۔1288🍓) جمعہ کے دن درود پڑھنے کے 3 درجے اور معمولات


بزرگوں نے لکھا ہے کہ جمعہ کے دن درود شریف پڑھنے کے تین درجے ہیں

۔1️⃣  ادنی درجہ یہ ہے کہ کم از کم تین سو مرتبہ درود شریف پڑھے

۔2️⃣  درمیانہ درجہ یہ ہے کہ ایک ہزار مرتبہ پڑھے

۔3️⃣  اور اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ تین ہزار مرتبہ درود شریف پڑھے

تین ہزار مرتبہ پڑھو نور علی نور ہے ۔ لیکن کم از کم تین سو مرتبہ درود شریف تو پڑھ لینا چاہیے

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا معمول

ایک صاحب نے مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ حضرت جمعہ کے دن کتنی مرتبہ درود شریف پڑھنا چاہیے تاکہ ہم یہ سمجھیں کہ ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق کثرت سے درود شریف پڑھ لیا ہے . تو حضرت مفتی صاحب نے فرمایا کہ تین ہزار مرتبہ درود شریف پڑھنا چاہیے اور میرا بھی یہی معمول ہے

الحمدللہ میں نے حضرت مفتی صاحب کی بہت زیارت کی ہے اور ان کی خدمت میں رہا ہوں وہ پوری اکیڈمی کے برابر اکیلے کام کرتے تھے ، پوری جماعت مل کر اتنا کام نہیں کرتی جتنے ان اکیلے کے کام ہوتے تھے ، پورا دارالعلوم وہ اکیلے چلاتے تھے ، صبح سے شام تک حضرت کو مصروفیت و مشغولیت طاری رہتی تھی ، تصنیفی کام بھی ہوتے رہتے تھے،وعظ و نصیحت کا سلسلہ بھی جاری تھا اور اصلاح و تربیت بھی فرماتے تھے لیکن اس شدید مصروفیت کے باوجود جمعہ کے دن حضرت کا تین ہزار مرتبہ درود شریف پڑھنے کا معمول بھی تھا

اور یہ میں آپ کو حضرت کے اخیر عمر کا معمول بتا رہا ہوں جب حضرت کی عمر تقریباً 80 برس کے لگ بھگ ہوگئی تھی وہ اس عمر میں اور اتنی مصروفیت کے باوجود ہر جمعہ کو تین ہزار مرتبہ درود شریف پڑھتے تھے تو پھر ہم کون ہیں ... ہمیں کام بھی کیا ہے ... ہمیں تو فرصت ہی فرصت ہے پھر بھی اگر ہم جمعہ کے دن تین سو مرتبہ درود شریف نہ پڑھ سکیں تو یہ ہمارے لئے بڑی محرومی کی بات ہے ۔

تو  ہی  اگر  نہ  چاہے  تو  بہانے  ہزار  ہیں

اے خواجہ درد نیست وگرنہ طبیب ہست

ہم بہانے باز ہیں،بس ہمارے پاس بہت بہانے ہیں کہ فرصت نہیں اور وقت نہیں ہے۔ بس ہم پڑھنا نہیں چاہتے ورنہ پڑھنے والے تو ایسی مصروفیت ، بڑھاپے اور بیماری کے اندر بھی اتنی کثرت سے درود شریف پڑھنے کا معمول رکھتے تھے اور اسی وجہ سے اللہ پاک نے ان کو یہ درجہ عطا فرمایا

●اصلاحی بیانات مفتی عبد الروف صاحب دامت برکاتہم●

جمعۃ المبارک اور درود شریف 

۔🌹 سيدنا انس بن مالک رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: جمعے کے دن اور جمعے کی رات مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو ؛ پس جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہیے اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ [صحيح الجامع : ١٢٠٩]

۔🌹 رسول اللہ ﷺ پہ کثرت سے درود؛ تمام غموں سے نجات اور گناہوں کی بخشش کا سبب ہے۔ [ترمذی : ٢٤٥٧ (حسن)] 

۔🌹 جناب سعید بن عمیر انصاری سے مروی ہیے وہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌ﷺ ‌نے فرمایا : میری امت میں سے جس شخص نے خلوص سے مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھا، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے، اس کے دس درجات بلند کرتا ہیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دس غلطیاں مٹائی جاتی ہیں۔  [الصحيحة رقم ٣٣٦٠] 

۔🌹 سیدنا ابو ہریرہ‌ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌ﷺ ‌نے فرمایا: مجھ پر درود بھیجو کیوں کہ تمہارا مجھ پر درود بھیجنا تمہارے لیے پاکیزگی کا باعث ہے۔ 

 [الصحيحة رقم ٣٢٦٨] 

۔🌹 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجنے والا شخص روز قیامت میرے سب سے زیادہ قریب ہو گا۔ [اسنادہ حسن، رواہ الترمذی]

۔🌹 اللہ کے بندو ... اپنے نبی ﷺ پر درود کو لازم پکڑو، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہیے تو اس کی زبان پر درود کو جاری و ساری کر دیتا ہے۔

 [امام ابن الجوزي رحمه الله - بستان الواعظين: ٣٠٠/١] 

۔🌹 نبى ﷺ پر درود بھیجنا با برکت ترین، بہت فضیلت والے اور دین و دنیا کیلیے بہت نفع بخش کاموں میں سے ہے۔  [امام سخاوی رحمه الله - القول البديع : ١٠٩] 

۔🌹 اگر بندہ نبی کریم ﷺ پر اپنی سانسوں کے برابر بھی درود پڑھے تو آپ کا حق ادا نہ ہو۔ [امام ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ - جلاء الأفهام: 388]

Comments