حجامہ ٹریننگ کورس
لیکچر نمبر 1
حجامہ کا تعارف، تاریخ اور بنیادی تصور
مرتب و مدرس
حکیم امیر احمد دیپال
فضیل دواخانہ اینڈ ریسرچ سینٹر
امیر نگر، جلال پور پیر والا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمدللہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید الانبیاء والمرسلین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ۔
محترم اساتذہ، معزز اطباء، عزیز طلبہ اور حجامہ سیکھنے کے خواہش مند ساتھیو!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آج سے ہم حجامہ کے ایک باقاعدہ تربیتی کورس کا آغاز کر رہے ہیں۔ اس کورس کا مقصد صرف کپ لگانے کا طریقہ سکھانا نہیں بلکہ حجامہ کو علم، سنت، طبی اصول، مریض کی حفاظت، صفائی اور ذمہ داری کے ساتھ سمجھنا ہے۔
ہماری پہلی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم حجامہ کو جذبات یا سنی سنائی باتوں کے بجائے مستند علم اور عملی تربیت کی بنیاد پر سیکھیں۔
پہلا سوال: حجامہ کیا ہے؟
سب سے پہلے ہم حجامہ کی تعریف سمجھتے ہیں۔
حجامہ ایک روایتی طریقۂ علاج ہے جس میں مخصوص مقامات پر کپ لگا کر منفی دباؤ (Suction) پیدا کیا جاتا ہے۔
حجامہ کی بعض اقسام میں صرف کپ لگا کر سکشن پیدا کیا جاتا ہے، جبکہ بعض اقسام میں جلد پر معمولی سطحی خراش کے بعد محدود مقدار میں خون خارج کیا جاتا ہے۔
جدید طب میں اس طریقے کو عموماً:
Cupping Therapy
کہا جاتا ہے۔
حجامہ کے لفظ کا مفہوم
"حجامہ" عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا تعلق پچھنے لگانے اور خون خارج کرنے کے عمل سے ہے۔
حجامہ کرنے والے کو عربی میں حجام کہا جاتا ہے۔
لیکن ہمارے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آج کا تربیت یافتہ حجام صرف خون نکالنے والا شخص نہیں ہونا چاہیے۔
اسے مریض کی:
بنیادی طبی کیفیت
صفائی
انفیکشن کنٹرول
ممکنہ خطرات
ادویات
خون بہنے کے مسائل
اور Referral کی ضرورت
کا بنیادی علم بھی ہونا چاہیے۔
حجامہ کی مختصر تاریخ
حجامہ کوئی نیا طریقۂ علاج نہیں۔
انسانی تاریخ میں مختلف تہذیبوں میں جسمانی تکالیف کے لیے کپنگ اور خون خارج کرنے جیسے طریقے استعمال ہوتے رہے ہیں۔
قدیم یونانی، عرب، اسلامی اور دیگر طبی روایات میں اس کا ذکر ملتا ہے۔
اسلامی روایت میں حجامہ کو خاص اہمیت اس لیے حاصل ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ سے حجامہ کروانا ثابت ہے۔
اس لیے ہمارے لیے حجامہ صرف ایک قدیم طبی طریقہ نہیں بلکہ اس کا ایک دینی اور تاریخی پہلو بھی موجود ہے۔
حجامہ اور طبِ اسلامی
محترم طلبہ!
