1348) ہم رمضان المبارک کیسے گذاریں؟
رمضان المبارک کی تیاری کے لیے چند اہم ہدایات و نصائح
۔🌹حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوتا (سنن ابن ماجہ)
یعنی بہت سے ایسے مسلمان ہیں جو رمضان المبارک میں بھی گناہوں سے باز نہیں آتے، فضولیات اور گناہ کے کاموں میں مشغول رہتے ہیں کہ کسی طریقے سے ٹائم پاس ہو . ایسے لوگوں کو روزے کا کامل اجر و ثواب بالکل بھی نہیں ملتا
لہذا فرصت کے اوقات میں رمضان المبارک میں خوب عبادت کرنی چاہیے اور بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے
۔🍃 *1- فرائض و واجبات کی ادائیگی اور توبہ استغفار کریں۔
فرائض و واجبات کی ادائیگی کا اہتمام کریں،اگر آپکے ذمے میں قضا نمازیں ہوں تو ادائیگی کی ترتیب بنائیں، سابقہ زندگی کی تمام لغزشوں پر سچی توبہ کریں، دل کو گناہوں اور برے خیالات سے پاک کریں،آنکھ،کان، زبان، ہاتھ، پاؤں اور دل و دماغ غرض جسم کے کسی بھی حصے سے صادر ہونے والے گناہوں پر پکی توبہ کریں تاکہ رمضان المبارک کی آمد سے پہلے اسکا بہترین طریقے سے استقبال ہو۔
۔🍃 *2- رمضان المبارک کے مسائل سیکھیں اور سکھائیں۔
روزہ، تراویح، صدقۃ الفطر، زکوۃ، اعتکاف اور دیگر احکامات ابھی سے سیکھیں اور سکھائیں۔ *اس سلسلے میں ہمارے نصیحت و اصلاح گُروپ کو خصوصی توجہ دیں کیونکہ اس گُروپ میں آپکی بہترین رہنمائی کی ہر وقت کوشش کی جاتی ہے
۔🍃 *3- اپنے نفس کو تقوی کا پابند بنائیں۔
اپنے نفس کو ابھی سے تقوی کا پابند بنائیں، کیونکہ رمضان المبارک تقوی کی عملی تربیت گاہ اور اللہ رب العزت نے رمضان المبارک میں روزوں کی فرضیت کا اہم مقصد تقوی وپرہیز گاری کا حصول بتایا ہے۔
۔🍃 *4- صلہ رحمی میں جلدی کریں۔
قطع رحمی یعنی رشتے ناطے توڑنا بہت بڑا گناہ ہے، قطع رحمی کی وجہ سے دعائیں قبول نہیں ہوتیں، لہذا رمضان آنے سے قبل اس سنگین گناہ سے توبہ اور رشتہ داروں سے صلہ رحمی کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے: اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ قطع رحمی یعنی رشتے ناطے توڑنے کا معاملہ کیا جائے تب بھی وہ صلہ رحمی کرے۔
(صحیح بخاری)
۔🍃 *5- اپنا دل صاف کریں۔
ہمارا دل، نفرت، جذبہ، انتقام اور حسد کی آگ میں جلتا رہتا ہے، دل میں نفرت اور کینہ رکھنے والے کی اللہ تعالیٰ مغفرت نہیں فرماتے، لہذا رمضان آنے سے قبل اپنے دل کو ان فضول مصروفیات سے فارغ کر کے خالص عبادات کی طرف اسے متوجہ کریں، سب کو دل سے معاف کردیں کسی کا کینہ اپنے دل میں نہ رکھیں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: دل کے صاف ہونے سے کیا مراد ہے؟ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: وہ متقی اور صاف ستھرا دل جس میں نہ گناہ ہو نہ بغاوت، نہ ہی اس میں کسی کا کینہ ہو اور نہ کسی کے بارے میں حسد۔
(سنن ابن ماجہ)
۔🍃 *6-* دعاؤں کا معمول بنائیں۔
رمضان المبارک دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے، لہذا ابھی سے اپنے آپ کو لمبی دعاؤں کا عادی بنائیں، بہتر تو یہ ہے کہ رمضان سے قبل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول دعاؤں کے الفاظ زبانی یاد کیے جائیں، مسنون الفاظ پر مشتمل دعاؤں میں تاثیر بھی زیادہ ہوتی اور قبولیت کا امکان بھی۔ تاہم اپنی زبان میں خوب کثرت سے ﺩﻋﺎئیں مانگنا بھی عبادت ہے۔
۔🍃 *7-* اپنے آپ میں صدقہ کرنے کی عادت ڈالیں۔
ابھی سے روزانہ کچھ نہ کچھ صدقہ کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ رمضان المبارک میں سخاوت کرنا آسان ہو جائے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم سب لوگوں میں زیادہ سخی تھے اور رمضان المبارک میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جُود و سخا تیز چلتی خوشگوار ہوا سے بھی زیادہ ہوجاتی۔
(صحیح بخاری)
۔🍃 *8-* کثرت تلاوت کا معمول بنائیں۔
رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے خوش قسمت لوگ اس ماہ میں تلاوت کی کثرت کا معمول بناتے ہیں لہذا ابھی سے تلاوت قرآن کو زیادہ وقت دینا شروع کریں تاکہ رمضان کی آمد تک آپ کثرت سے تلاوت کرنے کے عادی بن جائیں نیز اگر آپ حافظ قرآن ہیں تو ابھی سے قرآن کریم دہرانا شروع کر دیں۔
۔🍃 *9-* شب بیداری کی عادت ڈالیں۔
رمضان میں راتوں کی عبادات (تراویح، تہجد وغیرہ) کا دورانیہ بڑھ جاتا، ان عبادات کو بہترین انداز میں اور بلا تھکاوٹ سر انجام دینے کے لیے ضروری ہے کہ ابھی سے شب بیداری اور نفلی عبادات کا اہتمام کریں اور اپنے بدن کو عبادات کی کثرت کا عادی بنائیں تاکہ رمضان کی راتوں میں دقت پیش نہ آئے۔
۔🍃 *10-* انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال کافی حد تک کم کریں۔
رمضان میں اوقات کی قدردانی بڑی اہم ہے، آج کل انٹرنیٹ وسوشل میڈیا وقت کے ضیاع کا بڑا سبب بن رہے ہیں، لہذا رمضان سے قبل ان کے استعمال کو ختم یا محدود کرنے کی کوشش کریں، امام مالکؒ ودیگر اسلافؒ کا تو یہ تک معمول تھا کہ رمضان آتے ہی علمی مجالس بھی موقوف فرما دیتے اور تلاوت قرآن میں مشغول ہو جاتے۔
البتہ صرف اصلاح نفس کی پوسٹ دیکھنا مناسب ہے تاکہ اصلاحی فائدہ پہنچتا رہے۔
۔🍃 *11-* ٹی وی،کیبل نیٹ ورک سے احتراز کریں۔
ٹی وی یا کیبل نیٹ ورک خرافات کا مجموعہ ہے لہذا رمضان کی آمد سے قبل اس سے جان چھڑانے کی کوشش کریں ٹی وی پر رمضان نشریات کے نام پر اکثر پروگرام غیر شرعی اور مخلوط ہیں ایک آدھ دینی پروگرام درست بھی ہو تو اسے بنیاد بنا کر ٹی وی کے سامنے وقت ضائع کرنا ہوشمندی نہیں کیونکہ دینی پروگرامز کے دوران اشتہارات میں موسیقی اور نامحرم لوگ رمضان کی روحانیت ختم کرنے کے لیے کافی ہیں۔
۔🍃 *12-* رمضان سے پہلے پہلے خریداری کر لیں۔
رمضان عبادت کا مہینہ ہے شاپنگ وخریداری کا نہیں نیز رمضان میں رش اور مہنگائی کی وجہ سے وقت اور پیسے کا ضیاع ہوتا ہے لہذا رمضان کی آمد سے قبل ہی عید کی شاپنگ مکمل کر لیں اور باقی رشتہ داروں اور دوست احباب کو بھی یہ بات سمجھائیں۔
۔🍃 *13-* رمضان المبارک کے لیے کاموں کا بوجھ ہلکا رکھیں۔
گھر میں کوئی تعمیراتی یا رنگ وروغن کا کام کروانا ہو، مشین کی مرمت ہو، گاڑی یا سواری کا کوئی لمبا اور پیچیدہ کام ہو اسی طرح دفاتر وکارخانوں کے محنت طلب پروجیکٹ ہوں تو انہیں رمضان المبارک سے پہلے پہلے نمٹانے کی کوشش کریں۔
۔🍃 *14-* نظام الاوقات ترتیب دیں۔
رمضان المبارک سے قبل اپنا نظام الاوقات مرتب کریں، جس میں صبح اٹھ کر تہجد، ذکر، دعائیں، سحری، نماز فجر اور تلاوت سے لے کر افطاری، تراویح ودیگر معمولات تک کے لیے مناسب وقت متعین ہو اور نیند و آرام کی بھی بھر پور رعایت رکھی جائے۔
۔🍃 *15-* اپنے نوکر، خادم اور ملازم پر کاموں کا بوجھ ہلکا کریں۔
رمضان المبارک کی آمد سے قبل نوکر وملازمین سے مشکل کام کروا لیں تاکہ روزے کی حالت میں ملازمین پر کام کا بوجھ ہلکا رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص رمضان کے مہینے میں اپنے غلام (یاخادم،ملازم) کے بوجھ کو ہلکا کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرماتے ہیں،اور اسے (جہنم کی) آگ سے آزادی عطا فرماتے ہیں۔(مشکوۃ المصابیح)
۔🍃 *16-* مالی گنجائش ہو تو عمرے کی ترتیب بنائیں۔
رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، لہذا صاحب مال لوگ ابھی سے عمرے کی ترتیب بنائیں، اسی طرح مسجد حرام اور مسجد نبوی میں اعتکاف اور نمازوں کا ثواب دیگر مساجد سے بہت زیادہ ہے، یہ ثواب حاصل کرنے کی ابھی سے کوشش کریں۔
۔🍃 *17-* مرد حضرات زیادہ سے زیادہ وقت مسجد میں گزاریں اور خواتین گھر پر ہی جائے نماز پر عبادت کے لئیے وقت دیا کریں۔
آجکل عموماً مسلمان بھائی حضرات کا دل مسجد میں نہیں لگتا، لہذا اُنہیں چاہئیے کہ ابھی سے نمازوں کے بعد کچھ دیر مسجد میں نفلی اعتکاف کی نیت سے ٹھہریں اور مسجد میں دل لگانے کی مشق کریں تاکہ رمضان کے آخری عشرے کے مسنون اعتکاف میں بیٹھنا آسان ہو جائے۔خواتین بھی اپنی اولاد کو یہی ترغیب دیں۔
۔🍃 *18-* ابھی سے نیند کم کرنے کی عادت ڈالیں۔
اگر آپ 8 گھنٹے سونے کے عادی ہیں تو 6 گھنٹے سونے کی عادت ڈالیں تاکہ رمضان میں تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے، البتہ تھکاوٹ سے بچنے کے لیے دن میں تھوڑی دیر آرام(قیلولہ) کر لینا مسنون بھی ہے اور تہجد پڑھنے میں معین و مددگار بھی۔
۔🍃 *19-* مرد حضرات چالیس دن تک تکبیر اُولیٰ کے ساتھ نمازیں پڑھیں۔
اس کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے، نیز ماہ شعبان کے آخری عشرے اور رمضان المبارک کے تیس دنوں میں اس کا اہتمام نسبتا زیادہ آسان ہے، لہذا تکبیر اولیٰ کے ساتھ پنج وقتی نمازیں باجماعت پڑھنے کی ابھی سے ترتیب بنائیں۔
خواتین کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ گھر کے مرد حضرات کو نماز باجماعت پڑھنے کی ترغیب دیں۔
۔🍃 *20-* بعض مسلمان بھائی سگریٹ، نسوار، پان ودیگر نشہ آور اشیاء کے عادی ہوتے ہیں لہذا اُنکی خدمت میں عرض ہے کہ اس کا استعمال ابھی سے محدود کریں اور کوشش کریں کہ ان سے جان چھڑالی جائے تاکہ روزے کی حالت میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، رمضان المبارک نشہ آور اشیاء سے جان چھڑانے کا بہترین موقع ہے اوراس میں ہمت، حوصلہ اور اللہ سے مدد مانگتے ہوئے ان آفات سے باآسانی جان چھڑائی جا سکتی ہے۔
۔🍃 *21-* غیر ضروری ملاقاتوں کا سلسلہ محدود کریں۔
رمضان میں تقاریب، ملاقاتوں اور دعوتوں کا سلسلہ بھی محدود کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں صرف ہو سکے، البتہ بیمار کی عیادت اور تیمارداری اسی طرح مسلمان بھائیوں کو میت کی تجہیز وتکفین اور نماز جنازہ میں شرکت کے مواقع جتنے مل سکیں، غنیمت سمجھیں۔
۔🍃 *22-* چھوٹی چھوٹی سورتیں زبانی یاد کریں۔
قرآن کریم کی چھوٹی چھوٹی سورتیں ابھی سے یاد کرنا شروع کریں تاکہ نوافل اور تہجد میں انہیں پڑھا جا سکے، عام طور پر صرف ایک یا دو سورتیں یاد ہوتی ہیں،اور انہی کو بار بار دہرایا جاتا ہے، جو مناسب نہیں۔
۔🍃 *23-* بچوں کو روزے کی عادت ڈالیں۔
سمجھدار نابالغ بچوں کو بھی روزے کے حوالے سے خصوصی ترغیب دیں اور ان کی ذہن سازی کریں تاکہ رمضان میں انہیں روزے رکھنے کی عادت پڑ جائے اور بچوں کے زندگی بھر کے روزے آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہوں.
