سیارہ عطارد کی سب سے قریب ترین تصویر
زیر نظر سیارہ عطارد (مرکری)کی اب تک لی گئی سب سے قریب ترین تصویر ہے۔ اس تصویر کی دو بڑی انفرادیت ہیں ایک یہ کہ یہ عطارد مشن کے خلائی جہاز میسینجر نے اسے اپنی خودکار تباہی سے چند گھنٹے قبل کھیچا اور دوسرا یہ عطارد کی لی گئی واضح اور قریب ترین تصویر میں سے ایک ہے جس کو دیکھ کر عطارد کی سطح کا درست اندازہ ہوتا ہے۔ ناسا خلائی مشن’’میسنجر‘‘ نے 2015 میں عطارد کے گرد اپنے مشن کے خاتمے سے تقریباً آٹھ گھنٹے قبل کھینچا تھا۔ اس وقت خلائی جہاز اور زمین کے درمیان صرف 29 کلومیٹر کا فاصلہ تھا۔بعد ازاں میسینجر نے ’’سیلف ڈسٹرکٹیو موڈ ‘‘میں اپنے آپ کو عطارد کی سطح پر گرا کر پاش پاش کر دیا اور وہی کی دھول بن گیا تاہم اس کی کھینچی گئی عطارد کی بہت سی واضح تصاویر آج ناسا کا سرمایہ ہیں ۔
اس کی سطح پر رنگ عطارد کی پتھریلی زمین کی مختلف کیمیائی، معدنی اور جسمانی خصوصیات کی نشاندہی کے لئے شامل کیئے گئے ہیں۔ہماری زمین سے 77 ملین سے 92 ملین کلومیٹر دور خلائوں کی وسعتوں میں واقع نظام شمسی کا سب سے چھوٹا اور سورج کے قریب ترین سیارہ عطارد کی سطح ہمارے چاند سے خاصی مماثلت رکھتی ہے تاہم وہاں زمین کی کیمیکل کمپوزیشز فرق ہیں۔ چاند کے برعکس اس کے اندر بہت بڑی مقدار میں لوہا پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کا مقناطیسی میدان زمین کے مقناطیسی میدان کا محض ایک فیصد ہے۔اپنے چھوٹے حجم اور لوہے کے اندرونی ڈھانچے کے باعث عطارد بہت کثیف ہے۔
عطارد کو جانے والے دو خلائی جہازوں میں سے پہلا جہاز ’’میرینر دہم‘‘ تھا جس نے 1974 سے 1975 کے دوران عطارد کے 45 فیصد حصے کی نقشہ کشی کی تھی۔ دوسرا جہاز میسنجر تھا جو عطارد کے مدار میں 17 مارچ 2011 کو داخل ہوا اور 2015 میں طے شدہ شیڈول کے تحت اپنے مشن کا خاتمہ کر دیا۔

Comments
Post a Comment