Posts

Image
 3 ارب حروف پر مشتمل جینیاتی کوڈ، ڈی این اے کو زندگی کی ہدایاتی کتاب کہا جاتا ہے- یہ بنیادی طور پر 4 کیمیائی بنیادوں (A, T, C, G) سے مل کر بنتا ہے، جنہیں ہم جینیاتی حروف کہہ سکتے ہیں- انسانی جِسم کے ہر ایک خلیے (Cell) میں یہ حروف تقریباً 3 ارب جوڑوں کی شکل میں ترتیب دیے گئے ہوتے ہیں اور انسانی خلیے میں موجود 3 ارب بیس پیئرز (Base Pairs) بنیادی طور پر ایک سیٹ (Haploid Genome) کی تعداد ہے جبکہ انسانی خلیہ ڈپلائڈ (Diploid) ہوتا ہے، جِس میں والدین دونوں کی طرف سے ملا کر کل 6 ارب جینیاتی حروف (Base Pairs) ہوتے ہیں- یہی کوڈ طے کرتا ہے کہ ہمارا جِسم کیسے بنے گا، کیسے کام کرے گا اور بیماریوں سے کیسے نمٹے گا- اگر آپ کسی ایک خلیے کے تمام ڈی این اے کو نکال کر سیدھا کریں تو اس کی کل لمبائی تقریباً 2 میٹر بنتی ہے- قدرت نے اسے پروٹینز (Histones) کے گرد اتنی خوبصورتی اور باریکی سے لپیٹا ہے کہ یہ مٹی کے ایک ذرے سے بھی چھوٹے مرکزے (Nucleus) کے اندر باآسانی فٹ ہو جاتا ہے- ایک بالغ انسانی جِسم میں تقریباً 37 کھرب (37 Trillion) خلیے ہوتے ہیں- اگر کسی انسان کے تمام خلیوں کے ڈی این اے کو کھول کر ایک لکی...
 سب لوگ متوجہ ہوں ۔۔۔آج کل اس قسم کے انتہائی زہریلے سانپ گھروں میں نکل رہے ہیں جن کی ویکسین عام ہسپتال میں دستیاب نہیں ہے  قدرت نے کوئی بیماری پیدا ہی نہیں کی جس کی دوا پیدا نہ کی ہو  خدا نخواستہ کسی انسان کو یہ سانپ یا کوئی اور سانپ کاٹ لے تو فرسٹ ایڈ کے طور پر  ،،املی،، کی گٹھلی  جو آ لو بخارا املی کے شربت والے پھینک دیتے ہیں  یا پنساری کی دکان پر سے املی لے کر اس گٹھلی نکال کر ایک طرف سے اینٹ یا پتھر وغیرہ پر رگڑ کر اندرکی  سفید گری ظاہر ہونے پر اس گٹھلی کی سفید جگہ کو پانی سے گیلا کر کے سانپ کے کاٹےزخم کے نشان۔ ۔پر چپکا دیں  یہ زہر والے مقام پر مضبوطی سے چپک جائے گی اور یہ اپنا کام شروع کردے گی یعنی زخم سے سانپ کازہر  اپنے اندر جذب کرنے لگ جایے گی اس کے بعد مریض کو قریبی اسپتال منتقل کر دیں اگر ڈاکٹر اس کو اتارنا ضروری نہ سمجھیں تو یہ گٹھلی زخم پر لگا رہنے دیں یہ گٹھلی مریض کے جسم سے سانپ کا زہر اپنے اندر جذب کر کے انسان کو اس سانپ کی موت نہیں مرنے دے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Image
ہماری آنت کی دیوار محض ایک خلیے (cell) جتنی موٹی ہوتی ہے، جو ہر سیکنڈ میں 39 ٹریلین (39 لاکھ کروڑ) بیکٹیریا کو ہمارے خون کے بہاؤ میں شامل ہونے سے روکے رکھتی ہے- یہ ہمیں پتا چلے بغیر ہر 3 سے 5 دن میں خود کو دوبارہ تیار (rebuild) کر لیتی ہے- ہماری آنتوں کا اندرونی حصہ (Gut Lining) دیکھنے میں تو ایک مضبوط پائپ کی طرح لگتا ہے لیکن اس کی اندرونی ترین حفاظتی تہہ (Epithelium) انتہائی باریک ہوتی ہے، صرف ایک خلیے (Single Cell) جتنی موٹی- یہ اتنی باریک اس لیے ہوتی ہے تاکہ جو کھانا ہم کھاتے ہیں، اس کی غذائیت (Nutrients) آسانی سے اس دیوار کو پار کر کے ہمارے خون میں شامل ہو سکے- ہماری ان آنتوں میں کھربوں کی تعداد