1422) قرآن کی قدر و عظمت

 قرآن کی قدر و عظمت

شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم العالی

حقیقت یہ ہے آج لوگوں کو قرآن کریم کی اس نعمت اور دولت کی قدر معلوم نہیں ،بچے قرآن کریم پڑھتے ہیں حفظ کرتے ہیں اور الحمدللہ حسب توفیق ہم اس پر خوشی منا لیتے ہیں ، لیکن سچی بات یہ ہے کہ اس قرآن کریم کی دولت کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ ہمیں آپ کو اس دنیا میں رہتے ہوئے ہو ہی نہیں سکتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قرآن کی دولت ہمیں گھر بیٹھے چھپر پھاڑ کر عطا کر دی۔ہمیں اس دولت کو حاصل کرنے کے لیے اس نعمت کے حصول کے لیے کوئی جدو جہد نہیں کرنی پڑی ہم نے کوئی محنت نہیں اٹھائی کوئی قربانی نہیں دی کوئی پیسہ خرچ نہیں کیا کوئی جان و مال کی قربانی اس راہ میں پیش نہیں کی اس واسطے کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ ہمیں آپ کو نہیں، اس دولت قرآن کریم کی قدر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے پوچھیے جنہوں نے ایک آیت کو حاصل کرنے کے لیے اپنی جان کی،مال کی، آبرو کی،خاندان کی،جزبات کی ایسی قربانیاں دی کہ  اسکی مثال ملنی مشکل ہے۔

 قرآن کریم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

قرآن کریم کی ایک ایک آیت کو سیکھنے کے لیے جو دشواریاں اٹھائیں ہیں ،جو محنتیں اٹھائیں ہیں، انکا حال آج ہمیں معلوم نہیں، قرآن کریم ہمارے سامنے ایک نہایت خوش نما مجلد کتاب کی صورت میں موجود ہے۔ مدرسہ کھلا ہوا ہے۔استاد پڑھانے کے لیے موجود ہے اور ہمارا کام صرف یہ ہے کہ نوالہ بنا کر منہ میں کے جائیں اور حلق سے اتار دیں ،لیکن وہ بھی صحیح معنوں میں جس طرح اتارنا چائیے اس طرح نہیں اترتا

قرآن کریم کی قدر ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ہوچھیے جنہوں نے ایک ایک چھوٹی چھوٹی آیت کے خاطر  ماریں کھائیں ہیں کفار کے ظلم و ستم برداشت کیے ہیں اور کس کس طرح اس قرآن کریم کا علم حاصل کیا ہے ،  صحیح بخاری میں ایک واقعہ آتا ہے ، ایک صحابی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں چھوٹے بچے تھے، اور مدینہ منورہ سے بہت فاصلہ پر ایک بستی میں رہتے تھے ، مدینہ طیبہ آنا جانا ممکن نہ تھا۔ مسلمان ہو چکے تھے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ طیبہ جا کر علم حاصل کرنا ، انکی اپنی ذاتی مجبوری کی وجہ سے مشکل تھا۔ وہ خود اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں یہ کرتا تھا کہ روزانہ اس سڑک پر چلا جاتا جہاں سے مدینہ طیبہ کے قافلے آیا کرتے تھے جو کوئی قافلہ آتا تو ان سے پوچھتا کہ بھائی اگر آپ لوگ مدینہ طیبہ سے آ رہے ہیں تو کیا آپ لوگوں میں سے کسی کو قرآن کریم کی کوئی آیت یاد ہے؟ اگر کسی کو قرآن کریم کی کوئی آیت یاد ہو تو مجھے سکھا دیجئے ،قافلے میں کسی کو ایک آیت یاد ہوتی ،کسی کو دو آیتیں یاد ہوتیں کسی کو تین آیتیں یاد ہوتیں ، اس طرح ان قافلے والوں سے سن سن کر ،اور ان کے پاس جا جا کر میں نے ایک ایک دو دو آیتیں حاصل کیں۔۔۔۔۔اور الحمدللہ اس طرح میرے پاس قرآن کریم کا ایک بڑا زخیرہ محفوظ ہو گیا۔

