ستارہ پروکسیما سینٹوری

 

ہماری زمین سے سب سے قریب ستارہ پروکسیما سینٹوری ہے۔۔۔۔۔۔ جو ہمارے زمین سے 4.25 نوری سال دور ہے۔اس ستارے کے گرد ایک سیارہ بھی گردش کر رہا ہے جسے پروکسیما بی کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔یہ ایک پتھریلا سیارہ ہے اور اس کی کمیت بھی ہماری زمین کے تقریبا برابر ہے۔۔۔۔۔۔ مگر اصل مسئلہ اس کا فاصلہ ہے۔4.25 نوری سال سننے میں شاید اتنا بڑا نہ لگے۔۔۔لیکن یہ اتنا زیادہ فاصلہ ہے کہ آج کے عام خلائی جہاز سے وہاں پہنچنے میں ہزاروں سال لگ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔ پروکسیما بی اپنے ستارے سے صرف تقریبا 72 لاکھ کلومیٹر دور ہے۔۔۔۔۔۔ اس کا موازنہ کریں تو ہماری زمین سورج سے 15 کروڑ کلومیٹر دور ہے۔یعنی پروکسیما بی اپنے ستارے کے بہت قریب گردش کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پروکسیما سینٹوری ہمارے سورج جیسا بڑا اور گرم ستارہ نہیں بلکہ ایک چھوٹا اور ٹھنڈا سرخ ستارہ ہے۔اسی لیے اتنے قریب ہونے کے باوجود پروکسیما بی کو اپنے ستارے سے ایسی توانائی ملتی ہے۔۔۔۔۔ کہ اسے قابل رہائش علاقے میں شمار کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ یعنی اس کا مطلب ہے کہ مناسب حالات میں وہاں مائع پانی موجود رہنے کا امکان ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔اور یہی بات پروکسیما بی کو اتنا خاص بناتی ہے۔۔۔۔۔۔ اس سیارے کا ایک سال ہماری زمین کے سال کے مقابلے میں بہت زیادہ چھوٹا ہے۔پروکسیما بی اپنے ستارے کے گرد صرف 11.2 دن میں ایک چکر مکمل کر لیتا ہے۔یعنی وہاں ایک سال صرف گیارہ دن کا ہے۔۔۔۔۔۔  اور یہ بھی ممکن ہے کہ پروکسیما بی اپنے ستارے کے ساتھ اس طرح جڑا ہوا ہو کہ اس کا ایک رخ ہمیشہ ستارے کی طرف رہتا ہو اور دوسرا رخ ہمیشہ اندھیرے میں۔۔۔۔۔۔ اس صورت میں ایک طرف مسلسل روشنی اور دوسری طرف مسلسل اندھیرا ہوگا۔ان دونوں کے درمیان ایک ایسا علاقہ ہے جہاں روشنی اور اندھیرے کے درمیان مستقل شام جیسا ماحول ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن پروکسیما بی کی سب سے بڑی مشکل بھی اسی ستارے سے جڑی ہوئی ہے۔پروکسیما سینٹوری ایک فعال ستارہ ہے اور وقتا فوقتا اس سے طاقتور شعلے اور خطرناک شعاعیں نکلتی ہیں۔یہ شعاعیں پروکسیما بی تک پہنچتی ہیں کیونکہ سیارہ اپنے ستارے کے بہت قریب ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن اس سب کے باوجود ایک سوال اپنی جگہ موجود ہے۔۔۔۔۔کیا اس دور کی دنیا پر پانی موجود ہے ۔۔۔کیا وہاں کوئی ایسا ماحول ہے جو زندگی کے لیے مناسب ہو؟م۔۔۔۔۔۔ ہم ابھی پروکسیما بی کی سطح کو براہ راست نہیں دیکھ سکتے۔ہم صرف اس کی روشنی اور اپنے ستارے پر اس کے اثرات سے اس کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور پھر آتا ہے سب سے بڑا مسئلہ۔۔۔۔۔۔فاصلہ۔۔۔۔۔۔ پروکسیما بی ہم سے 4.25 نوری سال دور ہے۔یعنی وہاں سے نکلنے والی روشنی کو بھی زمین تک پہنچنے میں 4 سال سے زیادہ وقت لگتا ہے۔۔۔۔۔۔ہم آج پروکسیما بی کو جس حالت میں دیکھ رہے ہیں،وہ دراصل ساڑھے چار سال پرانی حالت ہے۔۔۔۔۔۔ اگر ہم وہاں کوئی پیغام بھیجیں تو اسے وہاں پہنچنے میں4.25 سال لگیں گے۔اور اگر وہاں سے فوراجواب واپس آئے تو مزید 4.25 سال۔۔۔۔۔۔یعنی ایک سوال اور اس کے جواب کے درمیان ساڑھے آٹھ سال کا فاصلہ۔۔۔۔۔۔ آج کا کوئی عام خلائی جہاز اس فاصلے کو انسان کی زندگی میں طے نہیں کر سکتا۔موجودہ ٹیکنالوجی کے ساتھ یہ سفر ہزاروں سال لے سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن اگر کبھی انسان ایسا خلائی جہاز بنانے میں کامیاب ہوگیا جو روشنی کی رفتار کے ایک بڑے حصے تک پہنچ سکے،تو یہی 4.25 نوری سال کا فاصلہ بہت کم وقت میں طے کیا جا سکتا ہے۔مثلاروشنی کی رفتار کے 20 فیصد پر سفر کرنے والا جہاز تقریبا21 سال میں وہاں پہنچ سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ یہ کائنات کے خساب سے بہت چھوٹا فاضلہ ہے۔۔۔۔۔۔یغنی ایک ایسی دنیا جو ہماری زمین سے صرف چند نوری سال دور ہے۔۔۔۔۔۔ ہمیں معلوم ہے کہ وہاں ایک پتھریلا سیارہ موجود ہے۔۔۔۔۔۔ہمیں معلوم ہے کہ وہ اپنے ستارے کے بہت قریب ہے۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس دور کی دنیا کی اصل تصویر ابھی ہمارے سامنے نہیں آئی۔۔۔۔۔۔ وہاں کی سطح کیسی ہے۔۔۔۔۔۔۔وہاں پانی ہے یا نہیں۔۔۔۔۔۔اوراس دنیا پر آخر کیا چھپا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔ ان سوالوں کے جواب شاید مستقبل کی کوئی طاقتور دوربین یا کبھی وہاں پہنچنے والا کوئی خلائی جہاز ہی دے سکے۔۔۔۔۔۔ لیکن اس کے کے بارے میں ہم ابھی بہت کم جانتے ہیں۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

🌅1543) More than 565 .... Topics

1695🔆🥀) Fatwa (english/urdu)

۔131🌻) حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