عطارد
عطارد: سورج کے سب سے قریب مگر حیرتوں سے بھری دنیا
ایک ایسا عجیب سیارہ جہاں ایک دن اس کے دو سالوں کے برابر ہوتا ہے۔ جہاں دن کے وقت درجۂ حرارت بھٹی کی طرح دھکتا ہوا تقریباً 430 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، مگر اسی سیارے کی رات ہڈیاں جما دینے والی منفی 180 ڈگری تک سرد ہو جاتی ہے۔ اور سب سے زیادہ حیران کن بات: سورج کے اتنے شدید قریب ہونے کے باوجود اس کے قطبین پر ایسے گڑھے موجود ہیں جہاں برف محفوظ رہ سکتی ہے۔
یہ ہے عطارد (Mercury)—ہمارے نظامِ شمسی کا سب سے چھوٹا اور سورج کے سب سے قریب ترین سیارہ۔
سورج کے قریب، پھر بھی سب سے گرم نہیں!
عطارد سورج سے اوسطاً تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ کلومیٹر دور ہے، یعنی زمین کے مقابلے میں سورج کے تقریباً ڈھائی گنا زیادہ قریب۔ اس کی سطح پر کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو سورج زمین کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ بڑا دکھائی دے گا، اور سورج کی روشنی تقریباً سات گنا زیادہ شدید محسوس ہوگی۔
اس سب کے باوجود، عطارد نظامِ شمسی کا سب سے گرم سیارہ نہیں ہے۔ یہ اعزاز اس کے پڑوسی سیارے 'زہرہ' کو حاصل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ عطارد کے گرد زمین یا زہرہ جیسی کوئی گھنی فضا (Atmosphere) موجود نہیں ہے جو حرارت کو قید کر کے رکھ سکے۔ اس کے گرد صرف ایک انتہائی باریک اور ناپائیدار گیسوں کی تہہ ہے، جس میں آکسیجن، سوڈیم، ہائیڈروجن اور ہیلیئم شامل ہیں۔ اسی لیے سورج ڈوبتے ہی اس کی ساری حرارت تیزی سے خلا میں نکل جاتی ہے اور سیارہ جم جاتا ہے۔
عطارد کا ایک دن، دو سالوں کے برابر!
عطارد نظامِ شمسی کا سب سے تیز رفتار سیارہ ہے۔ یہ تقریباً 47 کلومیٹر فی سیکنڈ کی شاندار رفتار سے سورج کے گرد دوڑتا ہے اور صرف 88 زمینی دنوں میں اپنا ایک سال (سورج کے گرد ایک چکر) مکمل کر لیتا ہے۔ لیکن، اپنے محور (Axis) پر یہ بہت ہی آہستہ گھومتا ہے۔ اسے اپنا ایک چکر مکمل کرنے میں تقریباً 59 زمینی دن لگتے ہیں۔
یہاں ایک عجیب سائنسی پیچیدگی پیدا ہوتی ہے: سورج کے ایک طلوع سے لے کر اگلے طلوع تک، عطارد کا ایک مکمل شمسی دن تقریباً 176 زمینی دن کا ہوتا ہے۔ یعنی:
عطارد کا ایک دن = عطارد کے دو سال۔
سورج طلوع ہو، پھر واپس ڈوب جائے!
عطارد کا مدار بالکل گول نہیں بلکہ خاصا بیضوی (انڈے کی شکل کا) ہے۔ جب وہ سورج کے سب سے قریب پہنچتا ہے تو اس کی رفتار اتنی بڑھ جاتی ہے کہ بعض مقامات سے دیکھنے والے کو آسمان پر ایک انتہائی عجیب منظر دکھائی دے گا: سورج طلوع ہوگا، پھر کچھ دیر بعد اپنی حرکت الٹتا ہوا محسوس ہوگا، دوبارہ غروب ہو جائے گا، اور پھر کچھ دیر بعد ایک مرتبہ پھر طلوع ہوگا۔ یہ سورج کی کوئی الٹی حرکت نہیں ہے، بلکہ عطارد کی انتہائی خاص گردش اور مدار کے باہمی تعلق کا حیرت انگیز نتیجہ ہے۔
چھوٹا سیارہ، مگر بہت بڑا لوہے کا مرکز
عطارد کی ایک اور حیرت اس کے اندر چھپی ہے۔ اس کا کل رداس (Radius) صرف تقریباً 2,440 کلومیٹر ہے، مگر اس کے اندر موجود دھاتی مرکز (Metallic core) کا رداس قریب 2,074 کلومیٹر ہے۔ یعنی اس کا عظیم لوہے کا مرکز سیارے کے حجم کا تقریباً 85 فیصد بنتا ہے!
اس نسبت سے عطارد کا مرکز دوسرے پتھریلے سیاروں (جیسے زمین اور مریخ) کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر بہت بڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عطارد نظامِ شمسی میں زمین کے بعد دوسرا سب سے زیادہ کثیف (Dense) سیارہ ہے۔ مگر سوال آج بھی باقی ہے کہ اتنے چھوٹے سیارے کے اندر اتنا بڑا دھاتی مرکز کیوں ہے؟ کیا ابتدائی نظامِ شمسی میں کسی عظیم تصادم نے اس کی بیرونی چٹانی تہہ کا بڑا حصہ اڑا دیا تھا؟ یا وہ شروع ہی سے ایسے علاقے میں بنا جہاں دھات زیادہ تھی؟ سائنس ابھی تک اس راز کا مکمل اور حتمی جواب تلاش کر رہی ہے۔
چاند جیسی سطح اور سورج کے قریب برف!
