سواد لذتِ آشنائی
جب ہم زمین پر سجدہ کرتے ہیں تو بمشکل تین تسبیحات پوری کرتے ہیں اور سر اٹھا لیتے ہیں اس سے نماز تو ہو جاتی ہے مگر رب سے آشنائی نہیں ہوتی ـ ہم نماز میں آٹو پہ لگے ہوتے ہیں ہم خود نہ جھکتے ہیں اور نہ اٹھتے ہیں ، ہم اس دوران کہیں اور مصروف ہوتے ہیں جیسے پائیلٹ جہاز کو آٹو پائیلٹ پر لگا کر خود سواریوں سے دعا سلام کر رہا ہوتا ھے ـ یعنی ہم رکوع کو رکوع سمجھ کر ، سجدے کو سجدہ سمجھ کر اور قیام کو واقعی رب العالمین کے سامنے فرمانبرداری سمجھ کرکھڑے نہیں ہوتے بلکہ ہماری کیفیت ٹھیک اس کھلونے کی طرح ہوتی ہے جس میں سیل ڈال دیئے گئے ہوں اور بٹن آن کر دیا گیا ہو تو وہ خود بخود اوپر نیچے دائیں بائیں لڑھکتا پھرتا ہے آپ جب کوئی میموری کارڈ کسی ڈیوائس میں ڈالتے ہیں تو وہ ڈیوائس پہلے اس میموری کارڈ کا جائزہ لیتی ھے اس کو پڑھتی اور Recognize کرتی ہے پھر پوچھتی ہے کہ اس میموری کارڈ کی حقیقت یہ ہے کہ اس میں فلاں فلاں چیز ہے ،فلاں فلاں فولڈر ہے اس کی اتنی سپیس استعمال ہو چکی ہے اور اتنی باقی ہے پھر وہ آپ کو بتاتی ہے کہ سرک...