دجالی میٹرکس کا خاتمہ، کائناتی اینٹروپی کی دہشت، اور غار کا کوانٹم ٹائم کیپسول: سورہ الکہف کی پہلی 1-10 آیات کا سائنسی، نفسیاتی اور الہیاتی مطالعہ (سورہ کہف حصہ اول) -  بلال شوکت آزاد


انسانی شعور کی ارتقائی تاریخ، جدید سائنس اور ایپسٹی مولوجی (Epistemology - علمِ حقائق) کے میدان میں جب ہم سچائی (Truth) اور فریب (Deception) کے درمیان فرق تلاش کرتے ہیں، تو ہمیں ایک انتہائی بھیانک حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 


جدید انسان، جسے اپنی سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI) اور مادی ترقی پر ایک فرعونی اور اندھا غرور ہے، وہ دراصل ایک بہت بڑے ”کائناتی میٹرکس“ (Cosmic Matrix) کا شکار ہو چکا ہے۔ 


یہ وہ دور ہے جسے الہیاتی اصطلاح میں ”فتنہ دجال“ اور عمرانیات میں ”پوسٹ ٹروتھ ایرا“ (Post-Truth Era) کہا جاتا ہے، جہاں جھوٹ اتنا منظم، سائنسی، رنگین اور پرکشش ہو کر اسکرینوں پر ابھرتا ہے کہ وہ عین سچائی محسوس ہوتا ہے، اور سچائی اتنی اجنبی، تنہا اور بے رنگ ہو جاتی ہے کہ وہ فرسودہ لگنے لگتی ہے۔ 


اس عالمگیر اور ڈیجیٹل فریب کے دور میں رہنمائی کے لیے، آسمان کا مطلق العنان رب چودہ سو سال قبل ایک ایسی سورت نازل فرماتا ہے جو انسان کی نفسیات، اس کے کھوکھلے عقائد، اور اس کے مادی نظریات کو جڑ سے اکھاڑ کر ایک نئے کائناتی شعور کی بنیاد رکھتی ہے۔ 


اللہ رب العزت نے سورہ الکہف کا آغاز کسی روایتی قصے، کسی واقعے کی منظر کشی یا کسی نرم تمہید سے نہیں کیا، بلکہ کائنات کے سب سے بڑے سچ اور اس کتاب کی حتمی، دو ٹوک، کاٹ دار اور غیر مبہم حیثیت کے عالمگیر اعلان سے کیا ہے، 


فرمایا:


”الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنزَلَ عَلَىٰ عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًا ۝ قَيِّمًا لِّيُنذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا مِّن لَّدُنْهُ وَيُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا حَسَنًا ۝ مَّاكِثِينَ فِيهِ أَبَدًا ۝“

(ترجمہ: سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب نازل فرمائی اور اس میں کوئی کجی (ٹیڑھ پن) نہیں رکھی۔ بالکل سیدھی اور متوازن، تاکہ وہ اپنی طرف سے آنے والے ایک سخت عذاب سے ڈرائے، اور ان مومنوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں، یہ خوشخبری دے دے کہ ان کے لیے ایک بہترین اجر ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے [الکہف: 1-3])۔


ان تین آیات میں عربی بلاغت اور حقائق کی فزکس کا ایک ایسا عظیم الشان شاہکار پوشیدہ ہے جو جدید مابعد جدیدیت (Post-modernism) کے فلسفے کو زمیں بوس کر دیتا ہے۔ 


آج کا جدید فلسفہ اور لبرل ازم کہتا ہے کہ سچائی ”نسبتی“ (Relative) ہے، یعنی ہر انسان کا سچ اس کے اپنے حالات اور مفادات کے مطابق ٹیڑھا یا سیدھا ہو سکتا ہے، کوئی ایک حتمی سچ کائنات میں موجود نہیں۔ 


لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں انسانیت کے اس بکھرے ہوئے شعور کو تھپڑ مارتے ہوئے قرآن کی سب سے بڑی صفت یہ بیان کی کہ 


”وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًا“ 

(اس میں کوئی کجی، کوئی پیچیدگی، کوئی تضاد اور کوئی ابہام نہیں ہے) 


