سخی چشمہ پشاور — تاریخی رپورٹ

1۔ سخی چشمہ کہاں تھا؟

سخی چشمہ پشاور کے شامی روڈ کے علاقے میں واقع ایک قدیم چشمہ اور تفریحی مقام تھا۔ آج بھی سخی چشمہ، شامی روڈ نام کے طور پر سرکاری ریکارڈ میں موجود ہے؛ مثلاً 

PESCO 

کا مرکزی دفتر اسی علاقے میں درج ہے۔ �

Nepra +1

قدیم زمانے میں یہ علاقہ موجودہ پشاور کی طرح گنجان آباد نہیں تھا بلکہ کھلی زمین، باغات اور پانی کے مقامات پر مشتمل تھا۔

2۔ یہ کب قائم ہوا؟

مقامی تاریخی حوالوں اور 2020ء میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق سخی چشمہ تقریباً 1850ء سے قائم تھا۔ اس حساب سے یہ پشاور کے برطانوی دور کے ابتدائی زمانے کی ایک اہم یادگار تھا۔ �

Mashriq TV +1

یعنی اگر 1850ء کو بنیاد مانا جائے تو اس مقام کی تاریخ تقریباً 170 سال پر محیط بنتی ہے۔

تاہم یہاں ایک ضروری تاریخی فرق ہے:

1850ء چشمے کے قائم/مشہور ہونے کا سال ہے، لازماً اس سال کسی شخص نے چشمہ تعمیر نہیں کیا تھا۔

چشمہ بنیادی طور پر قدرتی پانی کا منبع تھا، جسے بعد میں انسانی استعمال اور تفریح کے لیے باقاعدہ مقام کی شکل دی گئی۔

3۔ سخی چشمہ کس نے بنایا؟

یہ سوال سب سے زیادہ تحقیق طلب ہے۔

 دستیاب شواہد میں کوئی ایسا سرکاری یا بنیادی تاریخی ریکارڈ نہیں ملا جس میں صاف الفاظ میں لکھا ہو کہ:

"سخی چشمہ فلاں شخص نے فلاں سال تعمیر کیا۔"

اس لیے کسی شخصیت کا نام حتمی طور پر بانی کے طور پر لکھنا درست نہیں ہوگا۔

البتہ ایک اہم تحقیقی حوالہ سامنے آتا ہے۔سیٹھی خاندان پر ہونے والی ایک تفصیلی علمی تحقیق میں کریم بخش سیٹھی کی پشاور میں متعدد جائیدادوں کا ذکر ہے، جن میں ایک بڑا باغ "Sakhi ka Chashma" بھی شامل تھا۔ یہ باغ شہر کے شمال مغربی مضافات میں، برطانوی پولو گراؤنڈ کے قریب بتایا گیا ہے۔ �

Westminster Research +1

اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ:

سخی کا چشمہ/باغ 19ویں صدی کے اواخر تک سیٹھی خاندان کی جائیدادوں سے وابستہ تھا۔

لیکن اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کریم بخش سیٹھی نے اصل قدرتی چشمہ بنایا تھا۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ وہ اس علاقے کے باغ یا جائیداد کے مالک تھے۔

4۔ سخی چشمہ صرف چشمہ نہیں بلکہ تفریحی مقام تھا

سخی چشمہ پشاور کے لوگوں کے لیے ایک اہم عوامی تفریحی مقام بن گیا تھا۔

گرمیوں میں شہر اور گردونواح کے لوگ یہاں آتے اور پانی میں نہاتے/تیرتے تھے۔ 2020ء کی رپورٹ اسے پشاور کی ثقافت اور عوامی زندگی کا اہم حصہ قرار دیتی ہے۔ �

Mashriq TV

یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ اس زمانے میں موجودہ دور کے سوئمنگ پولز عام نہیں تھے، اس لیے قدرتی پانی کے ایسے مقامات شہری تفریح کا اہم ذریعہ ہوتے تھے۔

5۔ 1923ء کی اہم تعمیر

سخی چشمہ کی تاریخ میں 1923ء ایک اہم سال ہے۔

دستیاب رپورٹ کے مطابق چشمے کے گرد چاردیواری 1923ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ �

Mashriq TV

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ:

1850ء → چشمے کا تاریخی وجود/استعمال

بعد کا دور → تفریحی مقام کی ترقی

1923ء → چاردیواری کی تعمیر

یعنی چشمہ محض قدرتی پانی کا مقام نہیں رہا تھا بلکہ ایک باقاعدہ احاطے کی صورت اختیار کر چکا تھا۔

6۔ سخی چشمہ کا مذہبی اور سماجی پہلو

سخی چشمہ صرف تفریحی مقام ہی نہیں تھا بلکہ اس کے قریب مسجد بھی موجود تھی 

7۔ آبادی نے سخی چشمہ کو کیسے متاثر کیا؟

سخی چشمہ کے زوال کی بنیادی وجہ اچانک کوئی ایک واقعہ نہیں تھا۔

وقت کے ساتھ اس کے اردگرد آبادی بڑھتی گئی۔

2020ء کی رپورٹ کے مطابق جس علاقے میں پہلے بہت کم آبادی تھی وہاں رفتہ رفتہ مکانات تعمیر ہونے لگے اور تجاوزات/قبضوں نے علاقے کو گھیرنا شروع کر دی

نتیجہ یہ نکلا کہ:

چشمے کا اصل ماحول ختم ہونے لگا۔

کھلی زمین کم ہوتی گئی۔

پانی اور چشمے کی حالت خراب ہوئی۔

تاریخی چاردیواری متاثر ہوئی۔

چشمے کا تفریحی کردار ختم ہوتا گیا۔

ایک دوسری رپورٹ میں بھی کہا گیا کہ 2020ء تک چشمے کے تقریباً صرف آثار باقی رہ گئے تھے۔ �

Mashriq TV

8۔ سخی چشمہ کب ختم ہوا؟

یہاں "ختم ہونے" کے دو الگ مراحل سمجھنا ضروری ہیں۔

پہلا مرحلہ — عملی زوال

آبادی، تجاوزات اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے چشمہ بہت پہلے اپنی اصل حیثیت کھو چکا تھا۔

دوسرا مرحلہ — 2020ء کی مسماری

فروری 2020ء میں سخی چشمہ کی تاریخی چاردیواری اور باقی ماندہ آثار کی مسماری شروع ہونے کی خبر سامنے آئی۔ �

Mashriq TV

رپورٹ کے مطابق وہاں موجود تاریخی دیواروں سے اینٹیں نکالی جا رہی تھیں اور علاقے میں قبضوں کا مسئلہ پیدا ہو چکا تھا۔

مقامی عمائدین نے مطالبہ کیا تھا کہ:

مسماری روکی جائے؛

چشمے کی صفائی کی جائے؛

اسے دوبارہ فعال کیا جائے۔

Mashriq TV

9۔ سخی چشمہ کیوں ختم ہوا؟

دستیاب شواہد کو جمع کیا جائے تو اس کے زوال کی بڑی وجوہات یہ بنتی ہیں:

1۔ بے ہنگم شہری پھیلاؤ

چشمے کے اردگرد آبادی بڑھتی گئی۔

2۔ تجاوزات اور مبینہ قبضے

تاریخی احاطے کی زمین پر قبضوں کی شکایات سامنے آئیں۔ �

Mashriq TV

3۔ تاریخی مقام کی مناسب حفاظت نہ ہونا

مقامی اخباری رپورٹوں میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ پشاور کے قدیم مقامات کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ �

Mashriq TV

4۔ صفائی اور دیکھ بھال کا فقدان

چشمہ اپنی اصل تفریحی حیثیت برقرار نہ رکھ سکا۔

5۔ زمین کی بڑھتی ہوئی شہری اہمیت

جیسے جیسے شامی روڈ اور اس کے اطراف میں شہری آبادی بڑھی، تاریخی کھلی جگہیں سکڑتی گئیں۔

10۔ ایک دلچسپ تاریخی حقیقت

سخی چشمہ کے بارے میں ایک اہم علمی حوالہ یہ ہے کہ کریم بخش سیٹھی کے پاس پشاور کے شمال مغربی علاقے میں ایک بڑا باغ تھا جسے "Sakhi ka Chashma" کہا جاتا تھا۔ اسی تحقیق میں ان کی دوسری جائیداد "Nama Rohri" کا بھی ذکر ہے، جو وزیر باغ کے قریب تھی۔ �

Westminster Research

اس لیے ممکن ہے کہ سخی چشمہ کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے سیٹھی خاندان، ان کے باغات اور 19ویں صدی کے پشاور کے شمال مغربی علاقے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہو۔

لیکن میں احتیاطاً یہ دعویٰ نہیں کروں گا کہ کریم بخش سیٹھی ہی نے 1850ء میں چشمہ بنوایا تھا—اس دعوے کے لیے ابھی براہِ راست ثبوت درکار ہے۔

مختصر تاریخی ٹائم لائن

سال/دور

واقعہ

تقریباً 1850ء

سخی چشمہ تاریخی طور پر قائم/استعمال ہونے کا حوالہ

19ویں صدی

چشمہ اور اس کے گرد باغ تفریحی و سماجی مقام بنا

19ویں صدی کے اواخر

سیتی خاندان کے کریم بخش سیٹھی کی جائیدادوں میں "Sakhi ka Chashma" کا ذکر

1923ء

چشمے کی چاردیواری تعمیر ہوئی

20ویں صدی

پشاور کے لوگوں کا نہانے اور تفریح کے لیے استعمال

بعد کا دور

آبادی، تجاوزات اور عدم دیکھ بھال سے زوال

2020ء

تاریخی چاردیواری/باقی ماندہ آثار کی مسماری کی خبریں

موجودہ دور

اصل تاریخی چشمہ تقریباً ختم؛ "سخی چشمہ" نام شامی روڈ کے علاقے میں برقرار

نتیجہ: سخی چشمہ پشاور کا کوئی معمولی تالاب نہیں تھا بلکہ تقریباً 1850ء سے شہر کی عوامی زندگی، موسمِ گرما کی تفریح اور مقامی ثقافت سے وابستہ ایک تاریخی آبی مقام تھا۔ 1923ء کی چاردیواری اس کی باقاعدہ تاریخی ساخت کا اہم ثبوت ہے۔ اس کے زوال میں شہری پھیلاؤ، تجاوزات، عدم نگہداشت اور تاریخی ورثے کے تحفظ کی کمزوری بنیادی عوامل نظر آتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

🌅1543) More than 565 .... Topics

1695🔆🥀) Fatwa (english/urdu)

۔131🌻) حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