مکھی

سوچیں، آپ اگر کسی چیز کو چھوتے ہو تو کیا آپ کو ذائقہ معلوم ہوتا ہے؟ نہیں! آپ کو صرف احساس ہوتا ہے کہ یہ گرم ہے یا ٹھنڈا ہے، ملائم ہے یا کھردرا ہے۔ لیکن مکھی؟ مکھی کے ہاتھ کچھ اور ہی حکایت سناتے ہیں! دیکھیں، مکھی کے پاؤں پر chemoreceptors ہیں — یعنی ایسے خاص سنسنی جو رسائینی کو محسوس کر سکتے ہیں۔ یہ کیا ہے؟ یہ بالکل ویسے ہے جیسے آپ کے منہ میں ذائقے کی کلیاں ہوتی ہیں، بس مکھی کے پاؤں میں بھی ہوتی ہیں! جب مکھی کسی چیز پر بیٹھتی ہے تو وہ محض بیٹھی نہیں ہے — وہ اپنے پیروں سے پوری دنیا کو سونگھ اور چاکھ رہی ہے! یعنی جب مکھی آپ کے کھانے پر بیٹھتی ہے تو وہ اپنے پیروں سے یہ معلوم کر لیتی ہے کہ "آہا! یہ میٹھا ہے یا نمکین ہے؟ یہ خطرناک ہے یا محفوظ ہے؟ کیا یہ کھانے کے قابل ہے؟" — اور یہ سب معلومات اسے اپنے پیروں سے ہی ملتی ہے! اب یہاں سوال یہ ہے — یہ کیسے کام کرتا ہے؟ تو دیکھیں، مکھی کے chemoreceptors میں ایسے پروٹین ہوتے ہیں جو رسائینی کے ساتھ bind کر سکتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی رسائینی (مثلاً شکر کا سالمہ) مکھی کے پاؤں سے چھوتا ہے، یہ پروٹین فوری طور پر اسے پہچان جاتا ہے۔ اور پھر کیا ہوتا ہے؟ پھر ایک electrical signal دماغ تک پہنچتا ہے! یعنی مکھی کے دماغ کو فوری طور پر پتہ چل جاتا ہے! اور یہی تو عجیب بات ہے — مکھی نے اپنے پاؤں کو ذائقے کی آلہ میں تبدیل کر دیا ہے! لیکن یہاں ایک اور حیرت انگیز بات ہے۔ مکھی کے chemoreceptors سرے سے ایک نہیں، بہت سارے ہیں! ہر پاؤں پر سینکڑوں chemoreceptors ہیں! یعنی مکھی کے پاؤں بالکل microscopic lab کی طرح ہیں جہاں لاکھوں ٹیسٹ ہو رہی ہیں! اور مکھی اپنے پیروں کو کہاں کہاں رکھتی ہے؟ وہ جہاں جہاں بیٹھتی ہے، وہ جاتی ہے۔ شاید آپ کے کھانے پر بیٹھی ہے، شاید کسی دوسری چیز پر۔ اور ہر جگہ وہ یہی کام کرتی ہے — اپنے پیروں سے ذائقہ لیتی ہے! اب یہاں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مکھی اپنی زبان سے بالکل نہیں ذائقہ لیتی! جی ہاں! مکھی کے پاس ایک سونڈ نما proboscis ہے جسے وہ کھانے میں ڈالتی ہے، لیکن وہ proboscis بالکل flavor-neutral ہے! یعنی اگر مکھی کو پہلے معلوم نہ ہو کہ کوئی چیز کھانے کے قابل ہے، تو وہ اپنی proboscis کو کھانے میں ڈالے گی ہی نہیں! اسی لیے مکھی سب سے پہلے اپنے پیروں سے "ٹیسٹ کرتی ہے!" اور جب اسے پتہ چل جاتا ہے کہ "ہاں، یہ کھانے کے قابل ہے!" تب وہ اپنی proboscis ڈالتی ہے اور کھاتی ہے! تو آپ کے آپ کے کھانے پر مکھی جو بیٹھتی ہے اور پیروں سے چلاتی ہے — وہ دراصل "taste-test" کر رہی ہے! وہ اپنے پیروں سے کھانے کو سونگھ رہی ہے، چاکھ رہی ہے، اور یہ معلوم کر رہی ہے کہ "یہ کیا ہے؟ کیا یہ کھانے کے قابل ہے؟" اور بس یہی وجہ ہے کہ مکھی اپنے پیروں کو بار بار صاف کرتی ہے! کیوں؟ کیونکہ اگر اس کے chemoreceptors میں گندگی لگ جائے تو اس کو ذائقہ معلوم نہیں ہوگا! تو مکھی اپنے paws کو ایک خاص طریقے سے صاف کرتی ہے تاکہ وہ ہمیشہ sensitive رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ کھانا کھا رہے ہوں اور مکھی آئے تو وہ بالکل خاموش بیٹھی نہیں ہے — وہ اپنے پیروں کو بار بار منہ سے مل رہی ہے! وہ اپنے chemoreceptors کو صاف کر رہی ہے! اور اگر وہ اپنے "taste-sensors" کو صاف رکھے تو وہ بہتری سے کھانے تلاش کر سکتی ہے۔ تو آخر میں، مکھی کے پاؤں صرف چلنے کے لیے نہیں ہیں — وہ مکھی کے لیے ایک sophisticated sensor system ہیں! یہ ایسے ہے جیسے مکھی کے ہر قدم پر ایک بہت ہی حساس laboratory ہے! اور یہی وجہ ہے کہ مکھیاں اتنی تیزی سے خراب کھانے کو تلاش کر لیتی ہیں — کیونکہ انہیں اپنے پیروں سے فوری طور پر تمام معلومات ملتی ہیں! 

Comments

Popular posts from this blog

1695🔆🥀) Fatwa (english/urdu)

ـ1508🌻) پندرہ غزائیں جن سے قوت مدافعت بڑتھی ہیں (انگلش/اردو)

🌅1543) More than 565 .... Topics