اور وہ 


”قَيِّمًا“ 

(بالکل سیدھی، متوازن اور ہر شے کو اپنے محور پر قائم رکھنے والی) ہے۔ 


یہ کتاب ریاضی کے کسی حتمی اور کامل فارمولے کی طرح اٹل ہے۔ اس میں نظریات کا کوئی ٹکراؤ، کوئی جھول، یا کوئی ایسا اندھا موڑ نہیں ہے جو انسان کی عقل کو کسی کنفیوژن میں دھکیل دے۔ 


یہ کتاب دجالی نظام کے اس ”ٹیڑھ پن“ اور منافقت کا واحد اور حتمی اینٹی ڈوٹ (Antidote) ہے جو انسان کو سچ اور جھوٹ، خیر اور شر کے درمیان الجھا کر اس کی روح کو مفلوج کر دیتا ہے۔ 


اس ”سیدھی اور کھری“ کتاب کا نزول محض کوئی ادبی معجزہ دکھانے کے لیے نہیں ہوا، بلکہ اس کا کائناتی مقصد دوہرا ہے۔ 


ایک طرف کائنات کے اس ”بَأْسًا شَدِيدًا“ (سخت ترین عذاب / کائناتی تباہی اور الہیاتی پکڑ) کی سائنسی وارننگ دینا جو اس ظالمانہ اور مادی نظام کے ٹوٹنے پر لامحالہ آئے گا، اور دوسری طرف ان لوگوں کو جو اس فریب زدہ، گندی اور مادی کائنات میں بھی ”صالح“ (Constructive/Positive) اعمال کرتے ہیں، انہیں ایک ایسے ابدی وجود (ماکثین فیہ ابدا) کی سائنسی نوید سنانا جہاں ٹائم اور سپیس (Time and Space) کا زوال ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ 


یہ ایک ایسی ابدی بادشاہت کا وعدہ ہے جو کائنات کے سب سے بڑے خالق نے براہِ راست اپنے دستخطوں سے، بغیر کسی واسطے کے جاری کیا ہے۔


اس کائناتی حقانیت کے اعلان کے فوراً بعد، اللہ تعالیٰ انسانی تاریخ کے اس سب سے بڑے، سب سے بھیانک، سب سے احمقانہ اور سب سے غیر منطقی عقیدے پر ایک بے رحم سرجیکل اسٹرائیک (Surgical Strike) کرتا ہے جس نے خالقِ کائنات کی مطلق اور لامحدود حیثیت کو محض حیاتیاتی (Biological) حدود میں قید کرنے کی ناپاک کوشش کی، 


فرمایا:


”وَيُنذِرَ الَّذِينَ قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا ۝ مَّا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لِآبَائِهِمْ ۚ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ ۚ إِن يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا ۝“

(ترجمہ: اور ان لوگوں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ نہ انہیں اس بات کا کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو۔ کتنی بڑی (خوفناک) بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکل رہی ہے۔ وہ محض جھوٹ بک رہے ہیں [الکہف: 4-5])۔


یہ دو آیات دراصل عیسائیت، یہودیت کے ایک مخصوص گمراہ طبقے، اور مشرکینِ مکہ کے اس ”اینتھروپومورفک“ (Anthropomorphic - خدا کو انسانی خصوصیات اور کمزوریوں کا لبادہ پہنانے کے) عقیدے کا فلسفیانہ، جینیاتی (Genetic) اور سائنسی پوسٹ مارٹم ہیں۔ 


جب کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ خدا کا کوئی ”بیٹا“ یا اولاد ہے، تو وہ دراصل اس کائنات کے عظیم ترین خدا کو مادہ (Matter)، ڈی این اے (DNA)، کروموسومز کے تبادلے اور جینیاتی وراثت کے اس محتاج اور کمزور نظام کا حصہ بنا دیتا ہے جو صرف اور صرف فانی اور فنا ہونے والی مخلوقات کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ 


ذرا اپنی عقلِ سلیم پر زور دیجیے! 