ان سے اس قرآن کریم کی قدر پوچھئیے، جن کو ایک ایک آیت حاصل کرنے کے لیے قافلہ والوں کی منت سماجت کرنی پڑ رہی ہے ،لیکن ہمارا پاس پورا قرآن پاک تیار شکل میں موجود ہے ۔جن اللہ تعالیٰ کے بندوں نے اسے ہم تک پہنچایا ، جن محنتوں ، قربانیاں اور مشکلات سے گزر کر اس کو ہمارے لیے تیار کر کے چھوڑ گئے ۔ہمارا کام صرف اتنا رہ گیا یے کہ اسکو پڑھ لیں ،پڑھنا سیکھ لیں۔۔اور اس کو سمجھنے کی کوشش کریں اور پھر عمل کریں،  گویا پکی پکائی روٹی تیار ہے صرف کھانے کی دیر ہے ، اس واسطے قدر نہیں معلوم ہوتی ۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بہنوئی اور بہن کا واقعہ (اس واقعے کو ہر مسلمان جانتا ہے)وہ دونوں جانتے تھے اگر ہم یہ قرآن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے بیٹھ کر پڑھیں گیں (اس وقت حضرت عمر مسلمان نہیں ہوئے تھے) تو وہ ہمیں پڑھنے نہیں دیں گے بلکہ ہمیں سزا دیں گے۔اس واسطے چھپ چھپ کر پڑھتے ،ایک روز حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے ارادے سجا رہے تھے کسی نے کہا کہ دوسروں کو اسلام سے روکتے ہیں، اپنے گھر جا کر خبر نہیں لیتے ، وہاں پر کیا ہو رہا ہے، واپس آ کر دیکھا کہ بہن اور بہنوئی قرآن کریم کھولے بیٹھے ہیں ۔اور وہ اس وقت سورہ طٰہ کی تلاوت کر رہے تھے ( لمبا واقعہ ہے جو آپ حضرات کو معلوم ہے) 

بہرحال ان مشکلات کے دور میں ایک ایک آیت صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس طرح حاصل کیا ہے ۔اس لیے وہ اس کی قدر و قیمت پہنچانتے تھے،چونکہ ہم اور اپجو بیٹھے بیٹھائے یہ دولت مل گئ ہے اس لیے اسکی قدر نہیں پہنچانتے، جب تک یہ آنکھیں کھلی ہوئی ہیں,جب تک یہ دنیا کا نظام چل رہا ہے ،جب تک موت نہیں آتی۔اس وقت تک ذہن دنیا کی ظاہری چمک دمک میں ،اور دوسری چیزوں میں لگا ہوا ہے ۔ایک وقت آنا ہے جب دنیا سے جانا ہے جب انسان قبر کے اندر پہنچے گا،وہاں اس قرآن کریم کی دولت اور عظمت کا پتہ چلے گا،وہاں جاکر اس نعمت کا پتہ چلے گا،ایک ایک آیت پر کیا کچھ انوار ،کیا کچھ نعتیں اور کیا کچھ انعامات ملیں گے ۔

قرآن کریم کی تلاوت کا اجر

ایک حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب کوئی شخص قرآن کریم پڑھتا ہے ۔تو اس کے لیے ایک حرف کی تلاوت پر دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔پھر تفصیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی کہ میں نہیں کہتا کہ الم ایک حروف ہے۔بلکہ الف ایک حرف،لام ایک حرف،میم ایک حرف ،تو جب الم پڑھا تو سس الم کے پڑھنے سے نامہ اعمال میں تیس نیکیوں کا اضافہ ہو گیا ۔

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید کو بغیر سمجھے پڑھنے سے کیا حاصل ؟

 یہ تو ایک نسخہ ہدایت ہے، اس کو سمجھ کر انسان پڑھے،اور اس پر عمل کرے تو اسکا فائدہ حاصل ہو گا ,محض طوطے مینا کی طرح کی اس کو رٹ لیا ،اس سے فائدہ کیا؟

تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ یہ قرآن نسخہ شفا ہے ہی، لیکن اگر کوئی محض اسکی تلاوت کیا کرے ۔بغیر سمجھے بھی اس پر بھی اللہ تبارک و تعالیٰ نے اتنی نیکیاں لکھی ہیں کہ ایک الم  کے پڑھنے پر تیس نیکیوں کا اضافہ ہو جاتا ہے