میں خردبینی جاندار (بیکٹیریا، وائرس وغیرہ) بھی رہتے ہیں، جنہیں گٹ مائیکروبائیوم (Gut Microbiome) کہا جاتا ہے- ان کی کل تعداد تقریباً 39 ٹریلین (39,000,000,000,000) ہوتی ہے- یہ بیکٹیریا ہاضمے کے لیے اچھے تو ہیں لیکن اگر یہ آنت کی باریک دیوار کو پار کر کے براہِ راست ہمارے خون کے بہاؤ (Bloodstream) میں چلے جائیں تو یہ شدید انفیکشن، زہر (Sepsis) اور موت کا سبب بن سکتے ہیں- یہ باریک سی دیوار ہر...
 استنبول دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک ہے، لیکن ایک نئے آنے والے کے لیے یہاں کا پہلا ہفتہ کافی الجھنوں بھرا ہو سکتا ہے۔ اگر آپ بھی یہاں نئے ہیں، تو یہ باتیں آپ کی زندگی بہت آسان بنا دیں گی: ​1۔ ترکیہ میں باقاعدہ ایک مخصوص فورس ہے جسے "Turizm Polisi" کہا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ ترکیہ میں اب تمام پرانے ہنگامی نمبرز (جیسے پولیس کے لیے 155) بند ہو چکے ہیں اور اب تمام ایمرجنسی سروسز کے لیے صرف ایک ہی یونیورسل نمبر 112 استعمال ہوتا ہے۔ جب آپ 112 پر کال کریں تو آپ ٹورازم پولیس سے رابطہ کرنے کا کہہ سکتے ہیں۔ یہ فورس خاص طور پر غیر ملکیوں کے مسائل کو ڈیل کرتی ہے۔ یہاں مقیم غیر ملکیوں کے آدھے سے زیادہ مسائل ٹورازم پولیس کے آتے ہی منٹوں میں حل ہو جاتے ہیں۔ ​2۔ ہمیشہ BiTaksi یا Uber استعمال کریں، عام ٹیکسی سے بچیں! ​خاص طور پر صبیحہ گوکچن (Sabiha Gökçen) یا استنبول ایئرپورٹ پر کبھی بھی کسی ایسی ٹیکسی میں نہ بیٹھیں جس کا میٹر نہ چل رہا ہو۔ اگر کوئی ڈرائیور کہے کہ "میٹر خراب ہے" یا "1500 لیرا فکس کر لو،" تو فوراً وہاں سے ہٹ جائیں۔ ​ایسا اس...
Image
ہم نے اکثر سنا ہے کہ جہنم کی آگ اتنی شدید اور خوفناک ہوگی..... کہ انسان تو کیا پتھر بھی اس کی تپش کو برداشت نہیں کر سکیں گے۔۔۔۔۔ یہ بات سن کر ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا تھا کہ آخر وہ آگ کتنی گرم ہوگی۔۔۔۔۔کیونکہ ہم دنیا کی مختلف قسم کی آگ اور ان کی شدت کے بارے میں جانتے ہیں لیکن کیا واقعی کوئی ایسی گرمی بھی ہو سکتی ہے جو ہماری سوچ سے کہیں زیادہ ہو۔۔۔۔اگر ہم اپنے سورج کی بات کریں تو اس کی سطح کا درجہ حرارت تقریبا 5,500 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔۔۔ یہ درجہ حرارت اتنا زیادہ ہے کہ زمین پر موجود تقریبا ہر چیز کو جلا اور پگھلا سکتا ہے۔ یعنی لوہا تقریبا 1,500 ڈگری سینٹی گریڈ پر پگھل جاتا ہے۔۔۔ جبکہ بہت سے پتھر 700 سے 1,300 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان پگھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔۔ یعنی ہمارا سورج ہی اتنا گرم ہے کہ اگر کوئی چیز اس کے قریب پہنچ جائے تو اس کا وجود باقی نہ رہے۔۔۔۔۔  لیکن رکھو  زرا۔۔۔۔ ہماری کائنات میں ایسے ستارے بھی موجود ہیں جو سورج سے کئی گنا زیادہ گرم ہیں۔ ان میں سے ایک مشہور ستارہ بیلاٹرکس  ہے جو زمین سے تقریبا 450 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے ۔۔۔۔۔ یہ ایک بہت بڑا اور نہایت گر...

