Posts

۔396🌻) حضور ﷺ کی حضرت زینب سے شادی

Image
تاریخ طبری اور دوسری کچھ تاریخی کتابوں میں حضور ﷺ کی حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کے متعلق کچھ روایات آئی ہیں جن کو مستشرقین و ملحدین نے ایک لو سٹوری کی شکل میں پیش کیا ... جسکا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت زینب کی حضرت زید کے ساتھ شادی کے بعد حضور ﷺ کو زینب اچھی لگی تھیں اور آپ اسکو چھپاتے تھے بالاخر حضرت زید نے زینب کو طلاق دے دیدی اور حضور ﷺ نے زینب سے شادی کرلی  نعوذ بااللہ یہ روایات عیسائی مورخیں کا مایہ استناد ہے اور اب انکے شاگرد ملحدین انکے نگلے ہوئے نوالے چبا رہے ہیں۔ ان متعصبین کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ اصول فن کے لحاظ سے روایت کس پایہ کی ہے۔ اسکا راوی کون ہے، اسکے بارے میں اسم و رجال کی کتابوں میں  کیسی گوائیاں نقل کی گئی ہیں۔انکو بس اعتراض کا موقع چاہیے، کسی روایت سے کچھ بھی ثابت کر دیں گے ۔ ان راویات کے اکثر راوی ضعیف ہیں اس لیے یہ قابل اعتبار نہیں ، پھر تاریخ سے ذیادہ مستند سورس قرآن اور حدیث میں حضور ﷺ ، حضرت زید اور زینب کے معاملے پر تفصیل موجود ہے اس لیے ان تاریخی روایات کو لینے اور ان پر مزید کسی بحث کی ضرورت نہیں رہتی ۔ حضور ﷺ اور زینب کا نکاح    اصل ...

395) اِنسانی ذرائعِ علم

Image
اِنسانی ذرائعِ علم اللہ تعالیٰ کے جاری کردہ نظامِ ربوبیت نے اِنسان کو اپنے گرد و پیش اور ماحول سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے مختلف ذرائعِ علم و ہدایت سے نوازا ہے۔ اُسے سوچنے کے لئے طاقتور دِماغ، دیکھنے کے لئے صاف شفاف آنکھیں، سُننے کے لئے حسّاس کان، چکھنے کے لئے زبان، سُونگھنے کے لئے ناک، چھُونے کے لئے ہاتھ اور اِحساسِ لمس کے لئے اَعصاب بخشے گئے ہیں۔ اِن ذرائعِ علم کو عقل اور حواس کہا جاتا ہے۔ یہ اُس ذاتِ برحق کی عنایت ہے کہ اُس نے اِن ذرائع کو بالعموم ہر اِنسان کے لئے کھلا رکھا ہے، اُنہیں محدُود اور مسدُود نہیں فرمایا۔ اِنسان کو ذرائعِ علم عطا کئے جانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ بھرپور طریقے سے کائنات میں زندگی بسر کر سکے مخلوقات اور اُن کے خواص و اَوصاف کو جانے، اُن کی حقیقتوں کا اِدراک کرے اور اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے مختلف زاویوں سے غور و فکر کر سکے۔ اِس مقصد کے لئے بلا تمیز رنگ و نسل، اِنسان کو جو ذرائع عطا کئے گئے ہیں اُنہیں تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔۔⑴ حواسِ خمسہ ظاہری ۔۔⑵ حواسِ خمسہ باطنی ۔۔⑶ لطائفِ خمسہ قلبی ۔۔🌹 حواسِ خمسہ ظاہری حواس کی پہلی قسم حواسِ خمسہ ظاہری کہل...