۔🍃 *24-* کم کھانے کی عادت ڈالیں۔
رمضان سے پہلے پہلے کھانے کی مقدار خاص تناسب سے کم کرنی چاہییے تاکہ زیادہ کھانے کا بوجھ، بد ہضمی اور سستی عبادات میں رکاوٹ نہ بنے۔اور ویسے بھی زیادہ کھانا خلاف سُنت طریقہ بھی ہے اور صحت کے لئیے نقصان دہ بھی۔
۔🍃 *25-* اس رمضان کو گذشتہ رمضان سے ممتاز کریں۔
کسی ایسی عبادت کی ترتیب بنائیں جو آپ کے نامہ اعمال میں اس رمضان کو گذشتہ رمضانوں سے ممتاز کر دے مثلا: تیسواں پارہ زبانی یاد کر لیں، یا سورۃ رحمٰن، سورۃ یسین، سورۃ الملک، سورۃالم سجدہ زبانی یاد کر لیں، یا کسی دینی مدرسہ کے طالب علم کی کفالت کا بندوبست کر لیں، یا پانی کی اشد ضرورت ہو تو ٹیوب ویل، کنواں یا ٹھنڈے پانی کا پلانٹ لگوا دیں، یا مساجد ومدارس کے ساتھ پر خلوص تعاون کریں، یا مستحق طلبہ کے لیے فیسوں اور یونیفارم وغیرہ کا بندوبست کر لیں، یا کسی غریب لڑکی کی رخصتی کے اخراجات کا بندوبست کر دیں وغیرہ وغیرہ۔
*اگر آپکے پاس گنجائش نہ ہو تو پھر کسی اور رشتہ دار یا دوست کو ترغیب دیں*۔
۔🍃 *26-* مالی حقوق سے متعلق مسائل سیکھیں۔
عام طور پر رمضان المبارک میں مالی حقوق جیسے زکوۃ، عشر، صدقۃ الفطر، نذر وغیرہ کی ادائیگی کی جاتی ہے، لہذا ضروری ہے کہ ان سے متعلق تفصیلی احکامات پہلے سے معلوم کر لیے جائیں، اسی طرح جو مالی حقوق ذمہ میں ہوں (جیسے شوہر پر بیوی کا مہر یا کسی کا قرض وغیرہ) اور ادا کرنے کی صلاحیت بھی ہو تو رمضان سے پہلے ادا کرلیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔(صحیح بخاری)
۔🍃 *27-* رات جلدی سونے کی عادت ڈالیں۔
گھر میں یا دوستوں کی فضول مجالس، گپ شپ کی محافل اور رات گئے تک سر انجام دی جانے والی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کریں تاکہ آپ رمضان میں تراویح کے فورا بعد بلا تاخیر سو سکیں، یاد رکھیں تہجد اور سحری میں ہشاش بشاش اٹھنے کا دارو مدار بروقت سونے پر ہے *اور نماز عشاء کے بعد غیر ضروری باتوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ نے منع بھی فرمایا ہے تاکہ بعد میں فرض عبادت کی ادائیگی میں غفلت اور سُستی نہ برتی جائے۔*
۔🍃 *28-* دعاؤں کا اہتمام کریں۔
رمضان المبارک کی تیاری کے حوالے سے درج بالا ہدایات وتجاویز پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی سے رمضان المبارک کی روحانیت و برکات کے حصول کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں۔اور بار بار نفس کو ملامت کریں کہ کیوں مجھے رمضان کے مبارک مہینے میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کی توفیق حاصل نہیں ہوتی کیوں میں گُناہوں کو نہیں چھوڑ پاتا کب تک میں اپنے ربّ کی نافرمانی میں لگا رہوں گا؟
*بار بار اس عمل کی برکت سے نفس کی اصلاح کافی حد تک ممکن ہو سکے گی ان شاء اللہ۔*

Comments
Post a Comment