Posts

کپڑے پہنے ہوتے ہیں محسوس کیوں نہیں

Image
  کپڑے پہنے ہوتے ہیں… پھر بھی محسوس کیوں نہیں ہوتے؟” ہماری جلد میں لاکھوں حسی ریسپٹرز ہوتے ہیں جو دباؤ، رگڑ اور درجہ حرارت کو محسوس کرتے ہیں، جب آپ کپڑے پہنتے ہیں تو یہ ریسپٹرز فوراً دماغ کو سگنل بھیجتے ہیں کہ کچھ جسم کو چھو رہا ہے، مگر دماغ ہر لمحے آنے والے بے شمار سگنلز میں سے غیر ضروری اور غیر خطرناک احساسات کو فلٹر کر دیتا ہے، اس عمل کو  Sensory Adaptation  کہا جاتا ہے، اسی وجہ سے کچھ دیر بعد آپ کپڑوں کا لمس بھول جاتے ہیں اور صرف نئی یا بدلتی ہوئی چیزیں جیسے گرمی، سردی یا اچانک چھونا ہی محسوس ہوتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے نہاتے وقت شروع میں پانی ٹھنڈا یا گرم زیادہ محسوس ہوتا ہے لیکن چند منٹ بعد وہی احساس کم ہو جاتا ہے کیونکہ دماغ اسے “نارمل” مان لیتا ہے۔ ـ⚠️ ڈسکلیمر: یہ وضاحت بنیادی نیورو سائنس کے اصولوں پر مبنی ہے، اصل دماغی عمل اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔

پالک ساگ کی ڈنڈیاں

Image
کیا آپ جانتے ہیں کہ پالک کا سب سے زیادہ طاقتور حصہ کون سا ہے؟  ہم اکثر پالک کی ڈنڈیاں کچرے میں پھینک دیتے ہیں، حالانکہ یہی وہ حصہ ہے جس میں فائبر اور ضروری غذائی اجزاء بھرپور مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ ​یہ ڈنڈیاں آپ کے کھانوں میں نہ صرف کرارا پن لاتی ہیں بلکہ ذائقے کو بھی دوبالا کرتی ہیں۔ انہیں باریک کاٹ کر دال، سوپ یا کسی بھی سبزی میں شامل کریں، یہ آپ کی صحت کے لیے کسی خزانے سے کم نہیں۔ اگلی بار پالک کاٹتے وقت انہیں ضائع مت کریں، انہیں اپنی ڈائٹ کا حصہ بنائیں اور اپنی صحت کو بہتر بنائیں۔

Loricifera

Image
Loricifera سمندر کی بے پناہ گہرائیوں میں سائنسدانوں نے  Loricifera نامی ایک ایسا حیرت انگیز جاندار دریافت کیا ہے جو آکسیجن کے بغیر بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس نے حیاتیات کے اس قدیم اصول کو چیلنج کر دیا ہے کہ زندگی کے لیے آکسیجن لازمی ہے۔ یہ ننھی مخلوق سمندر کی ان تہوں میں بستی ہے جہاں مکمل تاریکی، شدید دباؤ اور ہائیڈروجن سلفائیڈ جیسی زہریلی گیسیں موجود ہوتی ہیں، جہاں عام طور پر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ اس جاندار کی انفرادیت اس کے خلیات میں موجود  Hydrogenosomes  ہیں، جو اسے آکسیجن کے بجائے کیمیائی عمل سے توانائی فراہم کرتے ہیں۔ یہ دریافت نہ صرف زمین کے چھپے ہوئے رازوں سے پردہ اٹھاتی ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ زندگی انتہائی سخت حالات میں بھی خود کو ڈھال سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس تحقیق کے اثرات زمین سے باہر دیگر سیاروں اور چاندوں (جیسے مشتری کے چاند یوروپا) پر ممکنہ خلائی زندگی کی تلاش کے لیے بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ اب یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ آکسیجن سے محروم خلائی ماحول میں بھی جاندار موجود ہو سکتے ہیں۔

کیکر کی پھلی اور دال ماش

Image
کیکر کی پھلی اور دال ماش  طریقہ استعمال کیکر کی پھلی اور دال ماش کا ایک بہت کارآمد اور اثر دار نسخہ بتاؤں گا۔ اس علاج کو چند دن استعمال کرنے سے گھٹنوں سے چکناہٹ کی کمی، جوڑوں کا درد، کمر میں مہروں کا درد، جسم اور ہڈیوں میں درد اور جوڑوں سے ٹک ٹک کی آوازیں آنا۔ انشاءاللہ یہ تمام تر تکالیف ختم ہو جائیں گیں۔ اس کے علاوہ یہ نسخہ مردوں اور خواتین کی پوشیدہ کمزوری کے لیے بے حد ضروری ہے ۔ اس کے علاج کے استعمال سے خواتین کو تھکاوٹ اور سستی نہیں ہوتی اس نسخے کو بنانے اور استعمال کرنے کا آسان طریقہ کیکر کا درخت جسے ببول کا درخت بھی کہتے ہیں۔یہ ہمارے ارد گرد سڑکوں کے کنارے پاس اور کھیتوں میں ہر جگہ موجود ہوتا ہےاس درخت کی چھال اس کے پتے اس کی گوند اور اس کی پھلی دار بیج ہر چیز میں ہمارے جسم کی بہت سی بیماریوں کا علاج پوشیدہ ہے۔ لیکن آج ہم جانیں گے کیکر کی پھلی اور دال ماش کا ایک بہت زبردست استعمال ھوالشافی۔۔ کیکر سے ان پھلیوں کو توڑ لیں۔ اور ان کو سائے میں خشک کرلیں۔ جب پھلیاں خشک ہوجائیں تو ان کے ساتھ دال ماش کو باریک پیس کر سفوف بنا لیں۔ اور کسی ہوا بند جار میں محفوظ کرلیں۔ آپ اس سفوف کو اس...