394) قیامت کیا ہے ؟

Image
قیامت کیا ہے ؟ قیامت  کی اصطلاحی تعریف علامہ آلوسی رحمت اللہ علیہ نے یہ کی ہے  وہ دن جو ساری مخلوق کے مرنے اور  لوگوں کے اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونے کا ہے وہ قیامت کا دن کہلاتا ہے ۔ (روح المعانی :5/122) ۔🔅  مفتی رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے جامع الفاظ میں اِس کو یوں بیان کیا ہے   قیامت صورِ اسرافیل علیہ السلام کی اُس چیخ کا نام ہے جس سے پوری کائنات زلزلہ میں آجائے گی ، اُس ہمہ گیر زلزلہ کے ابتدائی جھٹکوں ہی سے دہشت زدہ ہوکر دودھ پلانے والی مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہو جائیں گے، اُس چیخ اور زلزلہ کی شدّت دم پدم بڑھتی چلی جائے گی جس سے تمام انسان اور جانور مرنے شروع ہو جائیں گے یہاں تک کہ زمین و آسمان میں کوئی جاندار زندہ نہ بچے گا ، زمین پھٹ پڑے گی ، پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی طرح اُڑتے پھریں گے ، ستارے اور سیارے ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں گے، آفتاب کی روشنی فنا اور پورا عالَم تاریک ہوجائے گا، آسمانوں کے پرخچے اُڑ جائیں گے اور پوری کائنات موت کی آغوش میں چلی جائے گی (علاماتِ قیامت اور نزولِ مسیح :142) ۔🔅  ...

393) ہمیں بھی برداشت کرنا ہے

Image
ہمیں بھی برداشت کرنا ہے ۔✍🏻 میں نے جب مریم علیہ السلام کا قصہ پڑھا اور مجھے اُن کی برداشت پر رشک آیا،  پھر اسے اپنے اوپر سوچا کہ اگر یہ سب میرے ساتھ ھوتا؟  تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کہ جو لوگ انکو باتیں کرتے تھے اگر میرے اوپر ھوتیں تو؟  ناقابل برداشت میں نے آسیہ علیہ السلام کا قصہ پڑھا جو کہ فرعون کی زوجیت میں تھیں، تو اُن کے صبر پر رشک آیا اگر آج ھماری کسی بہن کا شوھر انہیں کچھ کہہ دے تو آسمان بول بول کر سر پر اٹھا لیتی ھیں۔ ابراھیم علیہ السلام کی پیدائش ھی بت تراش کے گھر ھوئی، گھر سے نکالے گئے،  اپنا باپ ھی بیٹے کو جلانے کے لیے لکڑیاں اٹھا اٹھا کر لاتا تھا، لیکن امتحان میں کامیاب ھوئے تو ویران بیابان میں اکلوتی اولاد کو چھوڑا،  اللّٰہ اکبر، پھر قربانی دینے کا حکم آج کسی مرد میں ھے اتنا حوصلہ؟؟؟  کبھی نہیں۔ ایوب علیہ السلام کی بیماری، سب کچھ چلا گیا اولاد، مال، بیویاں، سب کچھ، لیکن آزمائش پر صبر کیا آج ھے کسی میں اتنا صبر؟؟؟ بالکل نہیں۔ یوسف علیہ السلام کو بچپن میں ان کے والد سے بھائیوں نے دور کر کے کنویں میں پھینکا، پھر غلام کے طور پر قیمت لگائی گئی، قی...

392) محبت رسول ﷺ کے تقاضے

Image
محبت رسول ﷺ کے تقاضے ۔⭐️اللہ رب العزت کا لاکھ احسان و ہزار ہا شکر ہے کہ اس نے اس امت میں حضرت محمد ﷺ کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور اپنی عظیم کتاب قرآن مجید آپ ﷺ پر نازل فرمائی آپ ﷺ کے ذریعے ہدایت کا نور پوری دنیا میں پھیلا آپ ﷺ نے جہاں دین متین کی زبانی تعلیم دی وہاں اس کی عملی شکل بھی اپنے اعمال مبارکہ سے بیان فرما دی یہی وجہ ہے کہ  آپ ﷺ کی زندگی کو قرآنی نمونہ قرار دیا گیا دین اسلام کی تعلیمات پر ایمان اور اس کے تقاضوں پر عمل چونکہ آپ ﷺ کے بغیر ممکن ہی نہیں اس لیے کلمہ شہادت میں جہاں اللہ تعالیٰ کے معبود ہونے کا اقرار ضروری ہے وہاں رسول اللہ ﷺ کی رسالت کو ماننا بھی لازم ہے حضرت ثمامہ بن اثالؓ اسلام لانے سے قبل جب گرفتار ہو کر آئے تو انہیں مسجد نبوی ﷺ کے ایک ستون  کے ساتھ باندھ دیا گیا کچھ دن انہوں نے آنحضرت ﷺ کے اخلاق کریمہ اور مشفقانہ سلوک کا بغور مشاہدہ کیا جب آپ ﷺ کے حکم پر انہیں رہا کیا گیا تو انہوں نے بقیع کے ایک جانب  کھجوروں کے ایک باغ میں غسل کیا اور پھر خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہو کر کلمہ شہادت یوں پڑھا أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّ...

