870🌹) اللہ پاک بندے کو کیوں دوزخ میں ڈالے ؟

اللہ پاک اپنے بندے کو کیسے دوزخ میں ڈال سکتا ہے ؟

 ایک رحیم و کریم خدا جو ستر ماووں سے زیادہ پیار کرتا ہے وہ خدا محض شرک کے بنیاد پر اپنے بندے کو کیسے دوزخ میں ڈال سکتا ہے ؟

مثال کے طور پر اگر ایک بچہ اپنی ماں باپ کو تسلیم نہ کرے تو ماں باپ کبھی ان کو اگ میں نہیں ڈالے گا 

جواب 

پہلی بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ آپ جب خدا کی ذات کا تصور کرتے ہیں تو خدا کی تمام صفات کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے خدا محض رحمان اور ایک ماں نہیں وہ ایک عادل اور انصاف کرنے والی ہستی بھی ہے اس نے یہ دنیا ماں بیٹے کی تعلق یا صرف پیار و محبت کے بنیاد پر نہیں بنائی بلکہ امتحان کے لیے بنائی ہے اور اس امتحان کا نتیجہ بھی نکالنا ہے اللہ تعالی نے آخرت میں کامیاب ہونے کے لیے انسان کو دنیا کی زندگی دی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ایک اچھے انسان اور ایک برے انسان کے ساتھ ایک جیسا رحم کا برتاو کریں ؟

 یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ایک ریپسٹ اور ایک ہمدرد سے ایک جیسا پیار کریں ؟ 

جب ہم صرف ایک صفت کو اٹھا کر باقی صفات کو اگنور کرتے ہیں تو ہمیشہ یہی مسائل پیدا ہونگے قران پاک کے مطابق اللہ تعالی رحمان و رحیم بھی ہے لیکن بدلہ دینے والا سزا دینے والا تکلیف میں مبتلا کرنے والا اور غذاب دینے والا بھی ہے یہ تو بائبل کے تصورات ہے کہ خدا سراپا پیار و محبت اور خیر کا خالق ہے وہ صرف محبت کرتا ہے اور بے پناہ محبت اگر دنیا کی فطرت کو دیکھا جائے اور ہم اللہ تعالی کو صرف پیار و محبت کرنے والا اور رحیم ہی بنا دے ان کو باقی صفات سے محروم کر دے یا اگر خدا صرف ماں کی طرح محبت شروع کرے تو میں تو پھر اس سے کسی قسم کے انصاف کی توقع کر ہی نہیں سکتا اس لیے کہ مائیں انصاف نہیں کرتی وہ برے سے برے بچے کو بھی سپورٹ کرتی ہے رحمت محبت عدل سزا غذاب ان سب کے الگ الگ مواقع ہےخود سوچیں اگر اج اللہ تعالی یہودیوں کے لیے ماں بن جائے فلسطین میں بچوں پر جو ظلم ہو رہا ہے ان ظالموں کے لیے وہ ماں اور رحیم بن جائے  تو کیا ان بچوں کی مائیں خدا کا گریباں نہیں پکڑے گی ؟ 

 ظالم کو معاف کرنا دراصل مظلوم کے ساتھ ظلم ہے ایسا بھی نہیں کہ اللہ تعالی رحمن و رحیم ہی نہیں ہے اب بھلا اس سے بھی بڑا کوئی رحم اور کرم ہو سکتا ہے کہ انہوں نے انسان کو زندگی دی اپ کسی بھی انسان کو جنت دکھائے اور پھر اس کو بولے کہ اپ اس میں جانا چاہتے ہیں یا پیدا ہی نہیں ہونا چاہتے ؟ 

 یقین کریں دنیا کا کوئی بھی انسان ایسا نہیں بولے گا کہ میں پیدا ہونا ہی نہیں چاہتا رہی شرک کی بات تو شرک دراصل جھوٹ ہے شرک میں اپ اللہ تعالی پر افتراء باندھتے ہیں شرک میں آپ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں کہ خدا نے فلاں ہستی کو یہ منصب دیا جس کا خدا سے تعلق ہی نہیں شرک کی کوئی بنیاد اور دلیل ہی نہیں اس وجہ سے اس کو سب سے بڑا جرم قرار دیا گیا کیونکہ اپ اللہ تعالی کے ساتھ وہ سب کرتے ہیں جس کے لائق وہ ہے ہی نہیں وہ شریک اور جھوٹ کے لائق ہی نہیں اور اپ نے اس پر جھوٹ باندھ کر اس کے منصب کو کسی ایسى ہستی کے حوالے کر دیا جو خود اس منصب کے قابل اور لائق هى نہیں ہے 

Comments

Popular posts from this blog

1695🔆🥀) Fatwa (english/urdu)

🌅1543) More than 565 .... Topics

۔🔆🥀 1693) درود شریف و معلومات نبی ﷺ