Posts

1739) بکھاریوں سے بچو

Image
بکھاریوں سے بچو آپ کا ایک روپیہ۔۔۔ معیشت کو تباہ کر رہا ہے کیسے؟ آئیے جانچ پڑتال کرتے ہیں۔۔۔ ہم روزانہ اپنے ہاتھ سے معیشت کے چیتھڑے اڑا رہے ہیں اور ہمیں اس کا اندازہ بھی نہیں۔ کسی بھکاری ، فقیر ، ملنگ یا منگتے سے متعلق ہمارے ہاں دو قسم کی اپروچ ہوتی ہے۔۔۔ ـ✓ یا تو فراخ دلی سے اسے دس ، پچاس ، سو کا نوٹ دے دیا جاتا ہے اور کم ہی لوگ ایسا کرتے ہیں۔ ـ✓ یا پھر "جان چھڑوانے کے لیے" محض اسے ایک ، دو روپے کا سکہ دے دیا جاتا ہے۔۔۔ دکانداروں نے بھی الگ سے کچھ سکے رکھے ہوئے ہوتے ہیں تاکہ پورا دن جو فقیر آتے ہیں انہیں ایک دو روپیہ دے کر جان چھڑوائیں۔ لیکن۔۔۔ آپ کی یہ فراخ دلی یا رسمِ جان چھڑاوئی ملکی معیشت کے  لیے سخت ضرر رساں ثابت ہو رہے ہیں۔  ـ∆ بھکاری چاہے گروہ کی صورت میں کام کررہے ہوں۔ ـ∆ خاندان کی صورت میں ، کہ پورا خاندان مانگنے نکلا۔ ـ∆ یا انفرادی طور پر۔  بہرصورت۔۔۔ روزانہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپیہ ان بھکاریوں کی جیبوں میں جاتا ہے۔  ایک بھکاری مارکیٹ کے ایک کونے سے شروع کرے اگر اس مارکیٹ میں 100 دکانیں ہیں ، سب اسے محض 2 روپیہ بھی دیں تو بن جائے گا دو سو روپیہ۔۔۔ لیک...

1738) گری دار میوے

Image
گری دار میوے  حالیہ تحقیق نے گری دار میوے کے باقاعدگی سے استعمال اور دماغی صحت کے درمیان ایک طاقتور ربط کا انکشاف کیا ہے۔ تحقیق کے مطابق ہر ہفتے گری دار میوے کے پانچ سرونگ کھانے سے دماغی عمر کے دو سال کے برابر ہوتا ہے۔ یہ دریافت اس بات کے ثبوت کے بڑھتے ہوئے جسم میں اضافہ کرتی ہے کہ غذا علمی افعال کو سہارا دینے اور عمر کے ساتھ آنے والے قدرتی زوال کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ گری دار میوے صحت مند چکنائی، اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامنز اور معدنیات سے بھرے ہوتے ہیں جو دماغ کی پرورش کرتے ہیں۔ ان میں ایسے مرکبات ہوتے ہیں جو سوزش سے لڑتے ہیں، خون کے بہاؤ کو بہتر بناتے ہیں، اور دماغ کے نئے خلیوں کی نشوونما میں مدد کرتے ہیں۔ بادام، اخروٹ، کاجو اور پستے جیسے گری دار میوے کا باقاعدگی سے استعمال غذائی اجزاء کی مستقل فراہمی فراہم کرتا ہے جو یادداشت، توجہ اور مجموعی طور پر دماغی تندرستی کی حفاظت کرتا ہے۔ عمر سے متعلق علمی زوال کی بڑھتی ہوئی شرحوں اور ڈیمنشیا جیسے حالات کے تناظر میں یہ نتائج خاص طور پر اہم ہیں۔ طرز زندگی کے سادہ انتخاب جیسے کہ آپ کی خوراک میں زیادہ گری دار میوے شامل کرنے سے آزاد...

1737) ریڑھ کی آخری ہڈی

Image
  ریڑھ کی آخری ہڈی  حضرت ابو ہریرہ رضی الله تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " زمین ابن آدم کے جسم کا ہر حصّہ کھا جاتی ہے ( اسکی موت کے بعد ) سوائے ایک ہڈی کے "عجب الذنب‌"کی ہڈی کے ( وہ ہڈی جو ریڑھ کی ہڈی کی جڑ میں موجود ہوتی ہے ) جس سے انسان پیدا ہوا تھا اور جس سے قیامت کے دن اسکا جسم دوبارہ بنایا جائے گا حدیث ٤٥٧ صحیح البخاری ( تفصیل حدیث ٣٣٨) باب : قرآن میں غیب کا بیان  یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ریڑھ کی ہڈی انسان کےمرنے کےبعد گل سڑ جاتی ہے ماسواۓ ایک چھوٹے سے حصّے کے (دمچی کی ہڈی کے شروع کے حصے کے ) جو ریڑھ کی ہڈی کے آخر میں ہوتا ہے ، اور یہ وہی ہے جسکو حدیث میں عجب الذنب کے نام سے بیان کیا گیا ہے جب انسان مر جاتا ہے تو اسکا پورا جسم گل سڑ جاتا ہے ماسواۓ اس حصّے کے جس سے ، ایک حدیث کے مطابق ، انسان کی دوبارہ تخلیق ہو گی ، بلکل اسی طرح سے جیسے ایک بیج سے پودا نکلتا ہے یہ عمل تب ہوگا جب قیامت کے روز، ایک خاص طرح کی بارش آسمان سے الله رب العزت کے حکم سے برسے گی ابو ہریرہ رضی الله تعالیٰ عنہ نے فرمایا "الله کے رسول صلی اللّٰہ علیہ ...

1736) سونف کا پانی

Image
سونف کا پانی  نظام ہاضمہ کو درست کرے سونف کے بیجوں میں کارمینیٹو کی خصوصیات پائی جاتی ہیں جس سے پیٹ کی گیس کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے، اس کے علاوہ بدہضمی اور قبض کی شکایت کو بھی اسی پانی سے دور کیا جاسکتا ہے۔ تیزابت کو دور کرے سونف کا پانی سینے کی جلن اور تیزابیت کو دور کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، اس کے علاوہ یہ مناسب ہائیڈریشن کی سطح کو برقرار رکھنے میں بھی کارگر ثابت ہوتا ہے۔ منہ کی بدبو سے نجات اکثر لوگوں کے منہ سے بدبو آتی ہے چاہے وہ جتنا ہی اپنے دانتوں اور منہ کی صفائی کا خیال کرلیں، اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ایک وجہ نظام ہاضمہ اور آنتوں کا درست کام نہ کرنا بھی ہے۔ قوت مدافعت کو مضبوط بنائے سونف کا پانی وٹامن سی اور ضروری غذائیت سے بھرپور ہوتاہے جس کے سبب یہ قوت مدافعت کو بھی مضبوط بناتا ہے اور وٹامن سی ہی سفید خون کی پیداوار کو بڑھانے میں مدد فراہم کرتا ہے جس کی وجہ سے ہمارا جسم بیماریوں سے لڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔ سونف کا پانی کیسے تیار کیا جائے؟ حسب ضرورت سونف کو گرم پانی میں ڈال کر ایک سے ڈیڑھ گھنٹے تک پانی کو ڈھانپ کر رکھ دیں، اس کے بعد سونف کا عرق نکل آئے گا ...

1735) کالے بھنے چنے

Image
کالے بھنے چنے قوتِ مدافعت میں اضافہ بھنے ہوئے کالے چنے جسمانی طاقت بڑھانے کے ساتھ مدافعتی نظام کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔ ان میں منقہ یا کشمش ملا کر کھانے سے مزید فائدہ حاصل ہوتا ہے۔  کولیسٹرول کم کرتے ہیں ان میں موجود غذائی اجزاء فطری انداز میں کولیسٹرول کو کم رکھتے ہیں، جس سے دل کی صحت بہتر رہتی ہے۔  ذیابیطس میں مفید کم گلیسیمک انڈیکس کی وجہ سے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہترین ہیں۔ یہ خون میں شکر کی مقدار کو متوازن رکھتے ہیں اور انرجی فراہم کرتے ہیں۔  وزن میں کمی اگر عصر کے وقت ایک مٹھی بھنے چنے روزانہ کھائے جائیں تو کولیسٹرول کم کرنے کے ساتھ وزن میں کمی بھی ممکن ہے۔ اس میں موجود پروٹین اور آئرن موٹاپا کم کرنے کے ساتھ جسمانی کمزوری کو بھی دور کرتے ہیں۔  آنتوں کی صحت فائبر سے بھرپور یہ چنے نظامِ ہضم کو درست رکھتے ہیں، قبض اور دیگر آنتوں کے مسائل کو ختم کرتے ہیں۔ یہ معدے کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔  خواتین کی صحت کے لیے بہترین خواتین میں قوت مدافعت بڑھانے، وزن کم کرنے اور پوشیدہ امراض سے نجات کے لیے بھنے ہوئے کالے چنے بہترین غذا ہیں۔ بچوں کی نشوونما بچوں کے لیے بھی نہایت ...

