ہائیڈروجن بم
کسی بڑے شہر کو لمحوں میں تباہ کرنا ہو تو اس کیلئے ایٹم بم استعمال ہوتا ہے اگر شہر کا نام و نشان صفا ہستی سے مٹا دینا ہو تو اس کیلئے ہائیڈروجن بم درکار ہوتا ہے
ہائیڈروجن بم (جسے تھرمو نیوکلیئر بم بھی کہا جاتا ہے) دنیا کا طاقتور ترین ہتھیار ہے۔ یہ ایٹم بم کی ایک انتہائی ترقی یافتہ شکل ہے۔ اس میں توانائی پیدا کرنے کے لیے نیوکلیئر فیوژن (ایٹموں کے ملاپ) کا عمل استعمال ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے سورج میں روشنی اور حرارت پیدا ہوتی ہے۔
ٹیکنالوجی: ایٹم بم 'فشن' (ایٹم کو توڑنے) پر کام کرتا ہے، جبکہ ہائیڈروجن بم 'فیوژن' (ایٹموں کو جوڑنے) پر مبنی ہے۔
طاقت: ہائیڈروجن بم ایٹم بم سے ہزاروں گنا زیادہ تباہ کن ہوتا ہے۔ ہائیڈروجن بم کو چلانے کے لیے ایک چھوٹے ایٹم بم کی ضرورت پڑتی ہے جو فیوژن شروع کرنے کے لیے درکار حرارت فراہم کر سکے۔ فیوژن شروع کرنے کے لیے انتہائی زیادہ درجہ حرارت (تقریباً 50 ملین ڈگری سیلسیس) درکار ہوتا ہے۔ اسی لیے ہائیڈروجن بم کے اندر ایک چھوٹا ایٹم بم (فِشن بم) نصب کیا جاتا ہے جو دھماکے کے ذریعے وہ حرارت فراہم کرتا ہے جس سے ہائیڈروجن کے ایٹم آپس میں جڑ کر ایک ہولناک دھماکہ کرتے ہیں۔ یعنی ہائیڈروجن بم کا دھماکہ شروع کرنے کے لیے پہلے ایک ایٹم بم پھاڑنا پڑتا ہے۔
ایٹم بم کی طاقت کلو ٹن
میں ناپی جاتی ہے، جبکہ ہائیڈروجن بم کی طاقت میگا ٹن میں ہوتی ہے۔ ایک میگا ٹن 10 لاکھ ٹن ٹی این ٹی کے برابر ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہائیڈروجن بم کو "شہر ختم کرنے والا" ہتھیار کہا جاتا ہے جو ایٹم بم کے مقابلے میں 100 سے 1000 گنا زیادہ جانی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بڑے سائز اور زیادہ فیوژن ایندھن کی وجہ سے ہائیڈروجن بم سے پیدا ہونے والی تابکاری اور گرد و غبار بھی کہیں زیادہ وسیع علاقے کو متاثر کرتی ہے۔
ہائیڈروجن بم کا کوئی انسانی یا تعمیری مقصد نہیں ہے۔ یہ خالصتاً ایک جنگی ہتھیار ہے جو دشمن کو مکمل طور پر تباہ کرنے اور دفاعی برتری حاصل کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کا استعمال بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان اور تابکاری کا باعث بنتا ہے۔

Comments
Post a Comment