اسلام نے علاج اختیار کرنے سے منع نہیں کیا بلکہ علاج اور اسباب اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے۔
حجامہ کے بارے میں احادیثِ مبارکہ موجود ہیں اور رسول اللہ ﷺ سے حجامہ کروانا ثابت ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی علمی اصول یاد رکھنا چاہیے:
سنت کا ثابت ہونا اور کسی خاص بیماری کے لیے طبی طور پر مؤثر ثابت ہونا دو الگ سوالات ہیں۔
یعنی ہم حجامہ کی شرعی حیثیت کا احترام کرتے ہوئے طبی فوائد کے بارے میں بھی تحقیق اور احتیاط کو سامنے رکھیں گے۔
ہم کسی ایسی بیماری کے بارے میں یہ دعویٰ نہیں کریں گے کہ حجامہ لازماً اور یقینی طور پر اس کا علاج ہے، جب تک اس دعوے کے لیے مناسب طبی شواہد موجود نہ ہوں۔
حجامہ کی بنیادی اقسام
اب ہم حجامہ کی بنیادی اقسام کا تعارف حاصل کرتے ہیں۔
1۔ خشک حجامہ — Dry Cupping
اس میں کپ کو جلد پر لگا کر سکشن پیدا کیا جاتا ہے۔
اس طریقے میں:
جلد کو کاٹا نہیں جاتا
خون خارج نہیں کیا جاتا
کپنگ کے بعد جلد پر عارضی نشان پڑ سکتے ہیں
اسے عام طور پر Dry Cupping کہا جاتا ہے۔
2۔ تر حجامہ — Wet Cupping
اس طریقے میں کپ کے سکشن کے بعد جلد پر انتہائی سطحی خراشیں دے کر دوبارہ کپ لگایا جاتا ہے، جس سے محدود مقدار میں خون خارج ہو سکتا ہے۔
اسے:
Wet Cupping
یا
حجامہ بالدم
کہا جاتا ہے۔
یہ طریقہ خشک حجامہ کے مقابلے میں زیادہ احتیاط کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ اس میں جلد penetrate ہوتی ہے اور خون سے واسطہ پڑتا ہے۔
3۔ متحرک حجامہ — Moving Cupping
اس طریقے میں کپ کو ایک مقام پر رکھنے کے بجائے مناسب طریقے سے جلد پر حرکت دی جاتی ہے۔
یہ عموماً عضلاتی تناؤ یا مساج نما طریقے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
حجامہ کیسے کام کرتا ہے؟
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے:
کپ لگانے سے جسم میں کیا ہوتا ہے؟
کپ کے اندر منفی دباؤ پیدا ہونے سے جلد اور اس کے نیچے موجود بافتیں کپ کی طرف کھنچتی ہیں۔
اس سے مقامی سطح پر جلد اور بافتوں میں تبدیلی آتی ہے۔
تاہم حجامہ کے بارے میں یہ کہنا کہ کپ لازماً جسم سے "تمام زہریلے مادے" نکال دیتا ہے، ایک ایسا دعویٰ ہے جسے مضبوط سائنسی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔
جسم میں فضلات کے اخراج کے اہم نظام پہلے ہی موجود ہیں، جن میں جگر اور گردے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
لہٰذا ایک ذمہ دار معالج کو مبالغہ آمیز دعووں سے بچنا چاہیے۔
حجامہ اور جدید تحقیق
جدید تحقیق میں حجامہ پر مختلف مطالعات ہوئے ہیں۔
بعض تحقیق میں درد، خصوصاً بعض عضلاتی یا کمر کے درد میں ممکنہ فائدے کی نشاندہی ہوئی ہے، لیکن مجموعی سائنسی شواہد ہر بیماری کے لیے یکساں مضبوط نہیں ہیں۔
اس لیے ہمارا اصول ہونا چاہیے:
"جو بات تحقیق سے ثابت ہو، اسے تحقیق کے مطابق بیان کریں؛ جو بات ابھی تحقیق طلب ہو، اسے دعویٰ نہ بنائیں۔"
یہ اصول حجامہ کے معالج کو غیر ضروری اور غیر سائنسی دعووں سے محفوظ رکھتا ہے۔
حجامہ کے معالج کی ذمہ داری
اب میں اس کورس کے طلبہ سے ایک بنیادی بات کہنا چاہوں گا۔
حجامہ سیکھنے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ:
کپ اٹھایا، جسم پر لگایا اور سکشن پیدا کر دیا۔
