۔1462🌻) ایصال ثواب کے لیے درود شریف پڑھنا
ایصال ثواب کے لیے درود شریف پڑھنا
ایک عورت حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے پاس آئی اور عرض کیا کہ میری لڑکی کا انتقال ہو گیا۔ میری یہ تمنّا ہے کہ میں اس کو خواب میں دیکھوں۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ عشاء کی نماز پڑھ کر چار رکعت نفل نماز پڑھ اور ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد الھٰکم التکاثر پڑھ اور اس کے بعد لیٹ جا۔ اور سونے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتی رہ۔
اس نے ایسا ہی کیا۔ اس نے لڑکی کو خواب میں دیکھا کہ نہایت ہی سخت عذاب میں ہے ۔تارکول لباس اس پر ہے، دونوں ہاتھ اس کے جکڑے ہوئے ہیں اور اس کے پاؤں آگ کی زنجیروں میں بندھے ہوئے ہیں۔ میں صبح کو اٹھ کر پھر حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے پاس گئی۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی طرف سے صدقہ کر شاید اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے تیری لڑکی کو معاف فرما دے۔
اگلے دن حضرت حسن رحمہ اللہ نے خواب میں دیکھا کہ جنّت کا ایک باغ ہے اور اس میں ایک بہت اونچا تخت ہے اور اس پر ایک بہت نہایت حسین جمیل خوبصورت لڑکی بیٹھی ہوئی ہے۔ اس کے سر پر ایک نور کا تاج ہے، وہ کہنے لگی حسن تم نے مجھے بھی پہچانا۔ میں نے کہا نہیں میں نے تو نہیں پہچانا۔ کہنے لگی میں وہی لڑکی ہوں جس کی ماں کو تم نے درود شریف پڑھنے کا حکم دیا تھا (یعنی عشاء کے بعد سونے تک) حضرت حسن رحمہ اللہ نے فرمایا تیری ماں نے تو تیرا حال اس کے بالکل برعکس بتایا تھا۔ جو میں دیکھ رہا ہوں۔
اس نے کہا کہ میری حالت وہی تھی جو ماں نے بیان کی تھی۔ میں نے پوچھا پھر یہ مرتبہ کیسے حاصل ہو گیا۔ اس نے کہا کہ ہم ستّر ہزار آدمی اسی عذاب میں مبتلا تھے جو میری ماں نے آپ سے بیان کیا، صلحاء میں سے ایک بزرگ کا گذر ہمارے قبرستان پر ہوا۔ انہوں نے ایک دفعہ درود شریف پڑھ کر اس کا ثواب ہم سب کو پہونچا دیا۔ ان کا درود اللہ تعالیٰ کے یہاں ایسا قبول ہوا کہ اس کی برکت سے ہم سب اس عذاب سے آزاد کر دیئے گئے اور ان بزرگ کی برکت سے یہ رُتبہ نصیب ہوا۔
(حوالہ : القول البدیع، فضائلِ درود، ص۱۰۱)
۔🌴 المواھب اللدنیہ میں امام قسطلانیؒ نے روایت کیا ہے کہ قیامت کے دن کسی مومن کی نیکیاں کم ہو جائیں گی اور گناہوں کا پلڑا بھاری ہوجائے گا تو وہ مومن پریشان کھڑا ہو گا۔ اچانک رسول اللہؐ میزان پر تشریف لائیں گے اور اپنے پاس سے بند پرچہ مبارک نکال کر اس کے پلڑے میں رکھ دیں گے ۔۔۔ جس کے رکھتے ہی اس کی نیکیوں کا پلڑا وزنی ہوجائے گا۔ اس شخص کو پتہ نہیں ہوگا کہ یہ کون تھے جو اس کا بیڑا پار کر گئے ۔ وہ پوچھے گا آپ کون ہیں ؟ اتنے سخی ، اتنے حسین و جمیل آپ نے مجھ پر کرم فرما کر مجھے جہنم کا ایندھن بننے سے بچا لیا اور وہ کیا پرچہ تھا جو آپ نے میرے اعمال میں رکھا ؟؟؟
رسول اللہ ؐکا ارشاد ہو گا : میں تمہارا نبی ہوں اور یہ پرچہ وہ درود ہے جو تم مجھ پر بھیجا کرتے تھے ۔

Comments
Post a Comment