اپنی ٹانگوں کو متحرک اور مضبوط رکھیں
بڑھاپا ٹانگوں سے اوپر کی طرف شروع ہوتا ہے
اپنی ٹانگوں کو متحرک اور مضبوط رکھیں
ـ▪️جیسے جیسے ہم سالوں میں آگے بڑھتے ہیں، ہماری ٹانگیں ہمیشہ متحرک اور مضبوط رہنی چاہئیں۔ جیسا کہ ہم مسلسل بوڑھے ہوتے جا رہے ہیں، ہمیں اپنے بالوں کے سرمئی ہونے، یا جلد کے جھرنے، یا جھریوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔
لمبی عمر کی علامات میں، جیسا کہ یو ایس میگزین پریونشن نے خلاصہ کیا ہے، ٹانگوں کے مضبوط پٹھے سب سے اہم اور ضروری کے طور پر درج ہیں۔
ـ▪️اگر آپ دو ہفتے تک اپنی ٹانگیں نہیں ہلائیں گے تو آپ کی ٹانگوں کی طاقت 10 سال تک کم ہو جائے گی۔
بوڑھے اور جوان دونوں، دو ہفتوں کی غیر فعالیت کے دوران، ٹانگوں کے پٹھوں کی طاقت ایک تہائی تک کمزور ہو سکتی ہے، جو کہ 20-30 سال کی عمر کے برابر ہے۔
ـ▪️جیسے جیسے ہماری ٹانگوں کے پٹھے کمزور ہوتے جائیں گے، اسے ٹھیک ہونے میں کافی وقت لگے گا، چاہے ہم بعد میں بحالی اور ورزشیں کریں۔
ـ▪️اس لیے چہل قدمی جیسی باقاعدہ ورزش بہت ضروری ہے۔
ـ▪️جسم کا سارا وزن ٹانگوں پر ہوتا ہے۔
ـ▪️ پاؤں ایک قسم کے ستون ہیں جو انسانی جسم کا سارا وزن اٹھاتے ہیں۔
ـ▪️دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان کی 50% ہڈیاں اور 50% پٹھے دونوں ٹانگوں میں ہوتے ہیں۔
ـ▪️انسانی جسم کے سب سے بڑے اور مضبوط جوڑ اور ہڈیاں بھی ٹانگوں میں ہوتی ہیں۔
ـ▪️مضبوط ہڈیاں، مضبوط پٹھے اور لچکدار جوڑ آئرن ٹرائی اینگل بناتے ہیں جو انسانی جسم کا سب سے اہم بوجھ اٹھاتا ہے۔
ـ▪️ انسان کی زندگی میں 70% سرگرمیاں اور توانائی کو جلانا دونوں پاؤں سے ہوتا ہے۔
ـ▪️کیا آپ یہ جانتے ہیں؟ جب ایک شخص جوان ہوتا ہے تو اس کی رانوں میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ 800 کلو وزنی گاڑی اٹھا سکے
ـ▪️ ٹانگ جسم کی حرکت کا مرکز ہے۔
ـ▪️دونوں ٹانگوں میں انسانی جسم کے 50% اعصاب، 50% خون کی شریانیں اور 50% خون ان سے بہتا ہے۔
ـ▪️یہ سب سے بڑا گردشی نیٹ ورک ہے جو جسم کو جوڑتا ہے۔
ـ▪️جب ٹانگیں صحت مند ہوتی ہیں تو خون کا بہاؤ آسانی سے ہوتا ہے اس لیے جن لوگوں کی ٹانگوں کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں ان کا دل ضرور مضبوط ہوتا ہے۔
ـ▪️ بڑھاپا پاؤں سے اوپر کی طرف شروع ہوتا ہے۔
ـ▪️جیسے جیسے کوئی شخص بڑا ہوتا جاتا ہے، دماغ اور ٹانگوں کے درمیان ہدایات کی ترسیل کی درستگی اور رفتار کم ہوتی جاتی ہے، اس کے برعکس جب کوئی شخص جوان ہوتا ہے۔