1734) مینٹس کیکڑا

Image
  مینٹس کیکڑا انسان دنیا کو صرف تین اہم رنگوں میں دیکھتے ہیں - سرخ، سبز اور نیلے رنگ لیکن مینٹس کیکڑے سولہ تک مختلف رنگین چینلز دیکھتا ہے... اس کا مطلب ہے کہ اس کی دنیا رنگوں اور تفصیلات کے ساتھ پھٹ رہی ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ 🔬 رنگوں سے ہٹ کر، مینٹس جھینگا الٹرا وائلٹ روشنی کو بھی دیکھ سکتا ہے اور پولرائزڈ روشنی کا پتہ لگاتا ہے — انہیں ایک طرح کا بلٹ ان سپر ویژن دیتا ہے۔ یہ صرف ٹھنڈی حیاتیات نہیں ہے؛ اس کا حقیقی دنیا پر اثر پڑتا ہے۔ مانٹیس جھینگا کے وژن کا مطالعہ کرنے والے سائنسدانوں نے پایا کہ وہ ہمارے لیے پوشیدہ چیزوں کا پتہ لگا سکتے ہیں - یہاں تک کہ طبی امیجز میں کینسر کی ٹھیک ٹھیک نشانیاں۔ یہ غیر معمولی بینائی بیماریوں کو پہلے اور زیادہ درست طریقے سے پکڑنے کے لیے نئے تشخیصی آلات کو متاثر کر سکتی ہے۔ مختصر میں: مینٹیس جھینگا صرف سمندر کے سب سے قابل ذکر شکاریوں میں سے ایک نہیں ہے - یہ ایک چھوٹی سی مخلوق ہے جو دوا کو تبدیل کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔ 🌈 The Super Vision of Mantis Shrimp 🦐✨ Humans see the world in just three main colors — red, green, and blue. But the ma...

1733) تتلیاں، خبیث اور خبیثنیاں

Image
تتلیاں، خبیث اور خبیثنیاں سن 1982 میں امریکی ریاضی دان اور ماہر ماحولیات ایڈورڈ لورینٹز نے ایک نظریہ پیش کیا۔ اس نظریے کے مطابق ایک تتلی اگر برازیل میں، اپنے پنکھ پھڑپھڑائے تو اس سے ٹیکساس میں ایک بھیانک طوفان آ سکتا ہے۔ اس نظریے کو انہوں نے بٹر فلائی ایفیکٹ کا نام دیا تھا۔ ایڈورڈ کا اپنے نظریے میں کہنا ہے، کہ ہر جاندار چیز سے کوئی بھی کام اتفاقاً نہیں ہوتا بلکہ یہ ’’بٹر فلائی ایفیکٹ‘‘ ہوتا ہے جس سے شروع ہونے والا عمل ایک کڑی سے جڑ کر، دوسری کڑی اور اسی طرح جڑتے جڑتے کہیں دور اپنے اختتام کو پنہچتا ہے۔ یہ بٹر فلائی ایفیکٹ طبیعیات میں ’’نظریۂ انتشار‘‘ نظریہ شواش ( تھیوری) کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کا سادہ سا مطلب ہے کہ ابتدائی کیفیت میں چھوٹی چھوٹی سی تبدیلیاں بعد میں آنے والی بہت بڑی تبدیلیوں کو جنم دی سکتی ہیں۔یہ نظریہ یعنی بٹر فلائی ایفیکٹ ہماری توجہ ان عوامل کی جانب مبذول کراتا ہے جو بظاہر ایک معمولی دکھائی دینے والی تبدیلی کے نتیجے میں حیران کن نتائج دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔  وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ  ایک  دم  نہیں  ہوتا آئیے اس بات کو دو مثالوں سے سمجھنے ک...