در حقیقت مفلس کون ہے؟

حدیث میں آتا ہے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے دریافت فرمایا ۔کہ یہ بتاؤ ،مفلس کسے کہتے ہیں ؟مفلس کے معنی کیا ہیں ؟صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا ،یا رسول اللہ!مفلس تو اس کو کہتے ہیں جس کے پاس دینار و درہم نہ ہوں یعنی جس کے پاس روپے پیسہ نہ ہو۔اس زمانے میں درہم چلتے تھے اشرفیاں سونے کی اور درہم چاندی کے،تو جس کے پاس روپے پیسہ نہ ہو ،دولت نہ ہو وہ مفلس ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حقیقی مفلس نہیں ۔حقیقی مفلس کون یے؟ میں تمہیں بتاتا ہوں حقیقی مفلس وہ ہے جب قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو نیکیوں سے اس کا میزان عمل کا پلہ بھرا ہوا تھا،بہت سی نیکیاں لے کر آیا تھا، نمازیں پڑھی تھیں،روزے رکھے تھے،تسبیحات پڑھی تھیں،اللہ کا زکر کیا تھا ،تعلیم کی تھی،تبلیغ کی تھی،دین کی خدمت انجام دی تھی ،بہت ساری نیکیاں اللہ تبارک و تعالیٰ کے دربار میں لے کر آیا تھا ۔

لیکن جب نیکیاں پیش ہوئیں تو معلوم ہوا کہ نیکیاں تو بہت کی تھیں نماز بھی پڑھی،روزہ بںی رکھا،زکوۃ بھی دی،حج بھی کیا،سب کچھ کیا۔لیکن بندوں کے حقوق ادا نہ کیے کسی کو مارا،کسی کو برا کہا،کسی کا دل دکھایا،کسی کو تکلیف پہنچائی۔کسی کی غیبت کی،کسی کی جان پر حملہ آور ہوا۔کسی کا مال کھایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی کی آبرو پر حملہ کیا۔یہ اللہ کے بندوں کے حقوق ضائع کئے ،نمازیں پڑھی تھیں،روزے رکھے تھے عبادتیں کی تھیں،قرآن کریم کی تلاوت کی تھی سب کچھ کیا تھا۔لیکن لوگوں کو اپنے ہاتھ سے اپنی زبان سے مختلف طریقوں سے تکلیف پہنچائی تھی،اب جب اللہ تبارک وتعالیٰ کی باتگاہ میں پیش ہوا۔وہاں تو عدل ہے انصاف ہے۔اس لیے جن کے حق مارے تھے ان سے کہا گیا کہ تم اس سے اپنا حق وصول کرو۔جس کا پیسہ کھایا تھا اس سے پیسے وصول کرے اب وہاں کوئی پیسہ تو ہیں نہیں۔ نہ روپیہ نہ پیسہ نہ دولت وہاں دنیا کی سب کرنسیاں ختم ہو چکیں وہ حق کیسے ادا کرے؟

باری تعالیٰ فرمائیں گے یہاں کا سکہ روپیہ پیسہ نہیں ۔یہاں کا سکہ تو نیکیاں ہیں وہ نیک اعمال ہیں جو اس نے دنیا کے اندر کئے تھے۔لہذا اسی کے ذریعے تبادلہ ہوگا،چنانچہ جس کے پیسے کھائے تھے اس سے کہا جائیگا اس کی نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں سے لے لو،اس نے بہت ساری نفلی نمازیں پڑھی تھیں وہ سب ایک صاحب حق کو مل گئیں،دوسری نمازیں دوسرا صاحب حق لے گیا روزے تیسرا صاحب حق لے گیا،حج چوتھا صاحب حق لے گیا اور جتنے نیک اعمال کیے تھے ایک ایک کر کے لوگ لے جاتے رہے ۔یہاں تک کہ ساری نیکیاں ختم ہو جائینگی، وہ جتنا ڈھیر لے کر آیا تھا کہ وہ سارا ختم ہو گیا۔اب کچھ باقی نہیں ،کچھ لوگ پھر بھی کھڑے ہیں کہ پروردگار ہمارا حق تو رہ گیا ہے ہمارے بھی پیاے کھائے تھے ۔ہمیں برا بھلا کہا تھا،ہماری بھی غیبت کی تھی ،اس سے ہمارا بھی بفلہ دلوائیے لیکن اس کے پاس نیکیوں کا ذخیرہ تو ختم ہو گیا۔بدلہ کیسے دلوائیں ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اب راستہ یہ ہے کہ تمہارے جو گناہ ہیں وہ تمہارے نامہ اعمال سے مٹا کر اس کے نامہ اعمال میں ڈال دئیے جائیں،تم نے غیبت کی تھی تمہارے سے وہ گناہ معاف،وہ گناہ اسکو دے دیا جائے۔تم نے کوئی اور ناجائز کام کیا تھا ،اس ناجائز کام کا گناہ تمہارے نامہ اعمال سے مٹا کر اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیا جائے۔

تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیکیوں کا ڈھیر لے کر آیا تھا لیکن بندوں کے حقوق کا معاملہ ہوا تو بجائے اس کے لیے کہ وہ نیکیقں باقی رہتیں الٹا لوگوں کے گناہ بھی اس کی گردن پر ڈال دئیے گئے،فرمایا حقیقت میں مفلس وہ ہے جو نیکیاں لے کے آیا تھا  اور گناہوں کا بوجھ لے کر جا رہا ہے۔

حقوق العباد کی اہمیت

اس لئے یہ حقوق العباد بڑے ڈرنے کی چیز ہے، لوگوں کے حقوق مارنا خواہ پیسے کی شکل میں ہو یا عزت کی شکل میں ہو،یا جان کی شکل میں ہو ،یہ اتنا خطرناک معاملہ ہے، کہ اور  گناہ توبہ سے معاف ہو جاتے ہیں لیکن حقوق العباد توبہ سے معاف نہیں ہوتے۔

اگر کوئی شخص شراب پئیے معاذاللہ ،زنا کرے،جوا کھیلے،کوئی اور گناہ کرے اور کتنے ہی بڑے سے بڑے گناہ کئے ہوں اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور حاظر ہو کر سچے دل سے توبہ کرے،اور استغفر اللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ پڑھ لے تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ۔جو ایک مرتبہ گناہ سے تائب ہو جائے تو ایسا ہو جاتا ہے جیسے اس نے کبھی گناہ کیا ہی نہیں،سب معاف فرما دیتے ہیں۔

لیکن اگر بندوں کے حقوق مارے، مثلاً ایک پیسہ بھی کسی کا نا جائز کھا لیا۔کسی کو بر بھلا کہ دیا۔کسی کا دل دکھا دیا ،یہ ایسا گناہ ہے کہ اس کی معافی کی کوئئ شکل نہیں۔یہ توبہ سے بھی معاف نہیں ہوتا۔جب تک وہ صاحب حق معاف نہ کرے،جس کا حق سلب کیا ہے،اس واسطے اس معاملے میں بہت ہی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

ابھی مدرسہ دیکھنے کے لیے بالائی حصہ پر جانا ہوا۔بڑا دل خوش ہوا اللہ تبارک و تعالیٰ اس مدرسہ کی ظاہری وباطنی ہر طرح کی ترقیات عطا فرمائے ،یہاں دین کے سچے طالب پیدا فرمائے۔ماشاءاللہ بڑا کام پو رہا ہے،لیکن جب اوپر بیٹھس تو لاوڈ اسپیکر کی آواز اتنی تیز کان میں آرہی تھی،باہر بھی،اوپر بھی کہ چاروں طرف اسکا شور مچ رہا تھا،میں نے گزارش کی کہ اسکی آواز ہلکی کرنی چائیے ،اور ساتھ ہی گذارش کی کہ کسی ایک جگہ پر بات چیت سننے کے لیےلوگ جمع ہوں تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ آواز اتنی ہونی چاہیے۔جتنی کہ حاظرین کو پہنچانے کے لیے کافی ہو،لیکن سارے محلہ کو سارے شہر کو سنانا کئی وجہ سے جائز نہیں،

سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کوئی اللہ کا بندہ کسی گھر میں بیمار ہے اور سونا چاہتا ہے اور اس آواز کی وجہ سے اس کو تکلیف پہنچ رہی ہے اس کی بیماری میں اضافہ ہو رہا ہے یا کوئی اور شخص پے جو بیمار تو نہیں لیکن سونا چاہتا ہے اور ہماری اواز کی وجہ سے اسکی نیند میں خلل آرہا  ہے اسکی نیند خراب ہو رہی ہے۔ہم خوش ہیں کہ ہماری تقریر کی آواز دور دور تک پہنچ رہی ہے قیامت کے دن پوچھ ہو گی کہ میرا ایک بندہ تمہاری وجہ سے تکلیف میں تھا بتاؤ تمہارے پاس اس کا کیا جواب ہے؟

Comments

Popular posts from this blog

1695🔆🥀) Fatwa (english/urdu)

🌅1543) More than 565 .... Topics

۔🔆🥀 1693) درود شریف و معلومات نبی ﷺ