیادہ بڑھ جائے تو موبائل فون پر الارم بھی آ جاتا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ کے جسم کے اندر ایک چوکیدار ہر وقت ڈیوٹی پر موجود...

گھٹنوں کے درد کے لیے سرجری

 اپنی امی کے گھٹنوں کے درد کے لیے سرجری کے علاوہ ہم نے سب ٹرائی کر لیا تھا۔  میں یہ لائن صرف اٹینشن کے لیے نہیں کہہ رہا… واقعی ہم نے سب ٹرائی کر لیا تھا۔ پین کلرز 💊… دیسی ٹوٹکے 🌿… گرم پانی سے سیک ♨️… مختلف آئلز 🧴… فزیوتھراپی سیشنز 🏥… ڈاکٹر سے ڈاکٹر 👨‍⚕️… ہر اُس شخص کی ایڈوائس جس نے کبھی کسی جوائنٹ پین والے کو دیکھا ہو۔ جو جس نے بتایا، ہم نے کیا۔ کیونکہ جب بات اپنی امی کی ہو… ❤️ انسان لاجک سے زیادہ امید پہ چلنے لگتا ہے۔ شروع میں ہم نے بھی اسی طرح لیا تھا۔ “عمر ہے… نارمل ہے…” “تھوڑا درد تو ہوتا ہی ہے…” “ریسٹ کریں گی تو ٹھیک ہو جائے گا…” لیکن دھیرے دھیرے سمجھ آیا کہ یہ “نارمل” نہیں ہے۔ ⚠️ یہ وہ درد تھا جو ان کی روز کی زندگی چرا رہا تھا۔ سب سے پہلے ہم نے نوٹس کیا کہ ان کا چلنا دھیرے ہو گیا ہے۔ 🚶‍♀️ پہلے جو کام وہ بغیر سوچے سمجھے کر لیتی تھی… اب ان میں رکاوٹ آنے لگی تھی۔ سیڑھیاں چڑھنا 🪜 سیڑھیاں اترنا۔ نیچے زمین پر بیٹھنا۔ نماز میں سجدے سے اٹھنا 🤲 کچن میں زیادہ دیر کھڑے رہنا۔ صبح بستر سے اٹھنا 🌅 یہ سب چھوٹی چھوٹی چیزیں ہوتی ہیں… جب تک آپ کے گھر میں کسی کو جوائنٹ پین نہ ہو۔ ...

۔4000 سے زیادہ لوگوں کو مرتے دیکھا۔

 میں نے طب کی پریکٹس کے 53 سالوں میں 4000 سے زیادہ لوگوں کو مرتے دیکھا۔ میں نے ان کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر دستخط کیے۔ میں نے ان کے آخری لمحوں میں ان کا ہاتھ تھاما۔ میں نے ان کے خاندانوں کو خبر دی۔ اور اب میں آپ کو ایک ایسی بات بتانے جا رہا ہوں جو ان میں سے زیادہ تر لوگوں میں مشترک تھی۔ وہ جینیات کی وجہ سے نہیں مرے۔ نہ بدقسمتی کی وجہ سے۔ وہ انتخاب کی وجہ سے مرے۔ ایسے رویے، ایسے اندازِ زندگی—جن کے نمونے میں نے 1972 میں پہچان لیے تھے۔ میں نے دہائیوں تک اپنے مریضوں کو خبردار کیا۔ زیادہ تر نے بات نہیں مانی۔ اور اب وہ سب جا چکے ہیں۔ میں 102 سال کا ہوں۔ میں یہ بات نہ تو ہمدردی کے لیے بتا رہا ہوں، نہ حیران کرنے کے لیے۔ میں یہ اس لیے بتا رہا ہوں کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ آپ سمجھیں: میں نے مرتے ہوئے لوگوں کے ساتھ اتنا وقت گزارا ہے جتنا آج زمین پر کوئی زندہ انسان نہیں گزار سکا۔ اور میں بخوبی جانتا ہوں کہ وہ لوگ جو 100 تک پہنچے، اور وہ جو 68 پر اچانک مر گئے—ان میں فرق کیا تھا۔ ممکن ہے آپ اس وقت، آج ہی، ان میں سے کم از کم دو کام کر رہے ہوں اور آپ کو اندازہ بھی نہیں کہ وہ آپ کی زندگی کے سال کم کر رہے ہ...