اولاد پیدا کرنے کی ضرورت اس وجود کو ہوتی ہے جو نامکمل ہو، جس پر موت طاری ہونی ہو، جسے بڑھاپے میں سہارے کی ضرورت ہو، اور جسے دنیا میں اپنا نام، اپنی سلطنت یا اپنی نسل آگے بڑھانے کے لیے کسی ”حیاتیاتی تسلسل“ (Biological Continuity) کی لازمی حاجت ہو۔ 


کائنات کا جو رب زمان و مکان کا محتاج نہیں، جو مادہ اور انرجی کو ایک لفظ ”کن“ سے عدم سے وجود میں لانے کی مطلق طاقت رکھتا ہو، اسے اپنے تخت کے وارث کے لیے کسی محدود حیاتیاتی تولید (Reproduction) اور جنسی نظام کی کیا حاجت ہو سکتی ہے؟ 


اللہ نے اس غلیظ عقیدے کی بنیاد کو ”مَّا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ“ کہہ کر جڑ سے اکھاڑ دیا، یعنی اس دعوے کے پیچھے کوئی سائنسی، عقلی، منطقی یا الہیاتی حقیقت نہیں ہے، بلکہ یہ محض ایک فکری افلاس اور اندھی تقلید کی بیماری ہے جو ان جاہل باپ دادا کے سینوں سے چلی آ رہی ہے جنہوں نے خدا کو اپنے جیسا کوئی بادشاہ سمجھ لیا تھا۔ 


اللہ تعالیٰ کا جلال اس قدر شدید ہے کہ وہ فرماتا ہے کہ یہ اتنی بڑی، سنگین اور کائناتی گالی ہے جو ان کی زبانوں سے پھسل رہی ہے کہ اگر اس کائنات کا فزیکل توازن اللہ کی گرفت میں نہ ہو، تو اس جھوٹ کی شدت سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے۔ 


یہ کائنات کے مطلق العنان خالق کی شانِ بے نیازی (صمدیت) کے خلاف کی جانے والی سب سے بڑی بغاوت اور سب سے گھٹیا جھوٹ ہے۔


اس سخت ترین اور غضبناک الہیاتی تنقید کے بعد، قرآنی کیمرہ نہایت خوبصورتی سے اچانک انسانیت کے سب سے بڑے ہمدرد، کائنات کے سب سے حساس دل، اور محمد رسول اللہ ﷺ کی اس انتہائی تکلیف دہ اور جان لیوا نفسیاتی کیفیت (Psychological State) کی طرف گھومتا ہے جسے آج کی جدید نفسیات اور میڈیکل سائنس ”ایمپیتھی فٹیگ“ (Empathy Fatigue) یا ”کمپیشن برن آؤٹ“ (Compassion Burnout) کا نام دیتی ہے، 


فرمایا:


”فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰ آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَٰذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا ۝“

(ترجمہ: پس (اے نبی!) شاید آپ ان کے پیچھے، افسوس اور غم کے مارے، اپنی جان ہی ہلاک کر ڈالیں گے اگر وہ اس کلام (قرآن) پر ایمان نہ لائے [الکہف: 6])۔


یہ اکیلی آیت رسول اللہ ﷺ کی اس بے پناہ، لامحدود اور غیر طبعی حد تک بڑھی ہوئی محبت، تڑپ اور کائناتی درد کی سب سے بڑی گواہی ہے۔ 


عربی زبان کے لغوی سمندر میں لفظ ”بَاخِعٌ“ اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی شدید صدمے، لاحاصل غم یا کسی ایسی مسلسل فکر میں مبتلا ہو جائے کہ وہ اپنے آپ کو اندر ہی اندر گھلا کر موت کے گھاٹ اتار لے۔ 


نبی کریم ﷺ کا قطعی طور پر یہ مسئلہ نہیں تھا کہ ان کی قوم ان کی سیاسی مخالفت کر رہی تھی، یا انہیں گالیاں دے رہی تھی، یا ان پر پتھر برسا رہی تھی۔ 