391) نماز کے طبی فوائد

Image
نماز کے طبی فوائد نماز اَرکانِ اِسلام میں توحید و رسالت کی شہادت کے بعد سب سے بڑا رُکن ہے۔ اللہ اور اُس کے رسولﷺ نے اِسے اِیمان اور کفر کے درمیان حدِ فاصل قرار دیا ہے۔ نماز کی رُوحانی و اِیمانی برکات اپنی جگہ مسلّم ہیں، نماز سے بہتر ہلکی پھلکی اور مسلسل ورزش کا تصوّر نہیں کیا جا سکتا۔ فزیو تھراپی کے ماہر کہتے ہیں کہ اُس ورزش کا کوئی فائدہ نہیں جس میں تسلسل نہ ہو یا وہ اِتنی زیادہ کی جائے کہ جسم بری طرح تھک جائے۔ اللہ ربّ العزت نے اپنی عبادت کے طور پر وہ عمل عطا کیا کہ جس میں ورزش اور فزیو تھراپی کی غالباً تمام صورتیں بہتر صورت میں پائی جاتی ہیں ۔ ایک مؤمن کی نماز جہاں اُسے مکمل رُوحانی و جسمانی منافع کا پیکیج مہیا کرتی ہے وہاں منافقوں کی علامات میں ایک علامت اُن کی نماز میں سستی و کاہلی بھی بیان کی گئی ہے۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے وَ إِذَا قَامُوا إِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوا کُسَالٰی۔(النساء 4:142) اور جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو سُستی کے ساتھ کھڑے (ہوتے ہیں)۔ تعدیلِ اَرکان کے بغیر ڈھیلے ڈھالے طریقے پر نماز پڑھنے کا کوئی رُوحانی فائدہ ہے اور نہ طبی و جسمانی، جبکہ درُست طریقے سے نماز ...

۔ 390🌻) کم خوری اور متوازن غذا

Image
طبی تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ دل کی زیادہ تر بیماریاں معدے سے جنم لیتی ہیں۔ کوئی شخص جتنی زیادہ غذا کھاتا ہے اُتنی ہی زیادہ بیماریوں کو مول لیتا ہے جبکہ زائد کھانے سے اِجتناب دل کے اَمراض سے بچاؤ میں بہت مُمِد ثابت ہوتا ہے۔ زیادہ خوراک کھانے کی عادت اِنسانی صحت پر بری طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔  اِسی لئے اِسلام نے ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانے اور متوازن غذا کھانے کے متعلق سختی سے اَحکامات صادِر فرمائے ہیں۔ ایک وقت میں خوراک کی زیادہ مقدار کھا جانا یا ہر روز بھاری ناشتہ کرنا یا روزانہ دوپہر کا بھرپور کھانا، شام کا بھرپور کھانا، اچھی صحت کے لئے ضروری خوراک سے کافی زیادہ ہے۔ روزانہ دن میں تین وقت کا بھرپور کھانا، خاص طور پر زیادہ کیلوریز پر مشتمل خوراک اور چکنائیاں نہ صرف صحت کے لئے سخت نقصان دِہ ہیں بلکہ اَمراضِ قلب اور دُوسری بہت سی خطرناک بیماریوں مثلاً ہائی بلڈ پریشر اور شوگر وغیرہ کا سبب بھی بنتا ہے۔ قرآنِ مجید نے متوازن غذا کی عادت کو برقرار رکھنے کے لئے خوراک کے زائد اِستعمال سے دُور رہنے کی سختی سے تلقین کی ہے۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے کُلُوا وَ اشرَبُوا وَ لَا تُسرِفُوا إِنَّہٗ لَا یُ...