۔1199🌻) میاں اور بیوی کے فرائض
کیا شوہر کے کپڑے دھونا بیوی کی ذمہ داری ہے؟
ازدواجی زندگی پرسکون اور خوش گوار ہونے کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں، نبی کریم ﷺ نے شوہر کو اپنی اہلیہ کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی ہے، چنانچہ ارشاد نبوی ہے: تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ اچھا ہو اور میں اپنی گھر والی کے ساتھ تم میں سے سب سے بہتر ہوں۔ دوسری جانب بیوی کو بھی اپنے شوہر کی اطاعت اور فرماں برداری کا حکم دیا ، ارشادِ نبوی ہے: (بالفرض) اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی سے کہتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ۔ لہذا بیوی کا اخلاقی فریضہ ہے اور اس پر دیانۃً واجب ہے کہ وہ شوہر کے کپڑے دھوئے، جس طرح بیوی کا علاج معالجہ کرنا مرد پر قضاءً واجب نہیں، عدالت اس سلسلے میں اس پر جبر نہیں کرسکتی، لیکن زندگی کی گاڑی پرسکون اور خوش حالی کے ساتھ تب ہی آگے بڑھے گی جب شوہر قضائی فرائض کے علاوہ اخلاقی فرائض کو بھی انجام دے، بالکل اسی طرح عورت کو بھی ازدواجی زندگی پرامن اور پرسکون بنانے کے لیے اخلاقی فرائض کا اہتمام کرنا ہوگا۔ الفتاوى الهندية - (11 / 378)
کیا بیوی کا فرض ہے کہ وہ اپنے شوہر کا کام کرے ؟
اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو الگ الگ ذمہ داریاں اور حقوق عطا کئے ہیں، البتہ مرد کو عورت پر ایک درجہ فضیلت دی ہے، جس طرح مرد پر عورت کا نان و نفقہ وغیرہ فرض کیا ہے، اسی طرح عورت پر شوہر کی فرماں برداری اور رضا جوئی بھی لازم کی ہے، اسی کے ساتھ دونوں پر حسن معاشرت بھی لازم ہے، اس حسن معاشرت کا تقاضہ ہے کہ زوجین اپنے کام مل بانٹ کرکے کیا کریں، اگر چہ عورت پر یہ سب کام فرض نہیں ہیں، پھر بھی اس کا اخلاقی فریضہ تو ہے ہی کہ جب شوہر باہر کے کام انجام دے رہا ہے ، تو وہ گھر کے اندرونی کام کرے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت علی اور حضرت فاطمہ کے مابین اسی طرح تقسیم کار فرمایا تھا کہ گھر کے باہر کے کام حضرت علی کے ذمہ اور اندرونی کام کھانا پکانا، پانی بھرنا صاف صفائی کرنا حضرت فاطمہ کے ذمے کئے تھے۔ حکم النبي صلی اللہ علیہ وسلم
بین علي بن أبي طالب وبین زوجتہ فاطمة-رضي اللہ عنہا- حین اشتکیا إلیہ الخدمة، فحکم علی ”علي“ بالخدمة الظاہرة، وحکم علی ”فاطمة“ بالخدمة الباطنة-خدمة البیت - وقال ابن حبیب: الخدمة الباطنة: العجین، والطبخ والفرش، وکنس البیت واستقاء الماء وعمل البیت کلہ (من معین الشمائل) ۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سارا کام عورت کے ذمے ڈال کر اس سے نوکرانی کی طرح کام لیا جائے، اور اس کا بالکل تعاون نہ کیا جائے؛ بلکہ اس سلسلے میں اللہ کے رسول ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں
عن الأسود قال: سألت عائشة: ما کان النبي-صلی اللہ علیہ وسلم- یصنع في بیتہ، قالت: کان في مہنة أہلہ؛ تعني خدمة أہلہ (بخاری شریف: ج: ۶۷۶)
اور یہ بھی ضروری ہے کہ اس میں اس کی خاندانی حیثیت کا بھی لحاظ کیا جائے، یعنی اگر وہ اپنے گھر میں گھر کے کام خود کرتی تھی تو اسے سسرال میں بھی انکار نہیں کرنا چاہئے، اور اگر اس کے گھر میں خادمائیں وغیرہ تھیں اور وہ گھر کے کام خود نہیں کرتی تھی، تو شوہر کو بھی دباوٴ ڈال کر کام نہیں کروانا چاہئے، اور اس کو اس کی جانب سے تبرع اور احسان سمجھا جائے، فقہاء نے ا س کی صراحت کی ہے
امتنعت المرأة من الطحن والخبز، إن کانت ممن لاتخدم أو کان بہا علة فعلیہ أن یأتیہا بطعام مہیأ؛ وإلا فإن کانت ممن تخدم نفسہا وتقدر علی ذلک لایجب علیہ (الدر مع الرد: ۵/۲۹۰)۔
بیوی کا بچہ کو دودھ پلانے سے انکار کرنا
بچہ کو دودھ پلانا ماں پر دیانۃً واجب ہے، لہذا اگر کوئی عورت اپنے بچہ کو بغیر عذر کے محض ضد اور ناراضگی کے سبب دودھ نہیں پلائے گی، تو گناہگار ہوگی ۔ عورت پر اپنے شوہر کے بچوں کو دودھ پلانا دیانۃً لازم ہے، اور شرعی طور پر عورت اپنے شوہر سے بچوں کو دودھ پلانے پر اجرت کا مطالبہ بھی نہیں کرسکتی، البتہ ماں اگر بچہ کو دودھ پلانے سے کسی ضرورت کے سبب انکار کرے تو باپ کو اسے مجبور کرنا جائز نہیں، نیز جب عورت اس مرد کےنکاح یا عدت میں نہ ہو تو پھر اسے بچوں کو دودھ پلانے پر اجرت کے مطالبہ کاحق حاصل ہے۔
سورہ بقرہ کی آیت نمبر 33 کے آیت سے رضاعت کے چند مسائل معلوم ہوئے
اول یہ کہ دودھ پلانا دیانۃً ماں کے ذمہ واجب ہے، بلا عذر کسی ضد یا ناراضی کے سبب دودھ نہ پلائے تو گناہگار ہوگی اور دودھ پلانے پر وہ شوہر سے کوئی اجرت و معاوضہ نہیں لے سکتی . جب تک وہ اس کے اپنے نکاح میں ہے، کیوں کہ وہ اس کا اپنا فرض ہے ... البتہ ماں اگر بچہ کو دودھ پلانے سے کسی ضرورت کے سبب انکار کرے تو باپ کو اسے مجبور کرنا جائز نہیں، اور اگر بچہ کسی دوسری عورت یا جانور کا دودھ نہیں لیتا تو ماں کو مجبور کیا جائے گا ... چھٹا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ اگر بچے کی ماں دددھ پلانے کی اجرت مانگتی ہے تو جب تک اس کے نکاح یا عدت کے اندر ہے، اجرت کے مطالبے کا حق نہیں، یہاں اس کا نان نفقہ جو باپ کے ذمہ ہے وہی کافی ہے، مزید اجرت کا مطالبہ باپ کو ضرر پہنچانا ہے‘‘ ۔(معارف القرآن 1/581-582)
دلائل ... کما فی البحر الرائق
(قوله ولا تجبر أمه لترضع) ؛ لأنه كالنفقة وهي على الأب وعسى لا تقدر فلا تجبر عليه قضاء وتؤمر به ديانة؛ لأنه من باب الاستخدام وهو واجب عليها ديانة.
(ج: 4، ص: 219، ط: دار الکتاب الاسلامی)
واللہ اعلم بالصواب
Comments
Post a Comment