ڈی این اے کتنا لمبا ہے؟

Image
ڈی این اے کتنا لمبا ہے؟ ایک خلیے کا ڈی این اے: ہمارے جسم کے صرف ایک خلیے میں موجود ڈی این اے کو اگر مکمل کھولا جائے تو اس کی لمبائی تقریباً 2 میٹر (قریب 6.5 فٹ) بنتی ہے۔ خلیات کی مجموعی تعداد: انسانی جسم میں تقریباً 30 سے 37 ٹریلین خلیات ہوتے ہیں۔ مجموعی لمبائی: اگر آپ اپنے جسم کے تمام خلیات کے ڈی این اے کو نکال کر ایک لمبی زنجیر کی صورت میں جوڑیں، تو اس کی مجموعی لمبائی تقریباً 60 سے 100 ارب میل بنے گی۔ سورج اور زمین کا سفر فاصلہ: زمین سے سورج تک کا اوسط فاصلہ تقریباً 93 ملین میل (150 ملین کلومیٹر) ہے۔ تقابل: آپ کے جسم کا ڈی این اے اتنا طویل ہے کہ یہ زمین سے سورج تک جائے اور وہاں سے واپس آئے، اور یہ چکر 60 سے 300 بار (خلیات کی تعداد کے مختلف اندازوں کے مطابق) لگایا جا سکتا ہے۔ اتنا لمبا ڈی این اے خلیے میں کیسے سما جاتا ہے؟ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک بہترین نمونہ ہے کہ اتنا طویل مالیکیول ایک خوردبینی  (Microscopic)  خلیے کے اندر نہایت ترتیب کے ساتھ پیک ہوتا ہے: سپر کوائلنگ  (Supercoiling):  ڈی این اے خود کو بہت سختی سے لپیٹتا ہے۔ ہسٹون پروٹینز  (Histones): ...

ہائیڈروجن بم

Image
ہائیڈروجن بم کسی بڑے شہر کو لمحوں میں تباہ کرنا ہو تو اس کیلئے ایٹم بم استعمال ہوتا ہے اگر شہر کا نام و نشان صفا ہستی سے مٹا دینا ہو تو اس کیلئے ہائیڈروجن بم درکار ہوتا ہے  ہائیڈروجن بم (جسے تھرمو نیوکلیئر بم بھی کہا جاتا ہے) دنیا کا طاقتور ترین ہتھیار ہے۔ یہ ایٹم بم کی ایک انتہائی ترقی یافتہ شکل ہے۔ اس میں توانائی پیدا کرنے کے لیے نیوکلیئر فیوژن (ایٹموں کے ملاپ) کا عمل استعمال ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے سورج میں روشنی اور حرارت پیدا ہوتی ہے۔  ٹیکنالوجی: ایٹم بم 'فشن' (ایٹم کو توڑنے) پر کام کرتا ہے، جبکہ ہائیڈروجن بم 'فیوژن' (ایٹموں کو جوڑنے) پر مبنی ہے۔ طاقت: ہائیڈروجن بم ایٹم بم سے ہزاروں گنا زیادہ تباہ کن ہوتا ہے۔ ہائیڈروجن بم کو چلانے کے لیے ایک چھوٹے ایٹم بم کی ضرورت پڑتی ہے جو فیوژن شروع کرنے کے لیے درکار حرارت فراہم کر سکے۔ فیوژن شروع کرنے کے لیے انتہائی زیادہ درجہ حرارت (تقریباً 50 ملین ڈگری سیلسیس) درکار ہوتا ہے۔ اسی لیے ہائیڈروجن بم کے اندر ایک چھوٹا ایٹم بم (فِشن بم) نصب کیا جاتا ہے جو دھماکے کے ذریعے وہ حرارت فراہم کرتا ہے جس سے ہائیڈروجن کے ایٹم آپس میں جڑ...

