1726) چار مغز

 


چار مغز کے فوائد

جب ہمیں چار مغز کی ضرورت ہوتی ہے تو ہم پنسار سٹور پر جا کر کہتے ہیں چار مغز دیں تو وہ جو چیز چار مغز کے نام پر دے رہے ہوتے ہیں وہ چار مغز نہیں ہوتی بلکہ صرف تربوز کے مغز دیے جاتے ھیں۔ اس لیے چار مغز کی جب بھی آپ کو ضرورت ہو تو خود ہی یہ چار چیزوں کے مغز الگ الگ خرید کر مکس کر دیا کریں۔

اصل چار مغز کے اجزاء یہ ہیں

۔1.مغز تخم خربوزہ

۔2.مغز تخم تربوز

۔3.مغز تخم خیار(کھیرا)

۔4.مغز تخم کدو۔

ان بیجوں کے فوائد

خربوزے کے بیجوں کی خصوصیت

نفع خاص۔ جگر کے سدوں کو کھولتا اور پیشاب جاری کرتاہے۔

مضر۔ طحال کیلئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خربوزے کے بیج میں مختلف قسم کے وٹامن موجود ہوتے ہیں جن میں بی 9، ب 6 اور پی پی جبکہ طاقتور اینٹی آکسیڈینٹس سی اور اے شامل ہیں جو انسان کے اعصابی نظام کے لیے مفید ہیں۔

خربوزے کا بیج بلڈ شوگر کو کم کرتا ہے

ماہرین کے مطابق خربوزے کے بیج بلڈ شوگر کو کم کرنے اور کم کثافت والے کولیسٹرول کو دور کرنے میں مدد کرتے ہیں، زنک کی اعلی مقدار کی وجہ سے خربوزے کے بیج خاص طور پر مردوں کے لیے فائدہ مند ہیں، زنک خربوزے کے بیجوں کو خوبصورتی کا حقیقی امرت بنا دیتا ہے۔

تربوز کا بیج 

مزاج ۔۔۔ سرد تر درجہ دوم۔

افعال۔

سرد و مرطوب مسمن بدن ملین صدر مسکن صفراء وخون ،مدر بول۔

استعمال۔

تخم تربوز کا لاغری جسم لاغری گردہ جوش خون زیادتی صفرا شدت عطش سوزش معدہ سرفہ حار نفث الدم اور حمیات حارہ میں زیادہ تر شیرہ نکال کر پلایا جاتاہے۔مبرد مرطب ہونے کے باعث یبوست دماغ اور سر میں شربا و ضماداً مستعمل ہے سل و دق میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔مدر بول ہونے کے باعث سوزش بول سوزاک اور عسرالبول جو کہ گرمی خشکہ کی وجہ سے‘‘ میں استعمال کیا جاتا ہے۔خون کے دباؤ کی زیادتی شریانوں کی صلابت میں زیادہ تر شیرہ نکال کر استعمال کیا جاتا ہے۔

جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ خون کے دباؤ کی زیادتی میں مغز تربوز بوجہ گلوکو سائیڈ کو کربوٹرین بہت فائدہ کرتا ہے۔اس سے بیاسی فیصد مریضوں میں دل پر بوجھ کم ہوجاتا ہے۔عروقی ساخت کی تندیلی رک جاتی ہے اور شریانوں کی لچک قائم رہتی ہے۔

نفع خاص۔ مدربول ،مسکن اور ملین صدر ۔

مضر۔ طحال کو۔

مصلح۔ نبات سفید ۔

ـ🍁 مقدار خوراک

پانچ سے سات گرام۔

بیج کا خشک پاؤڈر صبح خالی پیٹ اور سونے سے پہلے لینے سے انسانی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے اور اگر ایک چمچ شہد کے ساتھ اس کا استعمال کیا جائے تو زیادہ مفید رہے گا۔ اسی طرح اگر ایک گلاس دودھ میں ایک چمچ تربوزے کے بیج کا پاؤڈر ڈالا جائے تو پروسٹیٹ غدود کی بیماری دور ہوسکتی ہے۔

