Posts

۔265🌻) رسول پاک ﷺ کا چہرہ انور مبارک

۔۔١: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہر ہ سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت تھا  ( صحیح بخاری: ٣٥٤٩، صحیح مسلم٩٣/٢٣٣٧ و دار السلام : ٦٠٦٠) ۔۔٢: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چاند جیسا (خوبصورت اور پر نور ) تھا ( صحیح بخاری : ٣٥٥٢) ۔۔٣: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ ایسے چمک اٹھتا گویا کہ چاند کا ایک ٹکڑا ہے  ( صحیح بخاری: ٣٥٥٦ ، صحیح مسلم: ٢٧٦٩،دار السلام : ٧٠١٦) ۔۔٤: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی ( خوبصورت) دھاریاں بھی چمکتی تھیں ( صحیح بخاری: ٣٥٥٥، صحیح مسلم: ١٤٥٩، دار السلام : ٣٦١٧) ۔۔٥: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہر ہ سورج اور چاند کی طرح (خوبصورت،ہلکا سا) گول تھا۔ ( صحیح مسلم :١٠٩/٢٣٤٤ ، دار السلام : ٦٠٨٤) ۔۔٦: آپ صلی اللہ علیہ وسلم گورے رنگ ، پر ملاحت چہرے ، موزوں ڈیل ڈول اور میانہ قد و قامت والے تھے ۔ ( صحیح مسلم:٢٣٤٠) ۔۔٧: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ نہ تو چونے کی طرح خالص سفید تھا اور نہ گندمی کہ سانولا نظر آئے بلکہ آپ کا رنگ گورا چمک دار تھا۔ ( صحیح بخاری: ٣٥٤٧،صحیح مسلم: ٢٣٤٧) ۔۔٨: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی...

۔264🌻) قبولیت دعاء کے اوقات

Image
اللہ تعالیٰ زمان و مکان کے خالق و مالک ہیں،تمام اوقات اور مقامات اسی ہی کے پیدا کردہ ہیں ، ان میں بعض اوقات و مقامات ایسے ہیں جن میں کی جانے والی دعاؤں کو قبولیت کا درجہ بہت جلد نصیب ہوتا ہے ۔ اللہ کریم کے احسان و کرم کا معاملہ دیکھیے کہ ان قیمتی اوقات و مقامات میں سے بعض تو ہمیں زندگی میں کئی بار اور بعض بار بار نصیب فرماتے ہیں لیکن ہماری غفلت و سستی کی انتہاء بھی دیکھیے کہ ان لمحات و مقامات کی قدر نہیں کرتے اور انہیں ضائع کر دیتے ہیں ۔ اللہ رب العزت ہمیں اپنے انعامات و احسانات کی قدر کرنے توفیق عطاء فرمائے ۔ ذیل میں چند ایسے اوقات و مقامات کا تذکرہ کیا جاتا ہے جن میں دعائیں جلد قبول ہوتی ہیں ۔ رات کو بیداری کے وقت 👈 عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ الْحَمْدُ لِلهِ وَسُبْحَانَ اللهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ثُمَّ قَالَ الل...

263) علم دین کی فرضیت

علم دین کی فرضیت   بعض لوگ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ علمِ دین کا تعلق صرف نماز و روزہ سے ہے، اور اس کے لیے چند اردو رسائل مسائل کا یا معمولی مولویوں کا وجود کافی ہے۔ جس کے لیے کسی خاص اہتمام کی ضرورت نہیں۔ اور وجہ اس سمجھنے کی یہ ہے کہ اصل میں ان صاحبوں کو یہی خبر نہیں کہ دین کے کیا کیا اجزا ہیں۔ اس لیے دین کو صرف روزہ، نماز میں منحصر سمجھ رکھا ہے اور اول غلطی یہی ہے علمِ دین کے دو مرتبے   بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مولوی بننے میں اس قدر وقت صرف ہوتا ہے کہ پھر علومِ معاش کے تحصیل کی گنجائش نہیں رہتی۔ پھر اگر علومِ معاش کو حاصل نہ کیا جائے اور اولاد کو مولوی بنادیا جائے تو پھر کھائیں پئیں کہاں سے؟ پس اس کا انجام بجز ذلت اور پریشانی کے اور کچھ نہیں ہے اس لیے مولوی بننا ذاتی و قومی ترقی کو مضر ہے۔ ان صاحبوں سے اس میں چند غلطیاں ہوئی ہیں۔  ایک یہ کہ ۔ُعلما۔َ کے علمِ دین کو ضروری کہنے کے معنی یہ سمجھے کہ ہر شخص کو پورا مولوی بنانا واجب ہے۔ سو خوب سمجھ لیا جائے کہ ۔ُعلما۔َ کا ہرگز یہ مقصود نہیں، کیوں کہ علمِ دین کا ضروری ہونا اور بات ہے اور پورا مولوی ہونا اور بات ہے۔ علمِ دین کی دو مقدا...

