شہاب ثاقب
آسمان آپ کو خاموش نظر آتا ہے لیکن آسمان بالکل بھی خاموش نہیں ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق شہاب ثاقب 12 سے 25 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں اور یہی رفتار سے جب زمین سے ٹکراتی ہے تو تاریخ بدل دیتی ہے۔ شمالی ایریزونا میں واقع شہاب ثاقب کا نتیجہ ہے ماہرین کے مطابق تقریباً 50,000 سال قبل ایک نکل آئرن الکا زمین سے ٹکرایا تھا اس الکا کا وزن ایک اندازے کے مطابق 300,000 ٹن تھا اور اس سے خارج ہونے والی توانائی 20 ملین ٹن کے برابر تھی جو ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم سے بھی ہزاروں گنا زیادہ تھی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شہاب ثاقب زمین سے ٹکرانے کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا دھماکے کے ساتھ زمین پر فورآ زلزلہ آیا۔
شہاب ثاقب نے تقریباً 1,200 میٹر اور 168 میٹر گہرا گڑھا بنا دیا۔ اس تصویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ اس کے اثرات سے زمین کی چٹانیں پگھل گئیں، ہزاروں ٹن مٹی ہوا میں اُڑ گئی اور آس پاس کے علاقے کو کئی کلومیٹر تک جھلسا دیا۔ اس مقام پر شاکڈ کوارٹز اور میٹیوریٹ آئرن کے ذرات آج بھی پائے جاتے ہیں جو اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ یہ آتش فشاں نہیں تھا بلکہ شہاب ثاقب گرا تھا۔
ناسا کے مطابق اس وقت 25,000 سے زیادہ نیئر ارتھ آبجیکٹ زمین کے گرد چکر لگا رہے ہیں جن میں سے کچھ کسی بھی وقت خطرہ بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپالو مشن سے پہلے خلابازوں کو اس گڑھے میں تربیت دی جاتی تھی تاکہ وہ چاند کی سطح پر حالات کو سمجھ سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آج اسی طرح کا الکا کسی آبادی والے شہر پر گرے تو چند لمحوں میں پورا شہر نقشے سے مٹ سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments
Post a Comment