گردے کی پتھری کا مسئلہ

ایسے افراد جن کے گردے میں پتھری ہے ان کو چاہیے کہ وہ ایک کلو تربوز کا بیج 5 لیٹر پانی میں ڈال کر ابلالیں یہاں تک وہ پانی 3 لیٹر ہوجائے اس کے بعد پانی کو ٹھنڈا کرکے خاص مقدار میں پیئیں تو اس مسئلے سے چھٹکارہ ممکن ہے۔

کھانسی اور دیگر بیماری کے لیے فائدہ مند

جس طرح تربوز کا بیج مندرجہ بالا مسائل کو حل کرتا ہے اسی طرح کھانسی اور دیگر بیماریاں بھی اس سے دور ہوسکتی ہیں۔ بیج کے پاؤنڈر کو گرم پانی اور دودھ میں ملا کر استعمال کرنے سے فرق پڑے گا، کھانے سے پہلے ایک دن میں ایک ہی بار ایک چوتھائی کپ لینا ضروری ہے۔

کھیرا اور اس کے بیج

مزاج:سرد تر درجہ دوم۔

افعال و استعمال:کھیرے کو چھیل کر نمک کے ہمراہ کھاتے ہیں یہ خون اور صفراء کی حدت کو دور کرتاہے اور پیشاب بکثرت لاتا ہے ۔یرقان‘جوش خون کے بخاروں اور سوزش بول میں مفید ہے۔درد سرحار میں کھیرے کا سونگھنا اور اسکے چھلکوں کو پیشانی پر رکھنا درد کو تسکین دیتا ہے اور نیند لاتا ہے ۔کھیرا خفقان حار کیلئے بھی مفید بیان کیا جاتا ہے۔اس کا بھلبھلایا ہوا پانی تپ صفراوی اور خونی و بلغمی کو مفید ہے۔شدید بخاروں میں اس کی قاش سے تلوؤں کی مالش کی جاتی ہے۔پیشاب رک رک کر آتا ہو تو اس کے بیجوں کو شیرہ بنا کر پلاتے ہیں ۔

طب نبوی ﷺ اور کھیرا

کھیرا کا ذکر قرآن پاک سورۃ البقرہ کی آیت 61میں آیاہے۔اور توریت میں بھی ذکر موجود ہے۔

حضرت عبداللہ بن جعفرؓ روایت فرماتے ہیں:’’ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کی وہ کھجوروں کے ساتھ کھیرے کھا رہے تھے۔‘‘(بخاری ‘مسلم‘ابن ماجہ‘ترمذی)

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میری والدہ یہ چاہتی تھیں کہ میں جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جاؤں تو موٹی ہو کر جاؤں( کیونکہ عرب موٹی عورتوں کو پسند کرتے تھے )اس غرض کیلئے متعدد دوائیں دی گئیں مگر فائدہ نہ ہوا پھر میں نے کھیرا اور کھجور کھائے اور خوب موٹی ہوگئی۔

نفع خاص: دافع بے خوابی اور درد سرحار

مضر: سرد مزاجوں میں نفخ پیدا کرتا ہے۔\

کدو اور اس کے بیج

مزاج:سرد وتر۔

خوراک:پھل کا رس 50 سے 100 گرام،پتوں کا رس 10 سے 20 گرام اور گری تخم کدو کا سفوف 3 سے 6 گرام۔

فوائد:کدو پیشاب لاتا ہے۔سدے کھولتا ہے ۔گرمی کے بخاروں میں مفید ہے۔زبردست پیشاب آور ہے۔صفراوی و گرم مزاج والوں کے لئے موافق ہے۔خونی بواسیر و نفث الدم کو دور کرتا ہے۔نمکیات اور وٹامن اے،بی،سی،اس کے خاص اجزاء ہیں۔

مغز کدو شیریں:بدن کو موٹا کرتے ہیں۔منہ سے خون آنے و گرمی کی کھانسی میں مفید ہے۔پیاس بجھاتے ہیں۔پیشاب و مثانہ کی سوزش میں مفید ہیں۔روغن مغز کدو شیریں کی سر پر مالش کرنے سے بے خوابی کا عارضہ دور ہوتا ہے۔دماغ و دل کو طاقت دیتے ہیں۔ذائقہ شیریں ہے۔