ان کا اصل اور جان لیوا درد یہ تھا کہ وہ اپنی نبوت کی اس بے داغ اور کائناتی آنکھ سے اس پوری قوم کا وہ ہولناک، بھیانک، سلگتا ہوا اور ابدی انجام (جہنم کی صورت میں) اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے تھے جو اس قرآن (الحدیث) کے انکار کے براہِ راست نتیجے میں ان پر ٹوٹنے والا تھا۔ 


وہ اپنی قوم کو، جو آنکھوں پر پٹی باندھ کر ایک کائناتی بلیک ہول کی طرف اندھا دھند دوڑ رہی تھی، اس ابدی تباہی سے بچانے کے لیے اس قدر تڑپتے تھے کہ ان کا اپنا وجود اس درد کی بھٹی میں پگھلنے لگا تھا۔ 


اللہ تعالیٰ اپنے محبوب نبی کو اس آیت میں ایک طرح کی زبردست نفسیاتی تسلی (Psychological Relief) اور بریک فراہم کر رہا ہے کہ اے محمد (ﷺ)! آپ کا کام صرف اور صرف سچائی کو کھول کر پہنچا دینا ہے، کائنات کا کنٹرول آپ کے ذمے نہیں ہے، ان کی اس اندھی اور بہری ضد پر اپنی اس قیمتی جان کو اس طرح غم اور افسوس کے کٹہرے میں مت گھلائیں۔ 


یہ آیت دنیا کے ہر اس سچے داعی، مصلح اور لیڈر کے لیے ایک ابدی اصول طے کر دیتی ہے کہ ہدایت کی زبردستی انجینئرنگ کرنا انسان کا کام نہیں ہے، انسان کا کام محض حق کی غیر متزلزل گواہی دے کر اپنے ضمیر کا بوجھ اتارنا ہے، باقی فیصلہ اس قوم کے اپنے ارادے اور کائنات کے رب کے ہاتھ میں ہے۔ (اور الحمدللہ میں اسی آفاقی کلیہ پر یہ دعوت و اصلاح اور تعلیم و تربیت کا سلسلہ لیکر چل رہا ہوں, بغیر اس فکر اور پریشانی کہ کسی کو اس سے فرق پڑے گا یا نہیں, کیونکہ یہ میری ڈومین اور ذمہ داری سرے سے ہے ہی نہیں۔)


اس نفسیاتی مرحم کے فوراً بعد، اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات، اس زمین کی دلفریب خوبصورتی، اس کے مادی وسائل اور اس کے حتمی، تلخ اور سائنسی انجام کا وہ نظارہ پیش کرتا ہے جسے جدید تھرمو ڈائنامکس اور فزکس کی دنیا میں ”اینٹروپی کا قانون“ (Second Law of Thermodynamics / Entropy) کہا جاتا ہے، 


فرمایا:


”إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۝ وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا ۝“

(ترجمہ: بے شک ہم نے زمین پر جو کچھ بھی ہے، اسے زمین کی زینت (سجاوٹ) بنایا ہے تاکہ ہم انہیں آزمائیں کہ ان میں سے کون عمل میں سب سے بہتر ہے۔ اور بے شک ہم اس (روئے زمین) پر جو کچھ بھی ہے، اسے (ایک دن) چٹیل اور بنجر میدان بنا دینے والے ہیں [الکہف: 7-8])۔


ان دو آیات میں اس ظاہری اور دھوکہ باز مادی دنیا کی پوری قلعی کھول دی گئی ہے اور اس کا الٹیمیٹ انجام (Ultimate Fate) اور ہیٹ ڈیتھ (Heat Death) بیان کر دی گئی ہے۔ 


یہ جو فلک بوس، شیشوں سے سجی ہوئی کارپوریٹ عمارتیں ہیں، یہ جو چمکتی ہوئی جدید ترین گاڑیاں ہیں، یہ سرسبز باغات، یہ سونے اور ڈالرز کے انبار اور یہ سلیکون ویلی کی جدید ترین ٹیکنالوجی ہے, اللہ فرما رہا ہے کہ یہ سب کچھ محض اور محض ”زِينَةً“ (ایک عارضی، فریب زدہ سجاوٹ / Optical Illusion) ہے۔ اور اس حیرت انگیز سجاوٹ کو پیدا کرنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ انسان اس کے نشے میں غرق ہو کر اسے اپنا حتمی مسکن سمجھ لے اور اس پر اپنی بقا کی جنگیں لڑتا پھرے، بلکہ اس کا الہیاتی مقصد ایک کائناتی ”سیمولیشن“ (Simulation) چلانا ہے تاکہ انسانوں کا ایک سخت ترین ”کوالٹی کنٹرول ٹیسٹ“ کیا جا سکے۔ 