ـ▪️اس کے علاوہ، نام نہاد بون فرٹیلائزر کیلشیم جلد یا بدیر وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو جائے گا، جس سے بوڑھوں کو ہڈیوں کے ٹوٹنے کا زیادہ خطرہ ہوگا۔
ـ▪️بزرگوں میں ہڈیوں کا ٹوٹنا آسانی سے پیچیدگیوں کا ایک سلسلہ شروع کر سکتا ہے، خاص طور پر مہلک بیماریاں جیسے دماغی تھرومبوسس۔
بڑھاپا Ageing
اگر کسی مالی طور پر خوشحال شخص سے موازنہ کیا جائے تو مفلسی اور تنگ دستی میں گزارے گئے چار سال بھی آپ کو بوڑھا بنا سکتے ہیں یا عمر رسیدگی کا عمل تیز کر سکتے ہیں۔ یہ اثرات 40 سال کی عمر کے لوگوں میں زیادہ دیکھے گئے ہیں، کیونکہ اس عمر میں خود جسمانی زوال شروع ہو جاتا ہے اور یوں غربت پریشانیاں غذا کی کمی اسے اور بڑھاتی ہیں ۔ غربت طویل عرصہ جسم پر پورے جسم پر منفی اثرات ڈالتا ہے ۔
بڑھاپے سے مراد جسم کے اندر جلن اور سوزش پیدا کرنے والے عوامل یا خون میں بایومارکر کی زیادتی ہے ۔ خون میں ایسے سالمات جو کسی قسم کی اندرونی جسمانی سوزش کو بڑھاتے ہیں۔ ماہرین طب جسم کے اندر کی جلن کو اہم خرابی مانتے ہیں جس کی وجہ کینسر سے لیکر بڑھاپے تک ہو سکتی ہے- مفلوک الحال لوگوں کے خون میں سی ری ایکٹو پروٹین (سی آر بی) اور آئی ایل 6 دیگر امیر لیکن ہم عمر افراد کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہوتی ہے ۔
ادھیڑ عمری میں معاشی تنگی سے پریشان لوگ نحیف اور کمزور ہوتے جاتے ہیں- اور بڑھاپا بڑھانے کے عمل کو تیز کر دیتی ہے ۔
جوانی میں بڑھاپا
بڑھاپے کو عام طور پر عمر کے بڑھنے کا عمل کہا جاتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ شامل تبدیلیاں۔۔
ـ▪️جسمانی خوبصورتی میں کمی اور چہرے، بریسٹ، پیٹ اور ٹانگوں کی جلد کا کمزور ہونا اور لٹک جانا۔
ـ▪️جسمانی طاقت میں کمی۔
ـ▪️ہارمونز کی کمی اور خرابی سے جنسی نظام اور خواہشات میں کمی۔
ـ▪️جلد کی نرمی میں کمی اور نشانات اور جھریوں کا نمودار ہونا۔
ـ▪️ہڈیوں جوڑوں کی کمزوری سے درد، سوجن اور روزمرہ زندگی کے معمولات میں مشکلات۔
ـ▪️اعصابی کمزوری، چڑچڑا پن، گھبراہٹ اور مستقل بیماریوں کا شکار ہونا۔
یہ تمام علامت اور خرابیاں اگر کم عمری میں شروع ہو جائیں تو یہ جسمانی، اعصابی، جنسی اور مدافعتی نظام کی کمزوری کی نشاندھی ہے۔ صرف عمر سے بڑھاپے کا تعلق نہیں ہے۔ اپنے جسم کے تمام حصوں کی احتیاط اور بہتری سے 40 سال کی عمر میں بھی جوان محسوس کیا جاسکتا ہے اور اگر احتیاط نہ کی جائے تو 20 سال کی عمر میں بھی جسمانی، اعصابی اور جنسی نظام کی کمزوری آسکتی ہے۔ اب یہ آپ کا فیصلہ ہے کہ آپ نے کتنی عمر تک جوان لگنا اور محسوس کرنا ہے
Comments
Post a Comment