بیس عدد کہکشائیں

Image
بیس عدد کہکشائیں  جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے 20 عدد ایسی کہکشاؤں کی تصویر لی ہے  جو آپس میں جڑی ہیں اور ایک وسیع کائناتی سلسلے کو ظاہر  کرتی ہیں  یہ ایسے ہے جسے پرندے غول میں رہتے ہیں  کہکشائیں بھی ایک جھرمٹ ترتیب دیتی ہیں  یہ منظر دیکھ کر ایسے لگتا ہے کہ پوری کائنات ایک ڈی این اے کی طرح کونیکٹڈ ہے  نہ صرف متصل ہے  بلکہ اس کی شکل بھی ڈی این اے سے ملتی جلتی ہے  زندگی ایک  سیل ہے، جس کا ہم سب ایک ایکٹو پرزہ ہیں  ایک طرح سے، ہم کائنات کے اندر نہیں… بلکہ کائنات ہم میں بھی جاری و ساری ہے
Image
انسانی دماغ کا ایک بڑا حصہ صرف دیکھنے کے عمل کے لیے وقف ہے کیونکہ بصری معلومات کو سمجھنا بہت مشکل کام ہے- تصویر میں یہ نایاب منظر انسانی دماغ کو آنکھوں اور بصری اعصاب (Optic Nerves) کے ساتھ جڑا ہوا دکھاتا ہے، جو یہ واضح کرتا ہے کہ نظر حقیقت میں کیسے کام کرتی ہے- آنکھوں کے پیچھے جو موٹی رسی نما ساختیں نظر آ رہی ہیں، انہیں بصری عصب (Optic Nerve) کہتے ہیں- یہ ایک طرح کی ہائی سپیڈ فائبر آپٹک کیبل ہے، جس میں لاکھوں باریک ریشے ہوتے ہیں- ان کا کام آنکھ کے پردے (retina) سے برقی سگنلز کو دماغ تک پہنچانا ہے- تصویر کے بیچ میں جہاں دونوں اعصاب آپس میں مل کر 'X' کی شکل بنا رہے ہیں، اسے آپٹک کایازم (Optic Chiasm) کہتے ہیں- یہاں دونوں آنکھوں سے آنے والی معلومات آپس میں ملتی ہیں اور اِدھر اُدھر تقسیم ہوتی ہیں- اِسی تقسیم کی بدولت ہمیں چیزیں "تھری ڈی" (3D) نظر آتی ہیں اور ہم گہرائی یا فاصلے کا درست اندازہ لگا سکتے ہیں- باہر کی روشنی آنکھوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے لیکن اصل پراسیسنگ دماغ کے اندر گہرائی میں ہوتی ہے- سگنلز اعصاب کے ذریعے سفر کرتے ہیں، پھر آپٹک کیازم پر جزوی طور پر ایک دوسرے...

آملہ (Indian Gooseberry)

Image
آملہ (Indian Gooseberry)  کو بلاوجہ "سپر فوڈ" یا قدرت کا انمول تحفہ نہیں کہا جاتا۔ اس کی غذائیت اور فوائد اتنے زیادہ ہیں کہ اسے دواؤں کی دنیا کا بادشاہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ آملہ: غذائیت کا خزانہ جو اعداد و شمار ہیں، وہ اس کی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ وٹامن سی کی اتنی بڑی مقدار انسانی جسم کی قوتِ مدافعت کو فولادی بنا دیتی ہے۔ بالوں اور جلد کا محافظ: آملہ بالوں کو قدرتی طور پر کالا رکھنے، گرنے سے روکنے اور جلد کو چمکدار بنانے کے لیے صدیوں سے استعمال ہو رہا ہے۔ نظامِ ہاضمہ: آملے کا اچار یا مربہ نہ صرف بھوک بڑھاتا ہے بلکہ قبض اور معدے کی تیزابیت کو بھی ختم کرتا ہے۔ آنکھوں کی روشنی: وٹامن اے کی وافر مقدار کی وجہ سے یہ بینائی تیز کرنے اور آنکھوں کے دیگر امراض سے بچنے کے لیے بہترین ہے۔ شوگر کنٹرول: جدید تحقیق کے مطابق آملہ خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ آملے کا اچار ہی کیوں؟ آملہ ذائقے میں تھوڑا کڑوا اور کسیلا ہوتا ہے، اس لیے اسے اچار یا مربے کی شکل میں کھانا آسان اور خوش ذائقہ ہو جاتا ہے۔ اچار بنانے کے عمل میں اس کے وٹامنز برقرار رہتے ہیں اور یہ لمبے ع...