یہ دیکھنا مقصود ہے کہ اس پرکشش، نفس کو اکسانے والے اور دھوکہ دینے والے ماحول میں کون انسان ایسا ہے جو اپنی اخلاقیات، اپنے کردار کی شفافیت، اور اپنے رب کے ساتھ وفاداری پر ایک چٹان کی طرح قائم رہتا ہے (أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا)۔ 


یہ دنیا اعمال کی فیکٹری ہے، عشرت کدہ نہیں۔ 


اور پھر اگلی ہی آیت میں وہ خوفناک، لرزہ خیز اور سائنسی حقیقت بیان کی گئی جس کا ادراک آج کی جدید فزکس اپنے پیچیدہ ترین مساواتوں سے کر رہی ہے کہ کائنات کی ہر شے زوال کی طرف، موت کی طرف، اور ایک حتمی ڈس آرڈر (Disorder) کی طرف تیزی سے جا رہی ہے۔ 


”صَعِيدًا جُرُزًا“ کا عربی میں مطلب ہے ایسی بنجر، خشک، مردہ اور چٹیل مٹی جس میں زندگی کا کوئی قطرہ، کوئی ہریالی، کوئی نمی اور کوئی بھی مادی ساخت باقی نہ رہے۔ 


ایک دن آئے گا جب یہ زمین، اس کی ساری کھربوں ڈالر کی معیشتیں، اس کے سارے عالیشان محلات اور اس کی ساری حیران کن ٹیکنالوجی کوانٹم لیول پر ٹوٹ کر، بکھر کر محض اڑتی ہوئی دھول اور مردہ ریت میں تبدیل ہو جائیں گی۔ 


یہ اینٹروپی کا وہ کائناتی اور اٹل قانون ہے جو انسان کے مادی تکبر کو، اس کے کیپیٹلزم کو اور اس کی دنیاوی حیثیت کو ایک جھٹکے میں خاک میں ملا دیتا ہے۔


جب ایک بیدار شعور رکھنے والا انسان اس مادی سراب کی حقیقت کو جان لیتا ہے، اسے اس نظام کا کھوکھلا پن نظر آ جاتا ہے اور وہ اس دجالی نظام (System of Deception) سے علی الاعلان بغاوت کرتا ہے، تو پھر انسانی تاریخ کے کینوس پر ”اصحابِ کہف“ (Companions of the Cave) جیسے لافانی اور عظیم کردار جنم لیتے ہیں۔ جن کا تعارف اللہ رب العزت نے اگلی دو آیات میں انتہائی پراسرار، سینیمیٹک اور شاندار انداز میں کروایا ہے، 


فرمایا:


”أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ آيَاتِنَا عَجَبًا ۝ إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا ۝“

(ترجمہ: کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ غار اور کتبے (تختی) والے ہماری نشانیوں میں سے کوئی بڑی عجیب نشانی تھے؟ جب ان چند نوجوانوں نے (دنیا سے کٹ کر) غار میں پناہ لی، تو انہوں نے دعا کی: اے ہمارے رب! ہمیں اپنی طرف سے خاص رحمت عطا فرما، اور ہمارے اس (بظاہر ناممکن) معاملے میں ہمارے لیے ہدایت (کامیابی) کا سامان مہیا کر دے [الکہف: 9-10])۔


یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول مکرم ﷺ اور ان کے واسطے سے قیامت تک آنے والی پوری امت سے ایک سوالیہ اور چیلنجنگ انداز میں بات کی ہے کہ کیا تم اصحابِ کہف اور ”الرَّقِيمِ“ (وہ کتبہ یا تختی جس پر ان کا بائیو میٹرک اور تاریخی ڈیٹا اور نام لکھ کر حکمرانوں کی طرف سے غار کے باہر بطورِ یادگار یا وارننگ لگا دیا گیا تھا) کے اس واقعے کو کائنات کا کوئی بہت بڑا عجوبہ، معجزہ یا ناممکن سائنسی واقعہ سمجھتے ہو؟ 