کدو/گھیا قبض کشا ہے،ملین ہے،زود ہضم ہے۔کدو دل و جگر اور دماغ کو فرحت دیتا ہے۔بلڈ پریشر اور خون کی گرمی کو کدو ختم کرنے میں لاثانی ہے۔پیشاب کے امراض میں بے حد مفید ہےاور اگر پیشاب جل کر آتا ہو تو اسے جلد ختم کر دیتا ہے۔

کدو کے بیجوں کا تیل نکالا جاتا ہے۔جو سر کے بالوں کو بڑھاتا اور طاقتور بناتا ہے۔درد سر دورکرتا ہے۔سر کو ٹھنڈک دیتا ہے اور نیند آور ہے۔

تپ دق کے مریض کو اگر روزانہ کدو مصری ملا کر کھلایا جائے تو بے حد فائدہ دیتا ہےاور بتدریج مریض کو مرض تپ دق سے نجات مل جاتی ہے۔کدو کے گودے میں مصری ملا کر حاملہ عورت کو کھلانے سے خوب صورت بچہ پیدا ہوتا ہے۔یہ گودا اور مصری حمل کے دوران کھلاتے رہنے سے حمل گرنے کا خدشہ باقی نہیں رہتا ۔حاملہ عورت تین ماہ کدو اور مصری متواتر استعمال کرے تو اس کے ہاں اولاد نرینہ پیدا ہوگی۔کدو کا گودہ درد گردہ میں بے حد مفید اور شافی ہے۔گردہ کے درد کے دوران یہ گودہ گرم کر کے درد کے مقام پر رکھ دینے سے گردہ کا درد بند ہوجاتا ہے۔کدو کھانے سے دائمی قبض دور ہو جاتا ہے۔

کدو کا مربہ جسم اور دماغ کو تازگی اور طاقت اور تراوٹ دیتا ہے۔کدو کا گودا بچھو کے ڈنک والے مقام پر ملنے سے اور اس کا رس مریض کو پلانے سے درد بند ہو جاتا ہے اور زہر اپنا اثر نہیں کرتا۔

آنکھوں تلے اندھیرا آتا ہو اور سر چکراتا ہو تو کدو کاٹ کر اس کا ٹکڑا پیشانی پر رکھنے سے درد سر کو آرام آجاتا ہے کدو کے چھلکے پاوں پر ملنے سے گرمی کا بخار دور ہو جاتا ہے اور پاؤں کی جلن کو بے حد آرام ملتا ہے۔

کدو کا حلوہ مردانہ صحت بڑھاتا ہے اور ویرج کو گاڑھا کرتا ہے۔اس کا گودہ پلٹس کی صورت میں زخموں پر باندھتے ہیں۔پیٹ کے کیڑوں کے لئے 5 گرام مغز کدو سفوف بنا کر شہد کے ساتھ کھلانے سے پیٹ کے کیڑے خصوصاً کدو دانہ کی تکلیف دور ہو جاتی ہے۔اس سلسلہ میں صبح نہار منہ یہ کھلا کر اور چار گھنٹے بعد کیسٹر آئل کا جلاب دیں،کیڑے نکل جائیں گے۔ٹھنڈے مزاج کے لوگوں کو اس کا استعمال ادرک کے ساتھ کرنا چاہئے۔

جیسا کے اُوپر لکھا جا چکا ہے کہ لوکی بھی عام سبزی ہے۔دمہ و تپدق کے مریضوں کے لئے اس سے بہتر کوئی خوراک نہیں ہے۔

*❣ﺧَﻴﺮُﺍﻟﻨَّﺎﺱِ ﻣَﻦ ﻳًﻨﻔَﻊُ ﺍﻟﻨَّﺎﺱ❣*



Comments

Popular posts from this blog

1695🔆🥀) Fatwa (english/urdu)

ـ1508🌻) پندرہ غزائیں جن سے قوت مدافعت بڑتی ہیں (انگلش/اردو)

🌅1543) More than 565 .... Topics