مکھی

Image
مکھی سوچیں، آپ اگر کسی چیز کو چھوتے ہو تو کیا آپ کو ذائقہ معلوم ہوتا ہے؟  نہیں! آپ کو صرف احساس ہوتا ہے کہ یہ گرم ہے یا ٹھنڈا ہے، ملائم ہے یا کھردرا ہے۔ لیکن مکھی؟  مکھی کے ہاتھ کچھ اور ہی حکایت سناتے ہیں! دیکھیں، مکھی کے پاؤں پر  chemoreceptors  ہیں — یعنی ایسے خاص سنسنی جو رسائینی کو محسوس کر سکتے ہیں۔ یہ کیا ہے؟  یہ بالکل ویسے ہے جیسے آپ کے منہ میں ذائقے کی کلیاں ہوتی ہیں، بس مکھی کے پاؤں میں بھی ہوتی ہیں! جب مکھی کسی چیز پر بیٹھتی ہے تو وہ محض بیٹھی نہیں ہے  وہ اپنے پیروں سے پوری دنیا کو سونگھ اور چاکھ رہی ہے! یعنی جب مکھی آپ کے کھانے پر بیٹھتی ہے تو وہ اپنے پیروں سے یہ معلوم کر لیتی ہے کہ "آہا! یہ میٹھا ہے یا نمکین ہے؟ یہ خطرناک ہے یا محفوظ ہے؟  کیا یہ کھانے کے قابل ہے؟  اور یہ سب معلومات اسے اپنے پیروں سے ہی ملتی ہے! اب یہاں سوال یہ ہے یہ کیسے کام کرتا ہے؟ تو دیکھیں، مکھی کے  chemoreceptors  میں ایسے پروٹین ہوتے ہیں جو رسائینی کے ساتھ  bind  کر سکتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی رسائینی (مثلاً شکر کا سالمہ) مکھی کے پاؤں سے چھوتا ہے، ...

جھیل لیک نیٹرون

Image
جھیل لیک نیٹرون دنیا عجائبات سے بھری پڑی ہے  لیکن کچھ جگہیں ایسی ہیں جو حقیقت سے زیادہ کسی ڈراؤنی کہانی یا پراسرار فلم کا منظر لگتی ہیں۔  افریقہ کے ملک تنزانیہ میں واقع ایک جھیل ایسی ہی ہے—ایک ایسی جھیل جو اپنے قریب آنے والے جانوروں کو گویا “پتھر” بنا دیتی ہے۔  اس جھیل کا نام ہے لیک نیٹرون پہلی نظر میں یہ جھیل کسی عام جھیل کی طرح لگ سکتی ہے، مگر اس کا پانی سرخ، نارنجی اور کبھی کبھی گلابی رنگ میں نظر آتا ہے جیسے کسی نے اس میں خون یا کوئی عجیب کیمیکل ملا دیا ہو۔ سورج کی روشنی میں یہ رنگ اور بھی خوفناک انداز اختیار کر لیتے ہیں، اور جھیل کے کناروں پر موجود مردہ جانوروں کی لاشیں اسے مزید پراسرار بنا دیتی ہیں۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔  جو بھی جانور اس جھیل کے پانی کے قریب جاتا ہے، اکثر وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔  اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ان مردہ جانوروں کے جسم وقت کے ساتھ گلنے سڑنے کے بجائے سخت ہو کر ایسے لگتے ہیں جیسے وہ پتھر کے مجسمے ہوں۔ یہ منظر اتنا عجیب ہے کہ دیکھنے والے کو یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ سب حقیقت ہے، کوئی افسانہ نہیں۔ لیک نیٹرون ...