حالانکہ ذرا غور کرو، جس رب نے اس پوری کائنات کو عدم کی اتھاہ گہرائیوں سے محض ایک لفظ سے وجود بخشا، جس نے ٹائم (Time) کے اس پورے فور ڈائمینشنل فیبرک کو تخلیق کیا، اس قادرِ مطلق کے لیے چند نوجوانوں کو ایک غار کے ”ٹائم کیپسول“ (Time Capsule) میں سلا کر، وقت کی رفتار کو ان کے لیے صفر کر کے، صدیوں تک ان کے حیاتیاتی اور میٹابولک نظام کو منجمد کر دینا آخر کون سی حیرت کی بات ہے؟ 


یہ تو خدا کی قدرت کا ایک بہت ہی معمولی سا ڈیمو (Demo) تھا۔


اس میں خاص طور پر لفظ ”الفتيہ“ (نوجوان) استعمال ہوا ہے، جو عمرانیات اور انقلابات کا ایک بہت بڑا راز کھولتا ہے کہ حق کی بغاوت، اسٹیٹس کو (Status Quo) کو چیلنج کرنے کی جرات اور دجالی و ریاستی نظام سے براہِ راست ٹکرانے کا حوصلہ ہمیشہ نوجوان خون میں ہوتا ہے، کیونکہ بوڑھے مصلحتوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ 


جب ان چند نوجوانوں نے اپنے باشعور دلوں سے یہ محسوس کر لیا کہ ان کے معاشرے میں توحید اور حق پر چلنا ناممکن ہو گیا ہے، ریاست انہیں کچلنے، ان کا برین واش کرنے یا انہیں شرک پر مجبور کرنے پر تلی ہوئی ہے، تو انہوں نے اپنے ایمان اور نظریے کو بچانے کے لیے اس ظاہری اور مادی دنیا کی پرتعیش زندگی کو ٹھوکر ماری اور ایک تاریک، سنسان غار میں ”آئسولیشن“ (Ideological and Physical Quarantine) اختیار کر لی۔ 


غار کوئی فائیو سٹار ہوٹل یا آرام دہ جگہ نہیں تھی، لیکن جب وہ اس میں داخل ہوئے تو ان کا توکل اپنی عقل، اپنی جوانی کی طاقت یا اپنی سٹریٹجی پر نہیں تھا، بلکہ اپنے رب پر تھا۔ 


انہوں نے غار کے اندھیرے میں بیٹھ کر وہ دعا مانگی جو قیامت تک ہر اس حق پرست، انقلابی اور نظریاتی انسان کے لیے ایک کائناتی فارمولا بن گئی جو باطل کے نرغے اور ریاستی جبر میں پھنس جائے: 


”رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً“۔ 


انہوں نے دنیاوی اسباب، فوج یا اسلحہ نہیں مانگا، بلکہ خدا کی وہ خاص ”رحمت“ مانگی جو طبعی قوانین کو توڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور اپنے اس کٹھن اور بظاہر ناممکن مشن میں سیدھے راستے اور کامیابی (رَشَدًا) کی بھیک مانگی۔ 


یہ غار میں داخل ہونا دراصل دنیا کی نظر میں ان کے لیے ایک مادی موت تھی، وہ سسٹم سے کٹ چکے تھے، لیکن الہیاتی اور روحانی طور پر یہ ان کی ابدی بقا اور فتح کا وہ نقطہِ آغاز تھا جس نے انہیں قرآن کے صفحات پر قیامت تک کے لیے امر کر دیا۔


Comments

Popular posts from this blog

🌅1543) More than 565 .... Topics

1695🔆🥀) Fatwa (english/urdu)

ـ1508🌻) پندرہ غزائیں جن سے قوت مدافعت بڑتی ہیں (انگلش/اردو)