Google 5 free tools

 گوگل کے یہ 5 فری ٹولز آپ کے روزمرہ کے گھنٹوں کا کام سیکنڈز میں بدل سکتے ہیں: 1. Google Lens اگر آپ کے سامنے کوئی ایسی چیز یا پروڈکٹ ہے جس کا نام آپ کو نہیں پتا، تو بس اس کی تصویر کھینچیں۔ یہ سیکنڈز میں انٹرنیٹ سے اس کی قیمت، دکان اور تفصیل نکال دے گا۔ اس کے علاوہ کسی بھی کتاب یا کاغذ پر لکھے ہوئے ٹیکسٹ کی فوٹو لے کر اسے موبائل میں کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں۔ 2. Google Keep یہ ایک انتہائی ہلکا پھلکا نوٹ پیڈ ہے جہاں آپ وائس نوٹ ریکارڈ کر سکتے ہیں اور وہ خود بخود ٹیکسٹ میں تبدیل ہو جائے گا۔ اگر آپ نے کوئی تصویر اپلوڈ کی ہے جس پر کوئی نمبر یا لسٹ لکھی ہے، تو یہ اس تصویر کے اندر سے سارا ٹیکسٹ الگ کر کے آپ کو لکھ کر دے دیتا ہے تاکہ آپ کو خود ٹائپ نہ کرنا پڑے۔ 3. Google Translate (Camera Feature) اگر آپ کے پاس کوئی ایسی پروڈکٹ ہے جس پر چائنیز، جرمن یا کوئی اور زبان لکھی ہے جو آپ کو سمجھ نہیں آ رہی، تو بس اس ایپ کا کیمرہ اس کے سامنے کریں۔ یہ لائیو اسکرین پر ہی اس زبان کو اردو یا انگلش میں بدل دے گا، جس سے آپ کو پورا پیراگراف الگ سے ٹائپ کر کے ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ 4. Google Docs (Vo...

CGM machine

Image
  دو ہفتے پہلے میں نے اپنے بازو پر  CGM  مشین لگوائی تھی اور اس کی ویڈیو بھی اپنے فالوورز کے ساتھ شیئر کی تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں میں آگاہی پیدا کی جا سکے۔ آج جب یہ سفر مکمل ہوا تو میں نے سوچا کہ اس دوران سیکھے گئے چند اہم اسباق آپ کے ساتھ بھی شیئر کروں۔ سب سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ  CGM  صرف شوگر کے مریضوں کے لیے نہیں ہے۔ میں خود شوگر کا مریض نہیں ہوں، لیکن اپنی باڈی، انسولین رسپانس اور میٹابولزم کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے میں نے یہ تجربہ کیا۔ CGM  مشین آپ کو کیا کچھ بتاتی ہے؟ ۔✅ 24 گھنٹے شوگر کا مسلسل ریکارڈ ۔✅ فاسٹنگ شوگر کی کیفیت ۔✅ رینڈم شوگر کی ریڈنگز ۔✅ کھانا کھانے کے بعد شوگر کتنی اوپر جاتی ہے ۔✅ رات بھر سوتے ہوئے شوگر کا رویہ ۔✅ ٹائم اِن رینج  ۔✅ گلوکوز ویری ایبلٹی  ۔✅ متوقع  ۔✅ انسولین ریزسٹنس کے ابتدائی اشارے ۔✅ کون سی غذائیں آپ کے لیے موزوں ہیں اور کون سی نہیں اگر شوگر خطرناک حد تک کم ہو جائے یا بہت زیادہ بڑھ جائے تو موبائل فون پر الارم بھی آ جاتا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ کے جسم کے اندر ایک چوکیدار ہر وقت ڈیوٹی پر موجود...