ایک اچھے حجامہ معالج کو مریض کی حفاظت کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ:
1۔ مریض کی بنیادی معلومات لے۔
2۔ مریض کی موجودہ شکایت سمجھے۔
3۔ ادویات کے بارے میں پوچھے۔
4۔ خون بہنے کے مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کرے۔
5۔ جلد اور متعلقہ حصے کا معائنہ کرے۔
6۔ ضرورت پڑنے پر حجامہ سے اجتناب کرے۔
7۔ ضرورت ہو تو مریض کو ڈاکٹر یا متعلقہ اسپیشلسٹ کے پاس بھیجے۔
8۔ انفیکشن کنٹرول کے اصولوں پر سختی سے عمل کرے۔
حجامہ میں صفائی کیوں ضروری ہے؟
خصوصاً Wet Cupping میں صفائی کا مسئلہ انتہائی اہم ہے۔
کیونکہ اس میں جلد کو penetrate کیا جاتا ہے اور خون خارج ہوتا ہے۔
اگر آلات مناسب طریقے سے صاف یا جراثیم سے پاک نہ ہوں تو خون سے منتقل ہونے والے انفیکشن کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
اسی لیے تربیت یافتہ حجامہ پریکٹیشنر کو:
Gloves، Hand Hygiene، مناسب Sterile/Single-use سامان، Sharps Disposal اور Clinical Waste Management
کے بنیادی اصول معلوم ہونے چاہئیں۔
آج کے لیکچر کا خلاصہ
آج ہم نے یہ سیکھا کہ:
حجامہ کیا ہے؟
یہ ایک قدیم طریقۂ علاج ہے جس میں کپ کے ذریعے جسم پر منفی دباؤ پیدا کیا جاتا ہے۔
حجامہ کی بنیادی اقسام کیا ہیں؟
Dry Cupping
Wet Cupping
Moving Cupping
حجامہ کی اسلامی اہمیت کیا ہے؟
رسول اللہ ﷺ سے حجامہ کروانا ثابت ہے، اس لیے اسلامی روایت میں اسے اہم مقام حاصل ہے۔
کیا حجامہ ہر بیماری کا علاج ہے؟
نہیں۔ حجامہ کے فوائد کے بارے میں سائنسی شواہد بیماری بہ بیماری مختلف ہیں، اس لیے غیر ثابت شدہ دعووں سے بچنا ضروری ہے۔
حجامہ کرنے والے کے لیے سب سے اہم چیز کیا ہے؟
مریض کی حفاظت، صفائی، علم، مہارت اور ذمہ داری۔
طلبہ کے لیے آج کا عملی کام
آج کے لیکچر کے بعد ہر طالب علم درج ذیل سوالات کے جواب تحریری طور پر تیار کرے:
سوال نمبر 1:
حجامہ کی تعریف اپنے الفاظ میں لکھیں۔
سوال نمبر 2:
Dry Cupping اور Wet Cupping میں بنیادی فرق کیا ہے؟
سوال نمبر 3:
حجامہ کی اسلامی اہمیت کیا ہے؟
سوال نمبر 4:
حجامہ کے بارے میں غیر سائنسی دعووں سے بچنا کیوں ضروری ہے؟
سوال نمبر 5:
Wet Cupping میں Infection Control کیوں زیادہ اہم ہو جاتا ہے؟
اگلے لیکچر کا عنوان
لیکچر نمبر 2
حجامہ کی شرعی حیثیت، احادیثِ مبارکہ اور سنتِ نبوی ﷺ
اگلے لیکچر میں ہم حجامہ کے شرعی پہلو کو تفصیل سے سمجھیں گے اور یہ بھی دیکھیں گے کہ احادیث میں حجامہ کے بارے میں کیا رہنمائی ملتی ہے اور اس سلسلے میں عام طور پر کون سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔
اختتامی کلمات
آخر میں میں اپنے تمام طلبہ سے یہی عرض کروں گا:
"حجامہ سیکھیں تو صرف تکنیک نہ سیکھیں، ذمہ داری بھی سیکھیں۔"
کیونکہ ہمارے سامنے ایک انسان ہوتا ہے، اور انسان کی صحت اور جان اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔
علم + سنت + تحقیق + صفائی + مہارت + اخلاق
یہی ایک بہترین حجامہ پریکٹیشنر کی بنیاد ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع عطا فرمائے اور انسانیت کی خدمت اخلاص کے ساتھ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حکیم امیر احمد دیپال
فضیل دواخانہ اینڈ ریسرچ سینٹر
امیر نگر، جلال پور پیر والا
Comments
Post a Comment