پہلی نظر میں عطارد کی سطح ہمارے چاند سے بہت ملتی جلتی ہے۔ یہ شہابیوں کے گرنے سے بننے والے بے شمار گڑھوں (Craters) سے بھری ہوئی ہے۔
لیکن شاید عطارد کی سب سے حیران کن دریافت وہاں برف کی موجودگی ہے۔ ناسا (NASA) کے 'میسنجر' (MESSENGER) مشن نے عطارد کے قطبی گڑھوں میں ایسے ذخائر کے شواہد حاصل کیے جو پانی کی برف سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جہاں دن میں سطح 430 ڈگری تک گرم ہو سکتی ہے، وہاں برف کیسے؟
اس کی وجہ عطارد کا تقریباً سیدھا محور ہے۔ زمین کے برعکس، عطارد کا محور بہت کم جھکا ہوا ہے۔ اس لیے قطبین کے بعض گہرے گڑھوں کی تہہ پر سورج کی روشنی کبھی نہیں پہنچ پاتی۔ وہاں درجۂ حرارت اربوں سالوں سے اتنا کم رہا ہے کہ برف مستقل محفوظ ہے۔ گویا ایک ہی سیارے پر چند سو کلومیٹر کے فاصلے میں ایسی عجیب دنیا موجود ہے جہاں ایک طرف شدید جلادینے والی تپش ہے اور دوسری طرف مستقل منجمد اندھیرا۔
ابھی اسی وقت عطارد کی طرف ایک بڑا مشن!
یہ قسط ایک خاص وقت میں لکھی جا رہی ہے۔ یورپی خلائی ایجنسی (ESA) اور جاپان کے خلائی ادارے (JAXA) کا مشترکہ 'بیپی کولمبو' (BepiColombo) مشن اکتوبر 2018 میں روانہ ہوا تھا، اور تقریباً آٹھ سال کے پیچیدہ اور طویل سفر کے بعد اب وہ عطارد کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔
15 جون 2026 کو اس کے شمسی برقی انجن آخری مرتبہ بند کیے گئے۔ اس کا اگلا بڑا مرحلہ 3 ستمبر 2026 کو Mercury Transfer Module کی علیحدگی ہے، جبکہ عطارد کے مدار میں داخل ہونے کا حتمی مرحلہ 21 نومبر 2026 کے لیے طے کیا گیا ہے۔ اس کے بعد دو الگ خلائی جہاز عطارد کی سطح، اندرونی ساخت، مقناطیسی میدان اور قطبی برف سمیت کئی رازوں کی تحقیقات کریں گے جن کی توقع 2027 میں ہے۔ یعنی عطارد کے بارے میں ہماری معلومات کی کتاب ابھی مکمل نہیں ہوئی—اس کے کئی اہم صفحات اگلے چند برسوں میں لکھے جائیں گے۔
قرآن اور کائنات کا مشاہدہ
قرآنِ مجید عطارد کا نام لے کر کوئی فلکیاتی تفصیل بیان نہیں کرتا، اس لیے اسے کسی مخصوص آیت سے زبردستی جوڑنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ قرآن انسان کو بار بار کائنات کی تخلیق میں غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے:
﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ... لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ﴾
"بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔" (آل عمران: 190)
عطارد جیسی حیرت انگیز دنیا اسی تدبر اور غور و فکر کی ایک عملی مثال ہے: ایک ایسا سیارہ جسے انسانی آنکھ ہزاروں سال سے محض ایک چمکتا نقطہ سمجھتی تھی، مگر جدید خلائی تحقیق نے اس کے اندر عظیم دھاتی مرکز، مقناطیسی میدان اور سورج کے قریب ہوتے ہوئے بھی قطبی برف جیسے محیر العقول راز کھول دیے۔
حاصلِ کلام
عطارد ہمارے نظامِ شمسی کا سب سے چھوٹا اور سورج کے سب سے قریب سیارہ ہے۔ اس کا سال صرف 88 دن کا ہے، مگر اس کا ایک مکمل دن 176 زمینی دنوں کے برابر طویل ہے۔ اس کی سطح دن میں تقریباً 430 ڈگری گرم اور رات میں منفی 180 ڈگری سرد ہو سکتی ہے۔ اس کے اندر غیر معمولی طور پر عظیم دھاتی مرکز ہے، اور اس کے ہمیشہ تاریک قطبی گڑھوں میں برف کے شواہد موجود ہیں۔ اب 'بیپی کولمبو' مشن ہمارے اس قدیم پڑوسی کے راز پہلے سے کہیں زیادہ باریکی سے کھولنے کے قریب ہے۔
اگلی قسط میں ہم عطارد سے آگے بڑھ کر 'زہرہ' (Venus) کی طرف جائیں گے—ایک ایسا سیارہ جو حجم میں زمین کا تقریباً جڑواں بھائی ہے، مگر اس کی سطح نظامِ شمسی کی گرم ترین دنیا بن چکی ہے۔
حوالہ جات:
NASA Science — Mercury Facts
NASA — MESSENGER Mission
ESA — BepiColombo Factsheet, Arrival Status (August 2026)
القرآن الکریم — سورۃ آل عمران: 190
Comments
Post a Comment