ہم نے اکثر سنا ہے کہ جہنم کی آگ اتنی شدید اور خوفناک ہوگی..... کہ انسان تو کیا پتھر بھی اس کی تپش کو برداشت نہیں کر سکیں گے۔۔۔۔۔ یہ بات سن کر ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا تھا کہ آخر وہ آگ کتنی گرم ہوگی۔۔۔۔۔کیونکہ ہم دنیا کی مختلف قسم کی آگ اور ان کی شدت کے بارے میں جانتے ہیں لیکن کیا واقعی کوئی ایسی گرمی بھی ہو سکتی ہے جو ہماری سوچ سے کہیں زیادہ ہو۔۔۔۔اگر ہم اپنے سورج کی بات کریں تو اس کی سطح کا درجہ حرارت تقریبا 5,500 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔۔۔ یہ درجہ حرارت اتنا زیادہ ہے کہ زمین پر موجود تقریبا ہر چیز کو جلا اور پگھلا سکتا ہے۔ یعنی لوہا تقریبا 1,500 ڈگری سینٹی گریڈ پر پگھل جاتا ہے۔۔۔ جبکہ بہت سے پتھر 700 سے 1,300 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان پگھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔۔ یعنی ہمارا سورج ہی اتنا گرم ہے کہ اگر کوئی چیز اس کے قریب پہنچ جائے تو اس کا وجود باقی نہ رہے۔۔۔۔۔  لیکن رکھو  زرا۔۔۔۔ ہماری کائنات میں ایسے ستارے بھی موجود ہیں جو سورج سے کئی گنا زیادہ گرم ہیں۔ ان میں سے ایک مشہور ستارہ بیلاٹرکس  ہے جو زمین سے تقریبا 450 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے ۔۔۔۔۔ یہ ایک بہت بڑا اور نہایت گرم ستارہ ہے۔ اس کی سطح کا درجہ حرارت تقریبا 31,000 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔۔۔  یہ ہمارے سورج سے تقریباچھ گنا زیادہ گرم ہے۔۔۔ اس کا رنگ نیلا سفید دکھائی دیتا ہے کیونکہ جتنا زیادہ گرم ستارہ ہوتا ہے۔ اس کا رنگ اتنا ہی نیلا نظر آتا ہے۔۔۔۔۔اگر فرض کریں کہ لوہے فولاد پتھر یا زمین پر موجود کسی بھی عام مادے کو اس ستارے کے قریب لے جایا جائے، تو وہ نہ صرف پگھل جائے گا بلکہ شدید حرارت کی وجہ سے بخارات میں تبدیل ہونا شروع ہو جائے گا۔ اس ستارے سے نکلنے والی توانائی اور شعاعیں اتنی طاقتور ہیں کہ کوئی بھی جانی پہچانی زمینی چیز اس کے قریب زیادہ دیر تک باقی نہیں رہ سکتی۔۔۔۔۔بیلاٹرکس صرف گرم ہی نہیں بلکہ بہت زیادہ روشن بھی ہے۔ یہ ہمارے سورج سے ہزاروں گنا زیادہ روشنی خارج کرتا ہے۔ حالانکہ یہ ہم سے تقریبا 450 نوری سال دور ہے، پھر بھی رات کے آسمان میں اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم آج اس ستارے کو نہیں بلکہ اس کی وہ روشنی دیکھ رہے ہیں جو تقریبا 450 سال پہلے وہاں سے روانہ ہوئی تھی۔۔۔لیکن کائنات کی حیرتیں یہاں ختم نہیں ہوتیں۔ بعض ستاروں کی سطح کا درجہ حرارت 50,000 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔۔۔ اور کچھ مردہ ستاروں جنہیں سفید بونے ستارے  کہا جاتا ہے۔۔۔ان کی سطح لاکھوں ڈگری تک گرم ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض ستاروں کے اندرونی حصوں کا درجہ حرارت کروڑوں ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔۔۔۔۔ یعنی کائنات ہماری سوچ سے کہیں زیادہ عظیم طاقتور اور حیرت انگیز ہے۔ ہمارا سورج جو ہمیں ناقابل برداشت حد تک گرم محسوس ہوتا ہے دراصل کائنات کے بہت سے ستاروں کے مقابلے میں ایک نسبتا ٹھنڈا ستارہ ہے۔ اور جب ہم ان عظیم ستاروں کے درجہ حرارت اور طاقت کے بارے میں سوچتے ہیں، تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ کائنات میں ایسی قوتیں موجود ہیں جن کا مکمل تصور کرنا بھی انسان کے لیے آسان نہیں۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

1695🔆🥀) Fatwa (english/urdu)

🌅1543) More than 565 .... Topics

۔🔆🥀 1693) درود شریف و معلومات نبی ﷺ