ملکی وے کہکشاں
ایک منٹ کے لیے سوچیں کہ ایک طاقتور تہذیب کسی طرح آپ کو ملکی وے کہکشاں سے باہر لے جاتی ہے اور وہاں آپ کو جدید ترین ٹیکنالوجـــیز اور خلائی جہاز فراہم کرتی ہے اور آپ کو کہتی ہے کہ زمین کو دوبارہ تلاش کریں اور وہاں دوبارہ جائے تو کیا آپ ڈھونڈ لیں گے؟ اگر آپ کو 60 سال کے بجائے ساٹھ ہزار سال کی عمر بھی دیں آپ پھر بھی ملکی وے کہکشاں میں اپنی زمین ڈھــــونڈ نہیں پائیں گے۔ جدید ٹیکنالوجی، لامحــدود وسائل اور سائنسی علم کی ہزاروں نســـلوں کو ایک زندگی میں سمیٹ کر آپ اپنے پورے ساٹھ ہزار سالوں میں بھی زمین کو تلاش نہیں کرپائیں گے۔
ہمارے ملکی وے کہکشاں اتنا بڑا ہے کہ اس کا قطر تقریباً ایک لاکھ نوری سال تک پھـــیلا ہوا ہے اور اس میں سورج کی طرح لگ بھگ چار سو ارب ستارے ہیں سیارے کتنے ہیں، وہ سائنسدانوں کو بھی معلوم نہیں ہیں۔ ہماری زمین صرف ان ستاروں کے درمیان پوشیدہ نہیں ہے،،،،،، بلکہ یہ انتہائی چھوٹی دنیا ہے جو ایک ستارے کے گرد چکـر لگا رہی ہے، جن کو ہم سورج کے نام سے جانتے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج ملکی وے کہکشاں میں ایک پرسکـون علاقے میں واقع ہے جسے "اورین سپر" کہتے ہیں،، یہ علاقہ ملکی وے کہکشاں کے بازو سے زیادہ دور نہیں ہے اور نہ ہی کـــنارے کے قریب ہے بلکہ یہ درمیان میں ہے ملکی وے کہکشاں میں زمین کو تلاش کرنا ایک وسیع ریگستان میں ریت کے ایک ذرے کو تلاش کرنے کی کوشــش کے مترادف ہوگا جب آپ یہ بھی نہیں جانتے کہ کہاں سے آغاز کرنا ہے کیوں کہ ملکی وے کہکشاں ایک وسیع سمندر ہے، ان میں زمین نامی ایک بوند کو تلاش کرنا ناممــکن ہے۔ ملکی وے کہکشاں مکمل کائنات نہیں ہے بلکہ دو ہزار ارب کہکشاؤں میں ایک درمیانی سائز کی کہکشاں ہے جن میں ہم رہتے ہیں۔
ملکی وے کہکشاں میں ستارے، سیارے، نیبـــولا، ستارے بنانے والے فیکٹریاں، گلوبلر، گیس، دھول اور بڑے پیمانے پر غیر دریافت شدہ بہت بڑے بڑے علاقے موجود ہیں۔ہمارا پورا نظام شمسی اس وسیع ڈھانچے کے صرف ایک چھوٹے سے کونے پر محیط ہے لہذا یہ ممکن نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ ہم کائنات میں ایسی جگہ قید ہیں جہاں سے ہم کسی بھی حالت میں فرار نہیں ہو سکتے اور نہ ہی باہر سے اس قید میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ہمـارا رب کتنا عظیم ہے جس نے اتنی وسیع کائنات بنائی ہے۔ بندہ یہ سوچ کر حیــــران رہ جاتا ہے۔ نیچے تصویروں میں آپ ملکی وے کہکشاں کی اصل حقیقت جان سکتے ہیں کہ ملکی وے کہکشاں کس بلا کا نام ہے۔۔۔۔۔۔

Comments
Post a Comment