262) پانچ کاموں میں جلدی کرو

پانچ کاموں میں جلدی کرو    دینِ اسلام کا عمومی مزاج یہی ہے کہ جلد بازی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے اور برد باری اللہ کی طرف سے۔ مگر پانچ باتوں میں جلدی کرنے کی تعلیم دی۔ ’’ كَانَ يُقَالُ الْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ إِلا فِي خَمْسٍ : إِطْعَامُ الطَّعَامِ إِذَا حَضَرَ الضَّيْفُ ، وَتَجْهِيزُ الْمَيِّتِ إِذَا مَاتَ , وَتَزْوِيجُ الْبِكْرِ إِذَا أَدْرَكَتْ , وَقَضَاءُ الدَّيْنِ إِذَا وَجَبَ , وَالتَّوْبَةُ مِنَ الذَّنْبِ إِذَا أَذْنَبَ ‘‘ (حلیۃ الأولیاء و طبقات الأصفیاء (۸؍۷۸) پہلی چیز: مہمان کو کھانا کھلانے میں جلدی کرنا پہلی چیز جس میں شریعت نے جلدی کرنے کا فرمایا وہ یہ ہے ’’ إِطْعَامُ الطَّعَامِ إِذَا حَضَرَ الضَّيْفُ” ترجمہ: جب مہمان آئیں تو ان کے سامنے کھانا پیش کرنے میں جلدی کیا کرو۔ آج کل تو ایک رواج ہی بن چکا ہے کہ کھانے میں خوب تاخیر کی جاتی ہے۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں بھی کھانا اُس وقت پیش کیا جاتا ہے کہ جب مہمان انتظار کر کر کے تھک چکا ہوتا ہے۔ یہ شریعت کے مزاج کے خلاف ہے۔ دوسری چیز: مُردے کو دفنانے میں جلدی کرنا دوسری چیز جس میں شریعت نے جلدی کرنے کا فرمایا وہ یہ ہے ’’ ...

261) رزق حلال کمانے کی ضرورت

رزق حلال کمانے کی ضرورت   جس طرح رزق حلال کا اثر نسلوں تک باقی رہتا ہے، اسی طرح حرام لقمے کا اثر بھی کئی نسلوں تک جاتا ہے۔ دعا کی قبولیت میں بھی رزق حلال کا بہت اہم دخل ہے۔سوچنے کی بات ہے کہ آخر ہماری دعائیں رد کیوں ہو جاتی ہیں؟ اور وہ کیا اسباب ہیں جن کی وجہ سے ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے حلال کے اہتمام اور حرام سے مکمل اجتناب میں ہماری دعاؤں کی قبولیت کا راز مضمر ہے۔ واضح نصوص ہیں کہ رزق حلال کا عبادت کی قبولیت کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ ذیل میں اس بات کا ذرا تفصیل سے عرض کرنا چاہیں گے، کیونکہ ہمارے دور کے تمام تر مسائل کی سب سے بڑی وجہ ’’حرام خوری‘‘ ہے۔ اس حوالے صرف تین آیات، چند احادیث ملاحظہ فرمائیں۔قرآن و حدیث میں پاکیزہ چیزوں کے کھانے اور حرام سے بچنے کا حکم واضح دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے  يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ‘‘ (البقرة:168)  ’’اے لوگو! جو چیزیں زمیں میں موجود ہیں، اُن میں سے حلال پاک چیزوں کو کھاؤ اور شیطان کے قدم ...

۔260🌻) بچوں میں ایمان کیسے پیدا کریں

بچوں کی دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ ایمانی تربیت بھی بہت ضروری  ۔۔🔆دنیاوی تعلیمی اداروں میں اکثر یہ ہوتا ہے کہ ایک تو دین سے نفرت اور مولویوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے. اب بچے پریشان ہیں کہ ہم کیا کریں؟ ۔۔🔆اگر سکول میں سالانہ فنکشن ہے اس میں ناچ گانا اور فحاشی ہے اب بچے سخت پریشان ہیں کہ وہ کہاں جائیں ۔۔🔆کچھ بچے کتابوں کو پڑھتے ہیں. آپ کے بچوں کے پاس کتابوں کی بھر مار ہے. مگر آپ کو نہیں پتہ کہ ان کتابوں میں ہے کیا؟.میجک ، سٹوری یا دینی وغیرہ ُ۔۔🔆 اب ایسے ایسے نظریات والے کتب ہیں. جو ہمارے عقائد کو جڑوں سے اکھاڑ رہے ہیں. اور ہمارے بچے وہ سب پڑھ رہے ہیں. والدین کو چاہیے کہ وہ کتابوں کو چیک کریں اور پڑھیں کہ ان کتابوں میں کیا ہے اور بچوں کو کن چیزوں کے بارے میں دینی چاہیے ۔۔🔆 ہمیں اپنے بچوں کو کنٹرول کرنا چاہیے. جن والدین سے بچہ کنٹرول نہیں ہو رہا تو وہ جوان بچے کو کیسے کنٹرول کرے گے؟ ۔۔🔆 ہم نے وہ چیزیں خود پر طاری کی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ہمارے بچے ہمارے ہاتھوں سے نکلتے جا رہے ہیں ہم ان سے وہ سارے کام کرواتے ہیں جو قانون کے خلاف ہیں  ۔۔🔆ہم اپنی جوان بچیوں کو کسی بھی کورس کے لیے...

259) ایت الکرسی کے برکات

ایت الکرسی کے برکات    عبدالله بن عوف کہتا ہے : ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت بپا ہو چکی ہے مجھے حساب و کتاب کیلئے لایا گیا۔ میرا حساب بڑی آسانی سے ہو گیا. پھر مجھے  جنت میں لایا گیا اور وہاں مجھے بہت سارے محل دکھائے گئے. مجھے کہتے ہیں: اس محل کے دروازوں کو شمار کرو؛ میں نے شمار کیے تو 50 دروازے تھے پھر کہتے ہیں: اس محل کے گھروں کو شمار کرو تو وہ 175 گھر تھے. وہ گھر میری ملکیت میں دے دیے گئے. مجھے انتہائی خوشی ہوئی جیسے ہی میری آنکھ کھلی تو خدا کا شکر ادا کیا. صبح ہوتے ہی ابن سیرین کے پاس گیا اور اپنے خواب کو بیان کیا۔۔انہوں نے کہا: یقینا آپ آیه الكرسی کی زیادہ تلاوت کرتے ہیں. میں نے کہا: جی ہاں؛ اسی طرح ہے. لیکن آپ کو کیسے پتہ چلا. کہتے ہیں: اس لیے کہ اس آیه کے 50 كلمے اور 175 حروف ہیں. میں نے انکے حافظے کی تیزی پہ تعجب کیا. پھر مجھے کہتے ہیں: جو شخص بھی آیه الكرسی کی زیادہ تلاوت کرے موت کی سختی اس پر آسان ہو جاتی ہے ایت الکرسی کے برکات ۔۔۔۔۔۔ ۔۔🍃1. آیه الكرسی آسمانی نور ہے.  ۔۔🍃2. آیه الكرسی عرشی خزانے کی ایک آیت ہے.  ۔۔🍃3. آیه الكرسی سفر میں سلامت...