سب لوگ متوجہ ہوں ۔۔۔آج کل اس قسم کے انتہائی زہریلے سانپ گھروں میں نکل رہے ہیں جن کی ویکسین عام ہسپتال میں دستیاب نہیں ہے
قدرت نے کوئی بیماری پیدا ہی نہیں کی جس کی دوا پیدا نہ کی ہو
خدا نخواستہ کسی انسان کو یہ سانپ یا کوئی اور سانپ کاٹ لے تو فرسٹ ایڈ کے طور پر ،،املی،، کی گٹھلی جو آ لو بخارا املی کے شربت والے پھینک دیتے ہیں یا پنساری کی دکان پر سے املی لے کر اس گٹھلی نکال کر ایک طرف سے اینٹ یا پتھر وغیرہ پر رگڑ کر اندرکی سفید گری ظاہر ہونے پر اس گٹھلی کی سفید جگہ کو پانی سے گیلا کر کے سانپ کے کاٹےزخم کے نشان۔ ۔پر چپکا دیں
یہ زہر والے مقام پر مضبوطی سے چپک جائے گی اور یہ اپنا کام شروع کردے گی یعنی زخم سے سانپ کازہر اپنے اندر جذب کرنے لگ جایے گی
اس کے بعد مریض کو قریبی اسپتال منتقل کر دیں اگر ڈاکٹر اس کو اتارنا ضروری نہ سمجھیں تو یہ گٹھلی زخم پر لگا رہنے دیں یہ گٹھلی مریض کے جسم سے سانپ کا زہر اپنے اندر جذب کر کے انسان کو اس سانپ کی موت نہیں مرنے دے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment