زہرہ پر اترنے والی 10 مشینیں شدید گرمی میں ’’جل‘‘ کر خاموش ہوگئیں — کوئی بھی چند گھنٹے نہ نکال سکی!

تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی


آسمان میں سیارہ Venus (زہرہ) کو دیکھیں تو یہ ایک انتہائی خوبصورت اور روشن سیارہ دکھائی دیتا ہے۔ حجم (Volume) کے اعتبار سے یہ زمین سے اتنا مشابہ ہے کہ اسے اکثر زمین کی ’’جڑواں بہن‘‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن انسان نے جب اپنی مشینیں وہاں اتاریں تو ایک حیران کن حقیقت سامنے آئی۔


سیارہ Venus کی سطح پر پہنچ کر ہماری مشینیں زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکیں۔ یہاں ’’جلنے‘‘ سے مراد لازماً آگ پکڑ لینا نہیں، بلکہ تقریباً 465°C درجہ حرارت، انتہائی زیادہ فضائی دباؤ (Atmospheric Pressure) اور سخت ماحول کے باعث ان کے آلات کا بالآخر ناکارہ ہوجانا ہے۔


سیارہ Venus کی سطح تک پہنچ کر معلومات بھیجنے والے تاریخی لینڈرز کا احوال کچھ یوں ہے:


مشن Venera 7 سال 1970 میں اترا اور تقریباً 23 منٹ تک کسی دوسرے سیارے کی سطح سے معلومات بھیجنے والا پہلا خلائی لینڈر بنا۔


مشن Venera 8 سال 1972 میں اترا اور تقریباً 50 منٹ تک کامیابی سے سائنسی ڈیٹا بھیجتا رہا۔


مشن Venera 9 سال 1975 میں اترا اور تقریباً 53 منٹ میں سیارہ Venus کی سطح کی تاریخی تصاویر زمین تک پہنچائیں۔


مشن Venera 10 سال 1975 میں اترا اور تقریباً 65 منٹ تک سطحی چٹانوں کا مطالعہ کیا۔


مشن Venera 11 سال 1978 میں اترا اور تقریباً 95 منٹ تک انتہائی سخت ماحول کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔


مشن Venera 12 سال 1978 میں اترا اور تقریباً 110 منٹ نکال کر کارکردگی کے وقت میں نمایاں بہتری لایا۔


مشن Venera 13 سال 1982 میں اترا اور تقریباً 127 منٹ کے ساتھ اب تک کا سب سے بڑا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔


مشن Venera 14 سال 1982 میں اترا اور تقریباً 53 سے 57 منٹ کے دوران سطحی مادے کا تجزیہ کیا۔


مشن Vega 1 سال 1985 میں اترا اور تقریباً 56 منٹ تک گیسی غبار اور مٹی کا مطالعہ کیا۔


مشن Vega 2 سال 1985 میں اترا اور تقریباً 57 منٹ کام کر کے آخری کامیاب لینڈرز میں سے ایک بنا۔


ان سب میں سب سے حیرت انگیز کامیابی مشن Venera 13 کی تھی۔ یہ سال 1982 میں سیارہ Venus کی سطح پر اترا اور تقریباً 127 منٹ، یعنی 2 گھنٹے اور 7 منٹ تک وہاں سے معلومات بھیجتا رہا۔ اس نے سیارہ Venus کی سطح کی رنگین تصاویر بھیجیں اور وہاں موجود سطحی مادے کا تجزیہ بھی کیا۔ لیکن آخرکار سیارہ Venus کے انتہائی سخت ماحول کے سامنے یہ مشین بھی خاموش ہوگئی۔


سوچیے، انسان نے زمین پر ایک مشین بنائی، اسے کروڑوں کلومیٹر دور بھیجا، اس نے دوسرے سیارے کی فضا میں داخل ہوکر تقریباً ایک گھنٹے کا نزولی سفر کیا، سطح پر اتری، تصاویر اور سائنسی معلومات بھیجیں۔۔۔ لیکن سیارہ Venus نے اسے صرف 127 منٹ دیے۔


آخر سیارہ Venus پر ایسا کیا ہے؟

سیارہ Venus کی سطح کا اوسط درجہ حرارت تقریباً 465°C ہے۔ اتنی شدید گرمی میں دھات Lead (سیسہ) بھی پگھل سکتا ہے۔ اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ سیارہ Venus سورج کے سب سے قریب سیارہ نہیں۔ سیارہ Mercury (عطارد) سورج کے زیادہ قریب ہے، اس کے باوجود سیارہ Venus نظامِ شمسی کا گرم ترین سیارہ ہے۔


اس کی بڑی وجہ سیارہ Venus کی انتہائی گھنی فضا (Atmosphere) ہے، جس میں تقریباً 96 فیصد گیس Carbon Dioxide موجود ہے۔ اس کی فضا ایک انتہائی طاقتور Greenhouse Effect پیدا کرتی ہے، جس کے نتیجے میں سطح پر شدید حرارت برقرار رہتی ہے۔ لیکن صرف گرمی ہی دشمن نہیں۔ سیارہ Venus کی سطح پر فضائی دباؤ زمین کے مقابلے میں تقریباً 92 گنا ہے۔ یعنی وہاں اترنے والی مشین کو ایک ہی وقت میں تقریباً 465°C کی گرمی اور زمین سے 90 گنا سے زیادہ فضائی دباؤ کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے سیارہ Venus کی سطح پر کام کرنے والی مشین بنانا آج بھی انجینئرنگ کے مشکل ترین چیلنجوں میں شمار ہوتا ہے۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ مشن Venera 13 کا 127 منٹ کا ریکارڈ چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک نہیں ٹوٹ سکا۔


زمین اور سیارہ Venus اتنے مختلف کیسے ہوگئے؟

زمین اور سیارہ Venus حجم میں اتنے مشابہ کیوں ہیں لیکن حالات میں اتنے مختلف کیسے ہوگئے؟ سیارہ Venus کا قطر تقریباً 12,104 کلومیٹر ہے جبکہ زمین کا قطر تقریباً 12,742 کلومیٹر ہے۔ یعنی دونوں کا حجم حیرت انگیز حد تک قریب ہے۔


مگر ایک طرف زمین ہے جہاں سمندر، بارش، درخت، جانور اور انسان موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف سیارہ Venus ہے جہاں تقریباً 465°C درجہ حرارت، تباہ کن فضائی دباؤ، گیس Carbon Dioxide سے بھری گھنی فضا اور تیزاب Sulfuric Acid کے بادل موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دان سیارہ Venus کو صرف ایک دور دراز سیارے کے طور پر نہیں دیکھتے۔ اس کا مطالعہ ہمیں یہ سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے کہ چٹانی سیاروں کی آب و ہوا کس طرح بدل سکتی ہے اور دو نسبتاً مشابہ دنیائیں وقت کے ساتھ بالکل مختلف راستوں پر کیسے جاسکتی ہیں۔


قرآن اور کائنات پر غور

قرآن مجید انسان کو آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے:

﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ﴾

ترجمہ: ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات اور دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 190)


اس آیت کو سیارہ Venus کے درجہ حرارت یا خلائی مشنوں کی کوئی مخصوص سائنسی پیش گوئی قرار دینا درست نہیں۔ قرآن یہاں انسان کو وسیع تر کائنات اور تخلیق میں غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔ سیارہ Venus اس غوروفکر کے لیے واقعی حیران کن دنیا ہے۔


آسمان سے دیکھیں تو ایک خوبصورت چمکتا ہوا سیارہ۔۔۔ لیکن اس کی سطح پر اتریں تو ایسی دنیا جہاں ہماری 10 تاریخی مشینیں ایک ایک کرکے خاموش ہوگئیں اور سب سے مضبوط ریکارڈ بھی صرف 2 گھنٹے 7 منٹ کا ہے۔ اور آج بھی مشن Venera 13 بادشاہ ہے — صرف 127 منٹ کا ریکارڈ!


ہیش ٹیگز #Venus اور #خلائی_تحقیق سمیت #نظام_شمسی اور #قرآن_اور_سائنس کے علاوہ #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں شامل ہیں۔


نوٹ: خلائی ایجنسی NASA کی تاریخی مشن فہرست میں مشن Venera 7 سے مشن Vega 2 تک یہی ترتیب اور بالترتیب 23، 50، 53، 65، 95، 110، 127، 53، 56 اور 57 منٹ درج ہیں۔ مشن Venera 13 کے بارے میں ادارہ NASA کی تفصیلی تاریخ بھی 127 منٹ اور سطح پر تقریباً 462°C درجہ حرارت کی تصدیق کرتی ہے۔


حوالہ جات کی تفصیل:


حوالہ: ویب سائٹ NASA — Venus Exploration


حوالہ: آرکائیو NASA — Planetary Spacecraft Missions to Venus


حوالہ: رپورٹ NASA Goddard — Venera Program


حوالہ: کتاب NASA — Beyond Earth: A Chronicle of Deep Space Exploration


حوالہ: سرور NASA Technical Reports Server

Comments

Popular posts from this blog

🌅1543) More than 565 .... Topics

1695🔆🥀) Fatwa (english/urdu)

۔131🌻) حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